"سامان لے کر اپنے والدین کے گھر چلی جا" کہنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #57Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (٤): کنایاتِ طلاق کا بیان

Question

شوہر نے درج ذیل الفاظ کہے:

"Pack your things and go to your father's house, I don't want you anymore, get out.”

یعنی "چلی جا، مجھے اب ضرور ت نہیں، سامان لے کر اپنے والدین کے گھر چلی جا" لیکن وہ کہتا ہے کہ میری نیت ان الفاظ سے وقوعِ طلاق کی نہیں تھی، تو کیا طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ شوہر جب انکار کرتا ہے کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی تو طلاق واقع نہیں ہوئی، اس وجہ سے کہ یہ الفاظِ کنایہ میں سے ہے، اور کنایہ سے طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے جب نیت کرے یا مذآ کرۂ طلاق میں کہے، اگر مذآ کرۂ طلاق میں کہے تو قضاءً بغیر نیت کے طلاق واقع ہو جاتی ہے، ہاں دیانۃً فیما بینہ و بین اللہ طلاق واقع نہ ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة الحال، لا نها غير موضوعة للطلاق بل تحتمله وغيره فلا بد من التعيين أو دلالته وهي على ضربين

وبقية الكنايات إذا نوى بها كانت واحدة بائنة، وإن نوى ثلاثا كان ثلاثا

إلا أن يكون في حالة مذاكرة الطلاق فيقع بها الطلاق في القضاء، ولا يقع فيما بينه وبين الله تعالى إلا أن ينويه. (الهداية ۲/۳۷٤، باب إيقاع الطلاق. وكذا في بدائع الصنائع: ۳/۱۰٦. والشامي: ۳/۳۰۱، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.