طوافِ نفل کا طوافِ صدر کے قائم مقام ہونے کا حکم:
Question
اگر کسی نے طوافِ زیارت کے بعد طوافِ نفل کیا تو طوافِ وداع کے قائم مقام ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں طوافِ زیارت کے بعد کیا جانے والا نفل طواف طوافِ وداع کے قائم مقام ہے ۔
ملاحظہ ہو غنیۃ الناسک میں ہے:
والشرط أصل النية لا التعيين حتى لو طاف بعد طواف الزيارة لا يعين شيئاً أو نوى تطوعاً كان للصدر لأن الوقت تعين له، بدائع. (غنية الناسك في بغية المناسك: ۱۰۱، إدارة القرآن).
بدائع الصنائع میں ہے:
فأما تعيين النية فليس بشرط حتى لو طاف بعد طواف الزيارة لا يعين شيئاً أو نوى تطوعاً كان للصدر، لأن الوقت تعين له فتنصرف مطلق النية إليه كما في صوم رمضان. (بدائع الصنائع: ۲/۲۱٦، سعيد).
زبدۃ المناسک میں ہے:
مسئلہ: اس طواف میں اگر صدر کی نیت نہ کی تب بھی جائز ہو جائے گا، پس اگر کسی نے طوافِ زیارت کے بعد نفلی طواف کر لیا ہو اور چلتے وقت طواف نہ کیا تو بھی ادا ہو گیا ۔ (زبدۃ المناسک مع عمدۃ السالک: ۲۲۸، مکتبہ اشرفیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.