دادی کے دوسرے شوہر کے ساتھ سفر حج کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #246Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۱): حج کی فرضیت، شرائط، ارکان وغیرہ کا بیان

Question

ایک عورت اپنی دادی کے دوسرے شوہر کے ساتھ سفر حج پر جا سکتی ہے یا نہیں؟ جب کہ یہ شخص اس عورت کا حقیقی دادا نہیں ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں دوسرے شوہر کی اس کی دادی سے شادی اور ہم بستری کرنے سے حرمت علی التابید ثابت ہو جاتی ہے، لہذا سفر حج پر جانا درست ہے، کیوں کہ یہ عورت اس شخص کی پوتی کے درجہ میں ہو گئی ۔
بدائع الصنائع میں ہے:

وأما الفرقة الثانية فبنت الزوجة وبناتها وبنات بناتها وبنيها وإن سفلن، وأما بنت زوجته فتحرم عليه بنص الكتاب العزيز، إذا كان دخل بزوجته فإن لم يكن دخل بها فلا تحرم لقوله: "وربائبكم اللاتي في حجوركم من نسائكم اللاتي دخلتم بهن" الخ، وسواء كانت بنت زوجته في حجره أو لا، عند عامة العلماء.
وأما بنات بنات الربيبة وبنات أبنائها وإن سفلن فتثبت حرمتهن بالإجماع وبما ذكرنا من المعنى المعقول، لا بعين النص، إلا على قول من يري الجمع بين الحقيقة والمجاز في لفظ واحد عند إمكان العمل بهما. (بدائع الصنائع ۲/۲۵۹، النوع الثاني في المحرمات بالمصاهرة، سعيد).

شامی میں ہے:

ويدخل أي في قوله وبنت زوجته بنات الربيبة والربيب وثبتت حرمتهن بالإجماع، وقوله تعالى: وربائبكم، بحر. (شامي: ۳/۳۱، سعيد).

لیکن عورت محرم سے مطمئن نہ ہو تو سفر کرنا جائز نہیں ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

ولهذا قالوا: إن المحرم إذا لم يكن مأموناً عليه لم يجز لها أن تسافر معه. (بدائع الصنائع: ۲/۱۲٤، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.