Items Of Entertainment And Their Effect On The Eligibility To Receive Zakaat
Question
Regarding the eligibility of a recipient for Zakaat, is a laptop considered as an item of necessity or not? Will it differ if it was being used for work, but now due to being unemployed, it is used for entertainment mainly and occasionally for a need?
The value of a TV and other items of entertainment are less than the value of Nisaab.
Does the owner still qualify for receiving Zakaat?
Answer
A laptop that a person uses for work purposes is considered to be an item of necessity; hence its value will not be taken into account with regard to declaring a person non-eligible to receive Zakaat. Furthermore, there will be no Zakaat due on its value as long as it was not bought for resale purposes. If it was bought for resale purposes, Zakaat will have to be discharged on it as it had become an item of trade. Even though the laptop is being used mainly for entertainment now, there will be no Zakaat payable on its value as it was not bought for resale purposes.
However, since seeing that it is no longer used for work, but primarily for entertainment, its value will be taken into account in order to assess the person’s eligibility for being a recipient of Zakaat in which case a similar rule will be applicable as mentioned in the next paragraph with regard to the TV, etc.
Items of entertainment such as TV’s, DVD players, etc. are not counted as items of necessity. Although Zakaat will not be payable on their value, their value will be taken into account when assessing the person’s eligibility to receive Zakaat. Therefore, if the value of these superfluous items amounts to the Nisaab of Zakaat (and he is not burdened by a huge debt), such a person will be deemed to be wealthy in terms of Shari’ah and not qualify as a valid recipient of Zakaat.
If this person does not possess Zakaatable wealth over and above his needs, then although possession of these superfluous items (valued at Nisaab) will not make him liable to pay Zakaat, it will however disqualify him from accepting Zakaat.
References (Arabic / Urdu sources)
وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة ” لأنها مشغولة بالحاجة الأصلية وليست بنامية أيضا وعلى هذا كتب العلم لأهلها وآلات المحترفين لما قلنا ”
(الهداية / ج ١ / ص ٩٦)
(قَوْلُهُ: فَارِغَ عَنْ حَاجَتِهِ) قَالَ فِي الْبَدَائِعِ : قَدْرُ الْحَاجَةِ هُوَ مَا ذَكَرَهُ الْكَرْخِيُّ فِي مُخْتَصَرِهِ فَقَالَ: لَا بَأْسَ أَنْ يُعْطِيَ مِنْ الزَّكَاةِ مَنْ لَهُ مَسْكَنٌ، وَمَا يَتَأَنَّتُ بِهِ فِي مَنْزِلِهِ وَخَادِمٌ وَفَرَسٌ وَسِلَاحٌ وَثِيَابُ الْبَدَنِ وَكُتُبُ الْعِلْمِ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِهِ، فَإِنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ عَنْ ذَلِكَ تَبْلُغُ قِيمَتُهُ مِائَتَيْ دِرْهَم حَرُمَ عَلَيْهِ أَخْذُ الصَّدَقَةِ لِمَا رُوِيَ عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ كَانُوا يَعْنِي : الصَّحَابَةَ يُعْطُونَ مِنْ الزَّكَاةِ لِمَنْ يَمْلِكُ عَشَرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ مِنْ السَّلَاحِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ وَالْخَدَمِ، وَهَذَا؛ لِأَنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ مِنْ الْحَوَائِجِ اللَّازِمَةِ الَّتِي لَا بُدَّ لِلْإِنْسَانِ مِنْهَا
(شامی / ج ٢ / ص ٣٤٧ – ٣٤٨)
الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية (الفتاوى الهندية / ج ۱ ص ۱۷۹)
الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب … ولأنها معدة للاستنماء بإعداد العبد فأشبه المعد بإعداد الشرع وتشترط نية التجارة ليثبت الإعداد.
(الهداية / ج 1 / ص ۱۰۳)
الْعُرُوضِ جَمْعُ عَرَضٍ بِفَتْحَتَيْنِ : حُطَامُ الدُّنْيَا، كَذَا فِي الْمُغْرِبِ وَالصَّحَاحِ وَالْعَرْضُ بِسُكُونِ الرَّاءِ الْمَتَاعُ، وَكُلُّ شَيْءٍ فَهُوَ عَرْضٌ سِوَى الدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ …. (قَوْلُهُ وَتُشْتَرَطُ نِيَّةُ التِّجَارَةِ) لِأَنَّهُ لَمَّا لَمْ تَكُنْ لِلتِّجَارَةِ خِلْقَةً فَلَا يَصِيرُ لَهَا إِلَّا بِقَصْدِهَا فِيهِ، وَذَلِكَ هُوَ نِيَّةُ التِّجَارَةِ
( فتح القدير / ج ۲ ص ۲۱۷-۲۱۸)
ولا زكاة في الجواهر واللآلئ إلا أن يتملكها بنية التجارة كسائر العروض
(مراقي الفلاح / ص ۲۷۲)
فَارِعٍ عَنْ حَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ لِأَنَّ الْمَشْغُولَ بِمَا كَالْمَعْدُومِ. وَفَسَّرَهُ ابْنُ مَلَكِ بِمَا يَدْفَعُ عَنْهُ الْهَلَاكَ تَحْقِيقًا كَثِيَابِهِ أَوْ تَقْدِيرًا كَدَيْنِهِ(الدر المختار) (قَوْلُهُ وَفَسَّرَهُ ابْنُ مَلَكَ) أَيْ فَسَّرَ الْمَشْغُولَ بِالْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ وَالْأَوْلَى فَسَّرَهَا ، وَذَلِكَ حَيْثُ قَالَ : وَهِيَ مَا يَدْفَعُ الْهَلَاكَ عَنْ الْإِنْسَانِ تَحْقِيقًا كَالنَّفَقَةِ وَدُورِ السُّكْنَى وَآلَاتِ الْحَرْبِ وَالثِيَابِ الْمُحْتَاجِ إِلَيْهَا لِدَفْعِ الْحَرِ أَوْ الْبَرْدِ أَوْ تَقْدِيرًا كَالدَّيْنِ، فَإِنَّ الْمَدْيُونَ مُحْتَاجٌ إِلَى قَضَائِهِ بِمَا فِي يَدِهِ مِنْ النِّصَابِ دَفْعًا عَنْ نَفْسِهِ الْحَبْسَ الَّذِي هُوَ كَالْهَلَاكِ وَكَالَاتِ الْحِرْفَةِ وَأَثَاتِ الْمَنْزِلِ وَدَوَاتِ الرُّكُوبِ وَكُتُبِ الْعِلْمِ لِأَهْلِهَا فَإِنَّ الْجَهْلَ عِنْدَهُمْ كَالْهَلَاكِ، فَإِذَا كَانَ لَهُ دَرَاهِمُ مُسْتَحَقَّةٌ بِصَرْفِهَا إِلَى تِلْكَ الْحَوَائِجِ صَارَتْ كَالْمَعْدُومَةِ، كَمَا أَنَّ الْمَاءَ الْمُسْتَحَقَّ بِصَرْفِهِ إِلَى الْعَطَشِ كَانَ كَالْمَعْدُومِ
(شامی / ج ٢ / ص ٢٦٢)
نیز نوکر ، حفاظت کا اسلحہ ، دینی کتب، فریج، ضرورت کے برتن، کمپیوٹر وغیرہ اشیاء حاجت اصلیہ میں داخل ہیں
( نجم الفتاوی / ج ۳ / ص ۴۹)
البتہ لہو و لعب کی چیزیں ٹی وی ، وی سی آر ، اور لغویات اگرچہ اس کے لیے اہم ہوں لیکن شرعا محرم ہیں لہذا حاجت اصلیہ میں داخل نہیں …
( نجم الفتاوی / ج ۳ / ص ۴۹)
بندہ آخر میں خلاصہ عرض کرتا ہے کہ لہو و لعب کی اشیاء مثلاً ٹی وی اور کیمرے وغیرہ تو ضرورت میں داخل نہیں ان کی تقویم کی جائے گی
( نجم الفتاوی / ج ۳ / ص ۵۱)
البتہ ٹی وی، وی سی آر جیسی فحش اور ناجئز چیزیں حاجت اصلیہ میں داخل نہیں۔
(فتاوی دار العلوم زکریا / ج ۳/ ص ۱۲۲)
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ریڈیو، ٹی وی، ٹیپ ریکارڈ حوائج اصلیہ میں داخل ہیں یا نہیں ؟ ان پر زکوۃ ادا کرنا واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: آلات لہو اور آلات عیاشی حاجات اصلیہ میں داخل نہیں ہیں البتہ ان کی قیمت میں زکوۃ فرض نہیں ہے صرف موجب غناہیں
( فتاوی فریدیہ / ج ۳۶۷/۳)
سوال: ایک شخص اصطلاحی طور پر غریب ہے لیکن اس کے پاس ٹی وی ہے اور عمومی سطح پر زندگی گزارتا ہے نیز اس کے پاس ضرورت سے زائد بہت سی اشیاء پڑی ہیں، کیا ایسا شخص مستحق زکاۃ ہے یا نہیں ؟
جواب: صورت مسئولہ اگر اس کے پاس پرانی ٹی وی ہے جو کہ بہت کم قیمت کی ہوتی ہے تو اس کے ہوتے ہوئے آدمی مالدار اور صاحب نصاب نہیں کہلاتا، ہاں اگر ٹی وی کے ساتھ اور بھی ضرورت سے زائد چیزیں ہوں اور بقدر نصاب ہوں تو پھر وہ صاحب نصاب ہے ، لیکن اس کے گھر کے دوسرے افراد تو مستحق زکاۃ ہوں گے ان کو دیدے۔
(فتاوی دار العلوم زکریا / ج ۳ / ص ۲۲۵) (۲)۔
دوسری صورت یہ کہ آدمی کے پاس مال نامی ( سونا، چاندی، نقد روپیه ، مال تجارت) تو بقدر نصاب نہ ہو لیکن مالِ غیر نامی حاجت اصلیہ سے زائد ہو یا ان سب کی مجموعی مالیت نصاب کی رقم تک پہنچی ہو۔ اس شخص کے پاس چونکہ مالِ نامی بقدر نصاب نہیں لہذاز کوۃ ادا کرنا فرض نہیں البتہ یہ شخص زکوۃ وصول نہیں کر سکتا کیونکہ یہ شرعا غنی ہے ضرورت سے زائد سامان اس کے پاس نصاب کی مالیت میں موجود ہے نیز اس پر غنی ہونے کی وجہ سے صدقہ فطر اور قربانی بھی واجب ہے۔
( نجم الفتاوی / ج۳ / ص ۵۲)
- Approved by
- Mufti Muhammed Saeed Motara Saheb D.B.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Ifta, Darul Uloom Azaadville. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.