عمر رسیدہ خاتون کا بغیر محرم کے سفر حج کرنے کا حکم:
Question
ایک عورت کی عمر تقریباً ۷۵ سال ہے، حج کی رقم اس کے پاس موجود ہے لیکن اس کا کوئی محرم نہیں، وہ حج پر ایسے قافلہ کے ساتھ جانا چاہتی ہے جس میں کافی ساری خواتین موجود ہیں، اس قافلہ میں اس کا ایک چچا زاد بھائی بھی ہے، اس کو حج کا بے انتہا شوق ہے، کیا یہ حنفی عورت حج پر جا سکتی ہے یا نہیں؟
Answer
عام طور پر فقہاء یہ تحریر فرماتے ہیں کہ بغیر محرم کے حج کا سفر کرنا جائز نہیں ہے ۔
لیکن حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله سے ایک مرتبہ دریافت کیا گیا کہ ایک ۷۵ سالہ عورت قابل اعتماد عورتوں کے قافلہ کے ساتھ حج کے لیے جا سکتی ہے یا نہیں؟
حضرت مفتی صاحب رحمه الله نے اجازت مرحمت فرمائی اور دلیل میں در مختار کی یہ عبارت پیش فرمائی:
أما العجوز التي لا تشتهي فلا بأس بمصافحتها ومس يدها إذا أمن، ومتي جاز المس جاز سفره لها، ويخلو إذا أمن عليه وعليها، وإلا لا. (الدر المختار: ٦/۳٦۸، سعيد).
فیض الباری میں ہے:
وفي كتب الحنفية عامة عدم جواز السفر إلا مع محرم قلت: ويجوز عندي مع غير محرم أيضاً بشرط الاعتماد والأمن عن الفتنة، وقد وجدت له مادة كثيرة في الأحاديث، أما في الفقه، فهو مسائل الفتن. (فيض الباري: ۲/۳۹۷).
حاشیہ میں مرتب صاحب لکھتے ہیں:
منها: أمر النبي ﷺ أبا العاص أن يرسل زينب رضي الله عنه ا مع رجل لم يكن لها محرماً، ومجيء عائشة رضي الله عنها في قصة الإفك. (حاشية فيض الباري: ۲/۳۹۷).
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالی نے ایک استفسار کے جواب میں تحریر فرمایا:
حنفی مذہب میں تو اس صورت میں بھی اجازت نہیں اور شافعی مذہب میں اگر ثقہ عورتیں ہمراہ ہوں تو اجازت ہے اور حنفی کو کسی خاص مسئلہ میں شافعی کی تقلید بوقتِ ضرورت جائز ہے، ضرورت کا فیصلہ میں نہیں کر سکتا ۔ اشرف علی ۲۳/رمضان ۱۳۵۷ھ ۔ (مجالس حکیم الامت: ص ۲۹۰، مرتب حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی) ۔
بعض حضرات نے حدیث
"لترين الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة لا تخاف الا الله" (بخاري: ۱/۵۰۷)
کی روشنی میں فتنہ نہ ہونے کی صورت میں عورت کے لیے تنہا سفر کی گنجائش بیان کی ہے ۔
نوٹ: یا در ہے کہ یہ ایک توجیہ کے مطابق ہے ورنہ اس حدیث سے استدلال اور اس کا جواب ذکر کیا جا چکا، لہذا تعارض نہ سمجھا جائے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.