Slaughtering a Deer for Qurbani

· 30 Dhuʻl-Qiʻdah 1442 AH1 min readFatwa 47511English
Jurisprudence and Rulings (Fiqh)

Question

What animals can be used for Qurbani? A brother wants to fulfil his Qurbani by slaughtering a deer. Will this be valid?

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

In principle, specific animals can only be used for Qurbani. Wild animals such as deer, Kudu, Springbok etc. cannot be used for Qurbani.[1]

The following animals can only be used for Qurbani irrespective of their gender:

Camels

Cows/Bull

Goats

Sheep

Buffalo

Accordingly, the Qurbani of a deer will not be valid.

And Allah Ta’āla Knows Best

Hasan Ahmed Razzak

Student – Darul Iftaa

Paterson, New Jersey, USA

Checked and Approved by,

Mufti Ebrahim Desai

References (Arabic / Urdu sources)

[1]

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 69)

وَأَمَّا مَحَلُّ إقَامَةِ الْوَاجِبِ فَهَذَا الْفَصْلُ يَشْتَمِلُ عَلَى بَيَانِ جِنْسِ الْمَحَلِّ الَّذِي يُقَامُ مِنْهُ الْوَاجِبُ وَنَوْعِهِ وَجِنْسِهِ وَسِنِّهِ وَقَدْرِهِ وَصِفَتِهِ؛ أَمَّا جِنْسُهُ فَهُوَ أَنْ يَكُونَ مِنْ الْأَجْنَاسِ الثَّلَاثَةِ الْغَنَمِ أَوْ الْإِبِلِ أَوْ الْبَقَرِ، وَيَدْخُلُ فِي كُلِّ جِنْسٍ نَوْعُهُ وَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى مِنْهُ وَالْخَصِيُّ وَالْفَحْلُ لِانْطِلَاقِ اسْمِ الْجِنْسِ عَلَى ذَلِكَ، وَالْمَعْزُ نَوْعٌ مِنْ الْغَنَمِ، وَالْجَامُوسُ نَوْعٌ مِنْ الْبَقَرِ بِدَلِيلِ أَنَّهُ يُضَمُّ ذَلِكَ إلَى الْغَنَمِ وَالْبَقَرِ فِي بَابِ الزَّكَاةِ وَلَا يَجُوزُ فِي الْأَضَاحِيّ شَيْءٌ مِنْ الْوَحْشِ؛ لِأَنَّ وُجُوبَهَا عُرِفَ بِالشَّرْعِ وَالشَّرْعُ لَمْ يَرِدْ بِالْإِيجَابِ إلَّا فِي الْمُسْتَأْنَسِ؛ فَإِنْ كَانَ مُتَوَلِّدًا مِنْ الْوَحْشِيِّ وَالْإِنْسِيِّ فَالْعِبْرَةُ بِالْأُمِّ فَإِنْ كَانَتْ أَهْلِيَّةً يَجُوزُ وَإِلَّا فَلَا حَتَّى إنَّ الْبَقَرَةَ الْأَهْلِيَّةَ إذَا نَزَا عَلَيْهَا ثَوْرٌ وَحْشِيٌّ فَوَلَدَتْ وَلَدًا فَإِنَّهُ يَجُوزُ أَنْ يُضَحَّى بِهِ، وَإِنْ كَانَتْ الْبَقَرَةُ وَحْشِيَّةً وَالثَّوْرُ أَهْلِيًّا لَمْ يَجُزْ؛ لِأَنَّ الْأَصْلَ فِي الْوَلَدِ الْأُمُّ؛

الفتاوى السراجية ص-385

ولا يجوز بالظبي والوعل, الخيل, والحمار الوحش

فتاوی بینات ج-4 ص-570
قربانی کے جانور دو قسم ہیں، چھوٹے مثلا بکرا، بکری، بھیڑ، اور دنبہ اور بڑے مثلا گاے، بیل، بھینس، بھینسا، اونٹ،اونٹی، انہیں جانوروں کی قربانی درست ہے،۔ اس کے
علاوہ اور کسی جانور کی قربانی درست نہیں۔

فتاوی رحیمیہ ج-5 ص-388

فتاوی دار العلوم زکریا ج-7 ص-354
الجواب : قربانی اور عقیقہ کے جانو متعین ہیں ان کے علاوہ کسی دوسرے جنگلی جانور کی قربانی وعقیقہ درست نہیں ۔ قربانی کے جانور درج ذیل ہیں : اونٹ ، اونٹنی گائے بیل - بھینس ، بھینسا ۔ بکرا ، بکری ۔ بھیڑ ، دنبہ صرف انہیں جانوروں کی قربانی درست ہے ، پس ہرن کی قربانی وعقیقہ درست نہیں ۔ اور اگر کوئی جانور گلو داخل ہو تو اس کا اعتبار ہوگا اگر ماں پالتو ہے ، مثلا بکری ، گائے وغیرہ تو قربانی جائز ہے اور نہیں ۔

Answered by
Hasan Ahmed Razzak
Checked & approved by
Mufti Ebrahim Desai
Ask AskImam

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa Mahmudiyyah (AskImam). It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.