بحری جہاز سے جدہ آنے والوں کے لیے احرام کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص ہندوستان یا پاکستان سے بحری جہاز کے ذریعہ جدہ آتا ہے جب کہ یلملم دور ایک کنارہ پر بغیر حقیقی محاذات کے رہ جاتا ہے، تو کیا یہ شخص جدہ سے احرام باندھ سکتا ہے؟
Answer
اس مسئلہ میں ہمارے اکابر رحمه الله کا کچھ اختلاف ہے، حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله کی تحقیق یہ ہے کہ جدہ تک احرام مؤخر کر سکتا ہے، لیکن حضرت مولانا یوسف بنوری رحمه الله فرماتے تھے کہ جدہ تک احرام مؤخر کرنا جائز نہیں ہے، بایں ہمہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ احوط یہ ہے کہ یلملم کی محاذات سے قبل ہی احرام باندھ لیا جائے ۔
ملاحظہ ہو جواہر الفقہ میں ہے:
ایسے حالات میں کہ اس مسئلہ میں علماء کا اختلافِ رائے ہے، احتیاط اسی میں ہے کہ بحری جہاز میں یلملم ہی سے احرام باندھ لیں، یا ساحلِ جدہ پر اترنے سے پہلے احرام باندھ لیں، کیوں کہ حسب تصریحِ فقہاء محلِ اختلاف میں احتیاط کا پہلو اختیار کرنا بہتر ہے، تاکہ اپنی عبادت کے جواز میں کسی کا اختلاف نہ رہے، اس کے علاوہ احرام کو میقات سے پہلے باندھنا سب ہی کے نزدیک افضل ہے، بلکہ بعض روایاتِ حدیث میں اپنے گھر سے ہی احرام باندھ کر چلنے کی فضیلت آئی ہے، شرط یہ ہے کہ محظوراتِ احرام میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو اور جس کو یہ خطرہ ہو کہ محظوراتِ احرام سے بچنا اس تمام عرصہ میں اس کے لیے مشکل ہوگا، اس کے لیے آخری حد تک مؤخر کرنا بہتر ہے، ایسے شخص کو آخری حد میں اتنی احتیاط کر لینا چاہیے کہ اس کا احرام علماء کے اختلاف سے نکل جائے ۔ (جواہر الفقہ: ۱/۴۸۹، مواقیت احرام، دار العلوم کراچی) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
پانی کے جہاز سے جانے کے لیے جو قدیم ایام سے راستہ تھا تو یلملم کی محاذات پر پہونچ کر احرام باندھا جاتا تھا، یہی ہندوستان کے اکابر علماء فقہاء کا معمول رہا، اب بھی احوط یہی ہے، اگر چہ موجودہ اہل جغرافیہ کا قول یہ ہے کہ اب راستہ میں نہ یلملم آتا ہے اور نہ اس کی محاذات آتی ہے، بلکہ جدہ سے احرام باندھنا لازم ہے، مگر احتیاط کا تقاضا وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/۳۷۹، مبوب و مرتب) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: عمدۃ الفقہ: حصۂ چہارم، ص ۹۰ ۔ ۹۳ پاک و ہند کے حجاج کے لیے میقات کا مسئلہ، مجددیہ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ٦/٤۰۷ ۔ ٤۱۰ ۔ و احسن الفتاوی: ٤/۵٦٤ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.