دوائی سے حیض روکنے کے بعد عمرہ کر لیا پھر خون نظر آنے پر عمرہ کا حکم:
Question
ایک عورت مدینہ منورہ میں ہے اس نے ایام حیض میں چند قطرے تین دن تک دیکھے، پھر دوائی کھا کر پاک ہوئی پانچویں دن عمرہ کیا دس دن پورے ہونے سے قبل پھر خون دیکھا کیا اس کا عمرہ ہوا یا نہیں؟ دم واجب ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں چونکہ ایام عادت میں دوبارہ خون شروع ہوا، لہذا حالتِ حیض میں عمرہ شمار ہوگا، اس لیے اب دوبارہ عمرہ کرے، اگر اعادہ نہیں کیا تو دم لازم ہوگا ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
اعلم أنه لا يشترط استمرار الدم فيها بحيث لا ينقطع ساعة، لأن ذلك لا يكون إلا نادراً بل انقطاعه ساعة أو ساعتين فصاعداً غير مبطل كذا في المستصفى بحر، أي لأن العبرة لا وله وآخره. (فتاوى الشامي: ۱/۲۸٤، باب الحيض، سعيد).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر کسی حیض والی عورت کا خون کسی دوا سے یا بغیر دوا کے منقطع ہو گیا یا پوری طرح منقطع نہیں ہوا پس اس نے غسل کیا یا نہیں، اور طواف کیا پھر اس کا خون عادت کے دنوں میں دوبارہ شروع ہو گیا، تو اس کا طواف حالتِ حیض میں شمار ہوگا، یعنی دوا سے کوئی فرق نہ ہوگا دم متوال کے حکم میں ہو کر عمرہ حیض میں شمار ہوگا ۔ (مستفاد از عمدۃ الفقہ: ٤/۵۲٦، مجددیہ) ۔
مزید ملاحظہ ہو:
الفتاوى الهندية: ۱/۲٤۷. والدر المختار مع الشامي: ۲/۵۵۱، سعيد. والبحر الرائق: ۳/۲۲، كوئته.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.