فقہاء کی اصطلاح "المرأة كالقاضي" کی تحقیق:

6 min readFatwa Vol 4 #41Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۳): طلاقِ ثلاثہ کا بیان

Question

فقہاء تحریر فرماتے ہیں
"المرأة كالقاضي"
اس کا کیا مطلب ہے اور اس کی کیا حدود ہیں؟

Answer

فقہاء کی یہ اصطلاح دو حیثیتوں سے استعمال ہوتی ہے، اور دونوں میں فرق ہے ۔
پہلی حیثیت: ۔
عورت کو قاضی کی طرح ظاہر کا اعتبار کرتے ہوے اپنے نفس کے متعلق حلت و حرمت کا از خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔
مثلاً شوہر نے یہ کہہ دیا کہ تجھے طلاق، طلاق، طلاق، اور کہتا ہے کہ میں نے تکرار و تاکید کا ارادہ کیا تھا، تین کا ارادہ نہیں کیا تھا، اور عورت نے خود بھی تین طلاق شوہر کی زبان سے سن رکھا ہے، اب اگر یہ معاملہ قاضی کی عدالت میں پہنچ جائے تو قاضی شوہر کی نیت کا اعتبار نہیں کرے گا بلکہ ظاہر کے موافق تین طلاق کا فیصلہ کر دے گا، اور بیوی بالکلیہ آزاد ہو جائے گی ۔
لیکن موجود ہ دور میں شرعی قاضی نہ ہونے کی بنا پر مفتی کے پاس مسئلہ آیا اور مفتی نے شوہر کی نیت کا اعتبار کرتے ہوے دیانۃً ایک طلاق کا فتویٰ دیا، یعنی شوہر کو رجعت کا اختیار حاصل ہوگا، تو اس صورت میں جس طرح ظاہر پر فیصلہ کرنا قاضی پر لازم ہے، اس طرح عورت پر بھی لازم ہے کہ ظاہری الفاظ یعنی تین طلاق کا اعتبار کرتے ہوے اپنے نفس کے متعلق فیصلہ کر لے، اور شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، بلکہ خلع کر کے آزادی حاصل کر لے یا مال دے کر طلاق حاصل کر لے، گویا عورت کے اپنے نفس کے متعلق ظاہر پر فیصلہ کرنے کو فقہاء نے "
المرأة كالقاضي"
کی اصطلاح سے تعبیر فرمایا ہے ۔
فقہاء کی عبارات حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:

وإذا قال: أنت طالق، طالق، طالق، وقال: إنما أردت به التكرار صدق ديانة لا قضاءً فإن القاضي مأمور باتباع الظاهر، والله يتولى السرائر، والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به لا نها لا تعلم إلا الظاهر. (تبيين الحقائق: ۲/۲۱۸، والفتاوى الهندية: ۱/۳۵٤).

تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:

وقال في الخانية: لو قال: أنت طالق، أنت طالق، أنت طالق، وقال: إنما أردت به التكرار صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثاً ومثله في الأشباه والحدادي وزاد الزيلعي أن المرأة كالقاضي فلا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به لا نها لا تعلم إلا الظاهر. (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۱/۳۷، دار الإشاعة العربية).

طحطاوی علی الدر میں ہے:

المدار بكون المرأة كالقاضي أن ذلك في عدم التصديق لا مطلقاً فإن خبر الواحد يعتبر عند المرأة ولا يعتبر عند القاضي لأن شأن القاضي التفريق وشأن المرأة عدم التمكين احتياطا. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۱۱۲، كوئته).

در مختار میں ہے:

المفتي يفتي بالديانة والقاضي يقضي بالظاهر. وفي الشامية: قوله المفتي يفتي بالديانة مثلاً إذا قال رجل: قلت لزوجتي أنت طالق قاصداً بذلك الإخبار كاذباً فإن المفتي يفتيه بعدم الوقوع والقاضي يحكم عليه بالوقوع لأنه يحكم بالظاهر. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۳٦۵، سعيد).

دوسری حیثیت: ۔
شوہر تین طلاق دینے کے بعد سرے سے طلاق ہی کا انکار کر دے، جب کہ بیوی نے اپنے کان سے تین طلاق سنی ہے، اور معاملہ قاضی کی عدالت میں پہنچ گیا، اور عورت کے پاس شرعی گواہ نہ ہونے کی وجہ سے قاضی نے شوہر سے حلف لے کر عدم طلاق کا فیصلہ کر دیا، اور عورت کے بیان کے مطابق مفتی نے دیانت پر فتویٰ دے دیا کہ جب عورت نے خود سن لیا ہے تو اس کو اب شوہر کے پاس رہنا اور شوہر کو اپنے اوپر قابو دینا جائز نہیں ہوگا، اور نہ شوہر کو قتل کر دینا یا خود کشی کر لینا جائز ہو سکتا ہے، بلکہ خلع کر کے یا مال دے کر طلاق حاصل کر لینا لازم ہوگا، تو قاضی کی طرح عورت کو اپنے یقین اور ظاہر کا اعتبار کرنے کا اختیار ہے ۔ اس کو فقہاء "
المرأة كالقاضي"
کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں ۔
دونوں حیثیتوں میں فرق:
دونوں شکلوں کا فرق یوں واضح ہو جاتا ہے کہ پہلی شکل میں قاضی کا فیصلہ شوہر کے مخالف ہے اور بیوی کے موافق، اور دوسری شکل میں شوہر کے موافق اور بیوی کے مخالف ہے ۔
دوسری شکل میں تمکین کی اجازت:
بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ دوسری شکل میں عورت کو کوئی راستہ نہ ملے اور شوہر جھوٹی قسم کھا کر عورت کو اپنے پاس رکھ لیتا ہے، تو عورت گنہگار نہ ہو گی بلکہ سارا گناہ شوہر پر ہوگا ۔
فقہاء کی عبارات حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
فتاوی شامی میں ہے:

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه والفتوي على أنه ليس لها قتله ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي: أنها ترفع الأمر للقاضي فإن حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله. (فتاوى الشامي: ۳/۲۵۱، باب الرجعة، سعيد).

حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله بزازیہ اور خلاصۃ الفتاوی کی بات کو پسند فرماتے تھے کی شوہر کے پاس رہے اور گناہ شوہر پر ہوگا، اور عورت کالقاضی قبل المرافعہ سمجھتے تھے ۔
خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

وفي فتاوى النسفي عن السيد الإمام أبي شجاع هكذا وفي فوائد شمس الإسلام إن لم يكن بينة ترفع إلى القاضي وتحلفه فإن حلف فالإثم عليه. (خلاصة الفتاوى: ۲/۱۲۰، المكتبة الرشيدية).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.