زوجہ کی موجود گی میں طلاق بالکتابت کا حکم:

20 min readFatwa Vol 4 #74Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۵): طلاق بالکتابت کا بیان

Question

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی حاضری میں طلاق لکھ کر دے دے اور زبان سے کچھ نہ کہے تو کیا یہ طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟

Answer

تحریری طلاق زبانی طلاق کی طرح ہے بیوی حاضر ہو یا غائب بہر صورت طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ ہاں اگر کسی پر آ کراہ کیا جائے تو مکرَہ کی تحریر معتبر نہ ہو گی اور طلاق بھی واقع نہ ہو گی ۔
ملاحظہ ہو مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
تحریری طلاق کی چند صورتیں ہیں:
کتابتِ مستبینہ: یعنی کسی کاغذ، دیوار وغیرہ پر ایسی تحریر جو واضح ہو اور باقی رہنے والی ہو، اس کی دو قسمیں ہیں:
(۱) مستبینہ مرسومہ: اگر باضابطہ طلاق نامہ یا مکتوب عنوان اور مخاطب کے ساتھ لکھا گیا ہو تو اسے کتابتِ مستبینہ مرسومہ کہتے ہیں ۔
(۲) مستبینہ غیر مرسومہ: اگر یوں ہی کسی کاغذ کے ٹکڑے یا دیوار پر بیوی کی طرف اضافت کے بغیر صرف یہ لکھے کہ طلاق ہے یا طلاق دی، اور یہ تحریر بیوی کو نہ بھیجے تو یہ کتابتِ مستبینہ غیر مرسومہ ہے ۔
کتابتِ مستبینہ مرسومہ تلفظ کے قائم مقام ہے، اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔
کتابتِ مستبینہ غیر مرسومہ سے طلاق ایسی صورت میں واقع ہو گی جب کہ شوہر کہے کہ میری نیت بیوی کو طلاق دینے کی تھی ۔
کتابتِ غیر مستبینہ: جو تحریر ظاہر نہ ہو اور پڑھنے میں نہ آئے، جیسے پانی اور ہوا پر لکھنا، اس سے کسی حال میں طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۱۲۹ ۔ ۱۳۰، دفعہ ۳/۴، مسلم پرسنل لا بورڈ) ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

الكتابة على ثلاثة أوجه مستبين مرسوم أي معنون وهو يجري مجري النطق في الحاضر والغائب على ما قالوا، ومستبين غير مرسوم كالكتابة على الجدار وأوراق الأشجار وهو ليس بحجة إلا بالبينة والبيان وغير مستبين كالكتابة على الهواء والماء وهو بمنزلة كلام غير مسموع فلا يثبت به الحكم. (الفتاوى الهندية: ۶/۴۴۲، مسائل شتي).

در مختار میں ہے:

كتب الطلاق، إن مستبيناً على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقاً، ولو على نحو الماء فلا، مطلقاً، ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة.
وفي الشامية: (قوله كتب الطلاق الخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدراً ومعنوناً مثل ما يكتب إلى الغائب وغير المرسومة أن لا يكون مصدراً ومعنوناً، وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراء ته، وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراء ته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أولم ينو، ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة، وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاء ك كتابي فأنت طالق فجاء ها الكتاب فقرأ ته أولم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲۴۶، مطلب في الطلاق بالكتابة، سعيد).

ہدایہ میں ہے:

ثم الكتاب على ثلاثة مراتب: مستبين مرسوم وهو بمنزلة النطق في الغائب والحاضر على ما قالوا، ومستبين غير مرسوم كالكتابة على الجدار وأوراق الأشجار وينوي فيه لأنه بمنزلة صريح الكناية فلا بد من النية وغير مستبين كالكتابة على الهواء والماء وهو بمنزلة كلام غير مسموع فلا يثبت به الحكم. (الهداية: ۴/۷۰۵، كتاب الخنثى).
وفي الشامية: اعلم أن هذا في كتابة غير مرسومة أي غير معتادة، لما في التبيين وغيره أن الكتاب على ثلاثة مراتب: مستبين مرسوم وهو أن يكون معنوناً: أي مصدراً بالعنوان، وهو أن يكتب في صدره من فلان إلى فلان على ما جرت به العادة فهذا كالنطق فلزم حجة

الخ. (فتاوى الشامي: ۶/۷۳۷، مسائل شتي، سعيد).

بدائع الصنائع میں ہے:

وأما النوع الثاني فهو أن يكتب على قرطاس أو لوح أو أرض أو حائط كتابة مستبينة لكن لا على وجه المخاطبة امرأته طالق فيسئل عن نيته فإن قال: نويت به الطلاق وقع وإن قال: لم أنوبه الطلاق صدق في القضاء لأن الكتابة على هذا الوجه بمنزلة الكتابة لأن الإنسان قد يكتب على هذا الوجه ويريد به الطلاق وقد يكتب لتجويد الخط فلا يحمل على الطلاق إلا بالنية

وإن كتب كتابة مرسومة على طريق الخطاب والرسالة مثل أن يكتب أما بعد يا فلانة فأنت طالق أو إذا وصل كتابي إليك فأنت طالق يقع به الطلاق ولو قال: ما أردت به الطلاق أصلاً لا يصدق إلا أن يقول نويت طلاقاً من وثاق فيصدق فيما بينه وبين الله عزوجل لأن الكتابة المرسومة جارية مجري الخطاب ألا تري أن رسول الله ﷺ كان يبلغ بالخطاب مرة وبالكتاب أخري وبالرسول ثالثاً وكان التبليغ بالكتاب والرسول كالتبليغ بالخطاب فدل أن الكتابة المرسومة بمنزلة الخطاب فصار كأنه خاطبها بالطلاق عند الحضرة فقال لها: أنت طالق. (بدائع الصنائع: ۳/۱۰۹، سعيد).

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

المادة: ۶۹: ـ الكتاب كالخطاب

والحاصل أن كل كتاب يحرر على وجه المتعارف من الناس حجة على كاتبه كالنطق باللسان. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام: ۱/۶۲، دار الكتب العلمية).

(و کذا فی الفتاوی التاتارخانیۃ: ۳/۳۷۷، فی ایقاع الطلاق بالکتاب ۔ والأشباہ و النظائر: ۳/۱۲۳، مع شرح الحموی ۔ و البحر الرائق: ۸/۴۷۷، مسائل شتیٰ، کوئتہ ۔ وتبیین الحقائق: ۶/۲۱۸، مسائل شتیٰ، ملتان ۔ و تنقیح الفتاوی الحامدیہ: کتاب الدعوی) ۔
مذکورہ بالا عباراتِ فقہاء سے مجموعی طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کتابتِ مستبینہ مرسومہ نطق کے قائم مقام ہے، اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور اس میں حاضر و غائب کا کوئی فرق نہیں ہے ۔
اکابر کے فتاوی ملاحظہ فرمائیں:
الطرائف و الظرائف میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله کے استفتاء کے جواب میں حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب، مفتی دار العلوم دیوبند کی تحریر ملاحظہ فرمائیں:
عباراتِ کتب متعلقہ کتابت طلاق سے یہ ہی ظاہراً ثابت ہوتا ہے کہ حضور زوجہ فی المجلس کی صورت میں بھی طلاق مکتوب صریح و کنایہ واقع ہو جاوے گی اگر غرض ایقاع طلاق ہو نہ تجربہ خط وغیرہ، نکاح میں چونکہ سماع شہود ایجاب و قبول زوجین کو شرط کیا گیا ہے، لہذا بصورت امکان سماع مکتوب کو لغو کہا جاوے تو ممکن ہے اور طلاق میں اس کی حاجت نہیں، شامی کتاب الاقرار میں طلاق کو بھی دیگر دیون وغیرہ کے اقرار کی مثل باللسان و بالبنان دونوں طرح مساوی قرار دیا ہے: فإنہ کما یکون باللسان یکون بالبنان در مختار ۔ اور ظاہر ہے کہ اقرار بالدیون اگر بالبنان ہو اور کاتب کو اقرار ہو کہ یہ تحریر میری ہے تو لزوم دین میں تامل نہ ہوگا، اگر چہ شامی نے مسائل شتیٰ میں ایک عبارت اشباہ و نظائر سے یہ مفہوم ہونا ظاہر کیا ہے کہ ناطق حاضر میں کتابت کا اعتبار نہ ہو، مگر ظاہر اس کا یہ ہے کہ شہود مجرد تحریر و کتابت پر شہادت نہیں دے سکتے، کیوں کہ مجرد کتابت میں احتمال ہے کہ تجربہ خط وغیرہ کے لیے لکھا ہو، الغرض راجح و محقق یہ معلوم ہوتا ہے کہ حاضرہ فی المجلس کو بھی طلاق بالکتابت واقع ہوتی ہے اور جانب احتیاط بھی یہی ہے حضرت مولانا محمود حسن صاحب سلمہ و مولانا انور شاہ کی بھی یہی رائے ہے ۔ فقط و السلام راقم الحروف عزیز الرحمن عفی عنہ از دیوبند ۱۳۳۰؁ھ بروز پنج شنبہ ۔
(الطرائف و الظرائف: ۱۲ ۔ ۱۳، فائدہ فقہیہ متعلقہ بالطلاق بالکتابت) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
تحریری طلاق زبانی طلاق کی طرح ہے یعنی جو حکم زبان سے بولنے کاہے وہی حکم تحریر کا ہے ۔ البتہ حالتِ آ کراہ میں یعنی جبراً لکھوانے کی صورت میں جب تک زبان سے طلاق نہ کہے طلاق نہیں ہوتی ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۸/۳۰۹، مبوب و مرتب) ۔
مزید ملاحظہ ہو: امداد الفتاویٰ: ۲/۳۸۶ ۔ و احسن الفتاویٰ: ۵/۱۸۴ ۔
لیکن علامہ شامی رحمه الله نے ایک جگہ تحریر فرمایا ہے:
وظاهره أن المعنون من الناطق الحاضر غير معتبر. (فتاوى الشامي: ۶/۷۳۷، مسائل شتي، سعيد).

اس جزئیہ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ گونگے کی معنون طلاق حاضر کے لیے معتبر ہے اور ناطق کی مرسوم طلاق حاضر کے لیے معتبر نہیں ہے، لیکن یہاں علامہ شامی رحمه الله نے جس مفہوم مخالف کو ظاہر کہا ہے اس کے مقابلہ میں فقہاء کی صریح عبارات موجود ہیں، مفہوم مخالف کا اعتبار تب ہوگا جب کہ منطوق اس کے خلاف نہ ہو، خود علامہ شامی رحمه الله نے اس کو ظاہر یعنی قیاس کا درجہ دیا محقق نہیں بتایا، نیز علامہ رافعی رحمه الله نے علامہ شامی رحمه الله کے ظاہر کہنے پر اشکال فرمایا، چنانچہ فرماتے ہیں: (
قوله وظاهره) لم يظهر وجه ظهوره من عبارة الأشباه. (تقريرات الرافعي: ۶/۳۵۵، مسائل شتي، سعيد).

کیونکہ ممکن ہے کہ صاحب اشباہ کی عبارت کا یہ مطلب ہو کہ گونگے کی معنون طلاق کا اعتبار ہے غیر معنون کا اعتبار نہیں ہے ۔
نیز یہ علامہ شامی رحمه الله کا مسلکِ مختار نہیں ان کا مسلکِ مختار وہی ہے جو اوپر کی عبارات میں ان ہی کے حوالہ سے مذکور ہوا،
لہذا معلوم ہوا کہ طلاق بالکتابت المستبینۃ المرسومۃ طلاق صریح کے حکم میں ہے، اور جس طرح زبان سے طلاقِ صریح دینے میں بیوی کی موجود گی اور عدم موجود گی برابر ہے یعنی دونوں صورتوں میں بلاشبہ طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح طلاق بالکتابت المستبینۃ المرسومۃ بھی بہر صورت واقع ہو جائے گی، خواہ بیوی موجود ہویا غائب، اور زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کیے ہوں یا ادانہ کیے ہوں ۔
اکثر فقہاء کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ کتابت اور نطق احکام کے ثابت کرنے میں برابر ہے اگر چہ نطق و کتابت میں فرق ہے اس لیے کہ نطق کو مشبہ بہ اور کتابت کو مشبہ فرماتے ہیں، "الکتاب کالخطاب" جیسے اخرس کی کتابت اور اشارہ میں فرق ہے لیکن اثبات حکم میں دونوں برابر ہے ۔
لیکن شمس الدین قاضی زادہ نے ایک اشکال ظاہر فرمایا ہے، ملاحظہ ہو، نتائج الافکار میں ہے:

قوله وهو بمنزلة النطق في الغائب والحاضر على ما قالوا، فإنه إذا كان بمنزلة النطق في حق الحاضر أيضاً لم يكن حجة ضرورية، فينبغي أن يكون حجة في الحدود أيضاً كما كان النطق حجة فيها أيضاً فليتأمل في المخلص. (نتائج الأفكار: ۱۰/۵۲۵، مسائل شتي، دار الفكر).

یعنی جب کتابت نطق کی طرح ہے تو پھر حدود میں حجت ہونی چاہیے؟
لیکن یہ اشکال درست نہیں، کیوں کہ حدود کا ثبوت اس طریقہ پر ہوگا جو طریقہ شریعت میں وارد ہے، کتابت کا طریقہ وارد نہیں ہے، جیسے عام طور پر ایک مرتبہ کا اقرار کافی ہوتا ہے، لیکن حد زنا میں احادیث میں چار مرتبہ اقرار وارد ہے، اس لیے چار مرتبہ ضروری ہوگا ۔
نیز حدود شبہات سے ساقط ہو جاتے ہیں ۔
اگر نطق کوفی الحاضر مؤثر اور کتابت کو غیر مؤثر مان لیں تو پھر طلاق بالکتابت میں قادر علی النطق کو کتابت کے ساتھ نطق بھی کرنا چاہیے، چاہے گواہوں کے سامنے کرے یا بغیر گواہوں کے، جیسے نکاح میں تلفظ ضروری ہے، مثلاً زید نے ہندہ کو نکاح کا پیغام لکھ کر بھیجا تو قبول کرنے سے پہلے گواہوں کے سامنے اس کا پڑھنا اور پھر قبول کرنا ضروری ہے تاکہ ایجاب و قبول مکمل ہو ۔
نیز اگر کوئی شخص دربن سے جوہانسبرگ طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے تو طلاق واقع ہو جائے گی، حالانکہ اس زمانہ میں وہ تلفظ پر بذریعہ ٹیلی فون مع معرفۃ الصوت قادر ہے، پھر کیوں طلاق واقع ہوتی ہے؟
نیز وصیت میں کتابت چلتی ہے، لیکن اگر وہ نطق پر قادر ہے تو اس کو زبانی وصیت کرنا چاہیے، کتابت کا اعتبار نہیں ہونا چاہیے ۔
نیز احادیث کی اجازت بالمشافہہ کتابۃً معتبر ہے، حالانکہ تلفظ پر قادر ہے تو کتابۃً اجازت معتبر نہیں ہونا چاہیے ۔
اعلاء السنن میں ہے:

أن يكتب الشيخ مسموعه لحاضر أو غائب بخطه أو بأمره. وأما المجردة فتمنع الرواية بها، وأجازه كثيرون من المتقدمين والمتأخرين. (اعلاء السنن: ۸/۱٦۷).

بیع کے لیے شرعاً "اشتریت" کے الفاظ ہیں، حالانکہ تعاطی سے بھی بیع منعقد ہوتی ہے، جب تلفظ پر قادر ہے تو تعاطی سے بیع کیوں منعقد ہوتی ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے عبد اللہ بن جحش رضي الله عنه کو خط دیا اور فرمایا اس کو فلان جگہ سے پہلے نہ کھولو، اور وہاں جا کر پڑھو ۔ (بخاری کتاب العلم) ۔
اگر کتابت بغیر قراء ت کے حاضر میں معتبر نہیں تو یہ مکتوب غیر معتبر ہو جائے گا ۔
مدرسہ کے دفتر اہتمام کی طرف سے امتحان کا اعلان آویزاں کیا جاتا ہے، زبانی اعلان نہیں ہوتا، اگر طلبہ امتحان میں شرکت نہ کریں اور کہیں کہ آپ نے باوجود ناطق ہونے کے تحریر لکھی جو غیر معتبر ہے، لہذا یہ اعلان غیر معتبر ہے، تو ہم کیا کہیں گے؟
اگر مسجد کے بورڈ پر نماز کے ٹائم کا اعلان لگا دیا جائے اور امام وقت مقرر پر نہ آئے اور کہیں کہ تلفظ پر قدرت کے باوجود آپ کی تحریر معتبر نہیں تو ہم کیا کہیں گے؟
لہذا تحریر کو غیر معتبر ماننے سے بے شمار مسائل پیدا ہوں گے ۔
باقی جہاں فقہاء نے مکرہ کی طلاقِ مکتوب کو نہیں مانا اور صرف طلاق مکرہ میں ایسا کیا اس میں استحسان للضرورۃ یعنی دفع الظلم کا دخل ہے، تاکہ وہ ظلم سے بچے، ظلم سے بچنے کے لیے حیلہ بھی کافی ہے، جیسے ظالم کے استحلاف کے وقت ظلم سے بچنے کے لیے کوئی شخص طلاقِ ثلاثہ دے دے اور گواہ پیش کرے کہ جھوٹی قسم تھی، ہمارے آ کراہ طلاق میں بھی اعراض من التلفظ إلی الکتابۃ کو ظلم سے بچنے کا ذریعہ بنایا گیا ۔
لأن الکتابۃ أقیم مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ ولاحاجۃ ہہنا ۔ کا مطلب یہی ہے کہ عبارت کو چھوڑ کر کتابت کو اختیار کرنا کسی حاجت و مقصد کی وجہ سے ہوتا ہے، اور یہاں صرف جان چھڑانا مقصود ہے اور کوئی حاجت نہیں، لہذا اس کی جان چھوٹ گئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی، اب اگر کوئی شخص لکھتا ہے تو اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہے، بیوی کا مطالبہ مکتوب کا ہے، تاکہ آئندہ سند رہے، یا اس کو عدالت میں پیش کرنا ہوگا، یا بیوی سے خائف ہے زبانی طلاق نہیں دے سکتا، یا اس لیے کہ یہ قلم و کتابت کا زمانہ ہے ۔ صرف جان چھڑانا مقصود نہیں ہے ۔
(۲) بے شمار احکام عرف پر مبنی ہوتے ہیں، اس مسئلہ میں جیسے بیع میں عرف کا اعتبار کر لیا جائے اور آج کل کے عرف میں کتابت کا النطق ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ مضبوط ہے، اس لیے حضرت مولانا تھانوی رحمه الله، حضرت شیخ الہند رحمه الله، حضرت مفتی عزیز الرحمن رحمه الله اور حضرت انور شاہ کشمیری رحمه الله نے کتابت کو تلفظ کے برابر تسلیم کیا ۔
خصوصاً اس زمانہ میں کتابت کو غیر مؤثر تسلیم کرنا سمجھ میں نہیں آتا ۔
شرح مجلہ میں مذکور ہے:

(المادة: ۱٦۰۹): إن سند الدين الذي يكتبه الرجل أو يستكتبه ويعطيه لا خر فمضي بإمضائه أو مختوماً بختمه يعد إقراراً بالكتابة ويكون معتبراً ومرعياً كتقريره الشفاهي إذا كان مرسوماً أي إذا كان قد كتب موافقاً للرسم، والعادة والوثائق المعلمة بالقبض المسماة بالوصول هي من هذا القبيل أيضاً

(شرح المجلة: ص ۹۰۲).
(المادة: ۱٦۱۰): من كتب سنداً أو استكتبه مرسوماً على الوجه السابق وأعطاه فمضي أو مختوماً إذا أقر بأنه له ولكنه أنكر الدين الذي حواه فلا يعتبر إنكاره ويلزمه أداء ذلك الدين. (شرح المجلة: ۹۰٤).

نیز مفتی محمد اشرف صاحب "مفتی جامعہ محمودیہ اسپرنگ" فقہاء کی عبارات ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
مندرجہ بالا مسائل و عبارات سے چند امور ثابت ہوئے:
(۱) کتابت مستبینہ تلفظ کے حکم میں ہے ۔
(۲) مستبینہ مرسومہ صریح کے حکم میں ہے ۔
(۳) مستبینہ غیر مرسومہ کنایہ کے حکم میں ہے ۔
(٤) کتابت اگر معلق نہ ہو تو وہ طلاق منجز کے حکم ہے، اور لکھنے کے ساتھ ہی واقع ہو جائے گی ۔
(۵) کتابت مستبینہ کو مٹانا ایسا ہے جیسے تعلیق سے رجوع کرنا اور تعلیق سے رجوع نہیں ہو سکتا ۔
(٦) کتابت اگر ثابت ہو جائے تو وہ قضاءً معتبر ہے، شوہر کے انکار کی تصدیق نہیں کی جائے گی ۔
سابق بحث خصوصاً کتابت کے احکام سے متعلق مطلق عبارتیں، تحریر کا قضاءً معتبر ہونا، المرأۃ کالقاضی اور آج کل کے حالات و عرف کے تقاضے کے مطابق ہماری رائے یہ ہے کہ بیوی خواہ سامنے موجود ہو یا غائب ہو، ہر صورت میں کتابت اپنی شرائط و تفصیل کے ساتھ معتبر ہے ۔
آج کل کا عرف یہ ہے کہ لوگ تحریر کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، بعض دفعہ کلام کرنے کے بجائے تحریر ہی کرتے ہیں کیوں کہ وہ باقی رہتی ہے، سند بنتی ہے اور بوقتِ ضرورت کام آتی ہے خصوصاً اہم معاہدوں کے وقت تحریر کا زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے ۔ (ملخص از فتویٰ مفتی اشرف صاحب زید مجدہ، ۱٦/رجب ۱٤۲٤٤ھ مطابق ۱۳/ستمبر۲۰۰۳؁ء) ۔
نیز دار الافتاء دار العلوم کراچی سے بھی تفصیلی فتویٰ شائع ہوا ہے، اس میں بھی ثابت کیا ہے کہ بیوی کی موجود گی میں تحریری طلاق معتبر ہے ۔ اور چند مفتی حضرات کی دستخط بھی موجود ہے ۔ اور پاکستان کے دار الافتاؤں کا یہی فتویٰ ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.