ہیرے جواہرات پر زکوٰۃ کے بارے میں دوسرا قول:

5 min readFatwa Vol 3 #469Urdu
Vol. 3زكوة، صوم، حج اور نكاح سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

ہیرے جواہرات پر زکوٰۃ کے بارے میں دوسرا قول:

Answer

"نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے" میں مرقوم ہے کہ "مجمع الفقہ الاسلامی کے سیمینار میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ اس صورت میں لاکھوں لاکھ کی نقد رقم ہیرے جواہرات کی صورت میں ان کے پاس محفوظ ہو جاتی ہے جو کسی بھی وقت نقد کی صورت میں منتقل ہو سکتی ہے، بحث کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک جہت تو یہ ہے کہ ہیرے جواہرات، سونا چاندی نہیں ہیں جو خلقۃً مالِ نامی تسلیم کیے گئے ہیں، اور اس شخص کا کام ہیرے جواہرات کی تجارت بھی نہیں ہے اور نہ فوری طور پر خریدتے وقت باضابطہ تجارت کی نیت کی گئی ہے تاکہ بسبب مال تجارت ہونے کے اسے نامی قرار دیا جائے، اس جہت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہو۔
دوسری جہت یہ ہے کہ ہیرے جواہرات ضروریاتِ زندگی میں داخل نہیں اور اصحابِ سرمایہ اپنے خاص مصالح کے لیے اپنے روپیوں کو جن کی مقدار غیر معمولی حد تک زائد، ہیروں اور جواہرات کی صورت میں محفوظ کر کے مختلف فوائد بھی حاصل کرتے ہیں، اور انھیں اس طرح اس کا اطمینان بھی رہتا ہے کہ ان ہیروں اور جواہرات کی صورت میں گویا "زر نقد" ہر دم ان کے پاس محفوظ ہے اور اس کے نتیجہ میں فقراء کو شدید نقصان ہوتا ہے کہ نقد رقوم میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے جو عام حالات میں ہیرے جواہرات کی صورت میں عام اصول کے پیش نظر واجب نہیں ہوتی۔
سیمینار میں شریک علماء و اصحابِ افتاء میں سے ایک خاصی تعداد نے پہلی جہت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ رائے دی کہ اس خاص صورت میں محفوظ ہیرے جواہرات کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی۔
جب کہ دوسری بڑی تعداد ان علماء و اصحابِ افتاء کی تھی جنھوں نے دوسری جہت کو سامنے رکھتے ہوئے اس خاص صورت میں ذخیرہ کیے ہوئے ہیرے جواہرات کو حکماً مالِ تجارت تسلیم کیا اور اس پر زکوٰۃ واجب قرار دیا: وجوبِ زکوٰۃ کے قائلین حضرات کے اسماء:
(۱) مولانا مجاہد الاسلام قاسمی۔
(۲) مولانا طیب الرحمن صاحب۔ امیر شریعت آسام۔
(۳) مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب بمبئی۔
(٤) مولانا اعجاز احمد صاحب اعظمی۔
(۵) مولانا مجیب اللہ صاحب ندوی۔
(٦) مولانا شمس پیر زادہ صاحب۔
(۷) مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی۔
(۸) مولانا عبد الرحیم صاحب بھوپال۔
(۹) مولانا مفتی عبد الرحمن صاحب۔
(۱۰) مولانا زبیر احمد قاسمی۔
(۱۱) مولانا رفیق المنان صاحب۔ (تفصیلی دلائل کے لیے ان کا مقالہ ملاحظہ کیجیے: جدید فقہی مباحث: ۷/٤۹۸)۔
(۱۲) مولانا مفتی نذید احمد صاحب۔
(۱۳) مولانا محمد شعیب صاحب۔ (تفصیلی دلائل کے لیے ان کا مقالہ ملاحظہ کیجیے: جدید فقہی مباحث: ۷/٦۵۲)۔
(۱٤) مولانا عتیق احمد صاحب قاسمی وغیرہم۔
فقہ الزکاۃ میں ڈاکٹر یوسف قرضاوی صاحب نے بھی اسی طرف میلان کا اظہار فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو:

وينبغي أن يكون هذا هو حكم اللؤلؤ والياقوت والالماس وكل الأحجار الكريمة والجواهر النفيسة، فما اتخذ منها للحلية والزينة ولم يبلغ درجة الإسراف فلا زكاة فيه، وما جاوز المعتاد مجاوزة بينة فهو من الإسراف المحرم، ولا يصح أن يتمتع بالإعفاء من الزكاة وكذلك ما اتخذ بقصد الاكتناز جدير أن تجب فيه الزكاة، إذ اقتناؤه حينئذٍ حيلة للتهرب مما في المال من حق معلوم للسائل والمحروم، والنية هي الفيصل في هذا، ويدل عليها مجاوزة المعتاد. (فقه الزكاة: ۱/۳۱۰).

مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے راہِ عمل میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
ایک اہم مسئلہ جو موجودہ حالات میں پیدا ہوا ہے، یہ ہے کہ بعض حضرات اپنی دولت کی حفاظت اور ٹیکس سے بچاؤ کے لیے نقد رقم کو ہیرے جواہرات کی صورت میں تبدیل کر لیتے ہیں، اس تبدیلی کا مقصد گو تجارت نہیں ہوتا لیکن یہ روپیوں کی بدلی ہوئی صورت ہے لہذا کیا ایسے ہیرے اور جواہرات میں زکوٰۃ واجب ہو گی؟ ایک رائے یہ ہے کہ اس میں زکوٰۃ واجب نہ ہویہی اکثر اہل علم کی رائے ہے۔
دوسری رائے یہ ہے کہ چونکہ ان ہیرے اور جواہرات کا مقصود روپیہ کا محفوظ کرنا ہے نہ کہ خود ہیرے اور جواہرات کا حصول، اس لیے گویا وہ نقد رقم ہی ہے جو ایک تبدیل شدہ صورت میں موجود ہے، لہذا اس میں بھی زکوٰۃ واجب ہونی چاہیے۔ راقم الحروف کے خیال میں پہلی رائے قوی ہے اور یہ دوسری رائے زیادہ احتیاط پر مبنی ہے، اس لیے ایسے ہیرے و جواہرات جو استعمال کے لیے نہیں، بلکہ سرمایہ کی حفاظت کے لیے خرید کیے گئے ہوں ان کی زکوٰۃ ادا کر دینا بہتر ہے۔ (راہِ عمل، ص۷۹۷)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.