Asking The Deceased For Forgiveness After Giving Ghusl
Question
Is this practice correct. After giving ghusl, the people who carried out the ghusl ask the deceased for forgiveness if they perchance hurt the deceased while giving ghusl.
Answer
This action is alien to Shariah; therefore, it should not be adopted, practiced, nor propagated.
References (Arabic / Urdu sources)
ويكره عند القبر ما لم يعهد من السنة والمعهود منها ليس إلا زيارته والدعاء عنده قائما كذا في البحر الرائق…
الهندية ص ١٩٩ ج ١ ط: دار الفكر
سوال: ۳۹۵۹
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ جب لوگ جنازہ کو قبرستان لیکر جاتے ہیں تو کچھ لوگ میت کو دفن کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں ، جبکہ کچھ لوگ اپنے عزیز واقارب کی قبروں پر فاتحہ خوانی میں لگ جاتے ہیں اور پھر مٹی ڈالتے وقت سب حاضر ہو جاتے ہیں، تو کیا ایسا کر نادرست ہے ، یا سب کو دفن میں شریک رہنا چاہئے ، نیز دفن کے بعد میت کے عزیز واقارب میں سے کوئی ایک دفن میں مدد کرنے والوں سے میت کی طرف سے معافی مانگتا ہے کہ جس نے جو کام کیا ہو خدا کیلئے معاف کر دیں تو کیا اس طرح معافی مانگنا درست ہے جبکہ دفن کر نا تو سب کا حق ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق :
جنازہ کے ساتھ جانے والے لوگ دفن کی بھیٹر کے وقت وہاں بھیٹر لگانے کے بجاۓ اپنے عزیز واقارب کی قبروں کی زیارت میں لگ جائیں یہ بہتر اور افضل ہے ، اور بھیٹر کم ہو جاۓ تو جا کر مٹی دے کر دفن میں شریک ہو جائیں ، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ، ایک مسلمان کے جنازہ کے ساتھ چلنا اور اس کو دفن کرنا یہ دوسرے مسلمانوں پر اس مرنے والے کا حق اور اخلاقی فریضہ ہے ،لہذامیت کی طرف سے دفن میں مدد کر نیوالوں اور کام میں شریک ہونے والوں سے معافی مانگنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ ف
تاوی قاسمیہ ص ۱۱۳ ج ۱۰ط: مکتبہ اشرفیہ دیو بند الهند
- Approved by
- Mufti Muhammed Saeed Motara Saheb D.B.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Ifta, Darul Uloom Azaadville. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.