مدرسہ کے قرضہ میں سفیر کو زکوٰۃ دینے کا حکم:
Question
ایک شخص مدرسہ کا سفیر ہے اس نے مدرسہ کے لئے کسی سے قرض لیا ہے طلبہ پر خرچ کرنے کے لئے اس کو زکوٰۃ مل گئی اب وہ اس کو قرض میں ادا کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں طلبہ کے وکیل کے قبضہ کے بعد اس کے مصارف فقراء و مساکین ہی ہیں، لہذا اس رقم کو مستحق طلبہ پر تملیکاً خرچ کرنا ضروری ہے چونکہ قرض سفیر نے لیا ہے لہذا طلبہ کی زکوٰۃ کی رقم اس میں خرچ نہیں کر سکتا، ہاں طلبہ کو زکوٰۃ کی رقم وظائف میں دے دے پھر ان سے مدرسہ کی تعلیم کھانے پینے وغیرہ کی فیس وصول کر لے پھر اس کو مدرسہ جیسے چاہے خرچ کر لے ۔ ہاں اگر کسی نے سفیر ہی کو زکوٰۃ سفیر کے لیے دی تو وہ اس کو اپنے قرض میں خرچ کر سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو ایضاح النوادر میں ہے:
ہمارے اکثر اہل فتاوی نے مہتمم کو طلبہ اور معطین دونوں کا وکیل تسلیم کیا ہے اور طلبہ کے وکیل ہونے کی وجہ سے مہتمم اور اس کے ماتحتی لوگوں کے قبضہ کرنے پر زکوٰۃ دہندگان کی زکوٰۃ اسی وقت ادا ہو جاتی ہے، حضرت اقدس مولانا خلیل احمد صاحب محدث سہارنپوری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ معطین کے حق میں اہلِ مدرسہ بیت المال کے عمال کے مثل ہیں، اور طلبہ اور آخذین کی طرف سے وکلاء ہیں، فتاوی خلیلیہ: ۱/۳۱۹، اور یہی مضمون حضرت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمه الله نے فتاوی محمودیہ میں نقل فرمایا ہے کہ جب طلبہ مہتمم کے اہتمام و انتظام اور قوانین کو تسلیم کر کے داخلہ لیا ہے تو گویا یوں کہہ دیا کہ آپ میرے وکیل ہیں ۔ فتاوی محمودیہ: ۲/۲۱۸، اور حضرت قطبِ عالم مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی قدس سرہ نے صاف اور واضح الفاظ میں مہتمم کو طلبہ کا وکیل قرار دیا ہے ۔ تذکرۃ الرشید: ۱/۱٦٤، حاشیۃ فتاوی خلیلیہ: ۱/۳۲۰، اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ کا کچھ اختلاف تھا لیکن اپنی آخری عمر میں اس فتوی سے رجوع فرما لیا ۔ امداد المفتین: جلد دوم: ۱۰۸۵، لیکن اہل مدرسہ کو صحیح مصرف میں خرچ کرنا ضروری ہوگا ۔ (ملخص از ایضاح النوادر: حصہ دوم ۵۰ ۔ ۵۳، نعیمیہ) ۔
جواہر الفتاوی میں ہے:
دینی مدارس کے مہتممین و منتظمین کے قبضہ میں اموالِ زکوٰۃ آ جانے کے بعد یہ حضرات اسے مستحق طلبہ کے کھانا، دوا وغیرہ دینے کے علاوہ دوسری ضروریات مثلاً اساتذۂ کرام اور ملازمین کی تنخواہوں، تعمیرات، کتب خانہ کی کتابیں خریدنے میں بدونِ حیلۂ تملیک کے خرچ نہیں کر سکتے، انہیں اس بات کا قطعاً اختیار نہیں ہوتا کہ مصارفِ منصوصہ کے علاوہ کسی اور مصرف میں اموالِ زکوٰۃ صرف کریں،
﴿إنما الصدقات للفقراء والمساكين﴾ الآية. (
جواہر الفتاوی: ۱/۸۱) ۔
اسی بنیاد پر تمام فقہاء کرام متفقہ طور پر لکھتے ہیں:
ما يوضع في بيت المال أربعة أنواع الأول زكاة السوائم والعشور وما أخذه العاشر من تجار المسلمين الذين يمرون عليه ومحله ما ذكرنا من المصارف (أي الفقراء والمساكين)، الهندية: ۱/۱۹۰، كذا في رد المحتار: ۲/٦۳، بدائع الصنائع: ۲/٦۸،
جس سے واضح ہوا کہ جس طرح کہ بیت المال کے اموال زکوٰۃ کو غیر مصارف میں خرچ کرنا جائز نہیں اسی طرح دینی مدارس کے زکوٰۃ فنڈ کو بھی غیر مصارف زکوٰۃ میں خرچ کرنے کی اجازت نہ ہو گی، البتہ حیلۂ تملیک کے بعد مدرسہ کی دوسری ضروریات پر خرچ کرنے کی اجازت ہو جائے گی ۔ (جواہر الفتاوی: ۱/۸۱ ۔ ۸۳، اسلامی کتب خانہ کراچی) ۔
جدید فقہی مباحث میں ہے:
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ کی رائے یہ ہے کہ مہتمم کو طلبہ کا وکیل فرض اور تسلیم کیے جانے کی صورت میں بھی اس زکوٰۃ کی رقم مدرسین تنخواہ اور مدرسہ کی دیگر ضروریات میں خرچ کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ طلبہ کے خورد و نوش، لباس اور ان کی خاص ضروریات پر ہی خرچ کر سکتا ہے ۔ (جدید فقہی مباحث: ۵/۱٦۰، مصرفِ زکوٰۃ، ادارۃ القرآن) ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.