طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #81Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۵): طلاق بالکتابت کا بیان

Question

ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا نہیں چاہتا تھا، لیکن بیوی نے محکمہ میں جا کر مقدمہ دائر کیا اور طلاق نامہ لکھوا کر شوہر کے سامنے دستخط کے لیے پیش کر دیا، اب اگر شوہر اس طلاق نامہ پر دستخط کر دے تو طلاق ہو گی یا نہیں؟ جب کہ بیوی کے بھائی دستخط کرنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ شوہر اگر اپنی رضا مندی سے دستخط کر دے تو طلاق واقع ہو جائے گی، لیکن اگر بیوی کے بھائی انتہائی سخت مار پٹائی یا پولیس وغیرہ کی دھمکی دے کر جبراً دستخط کروا لے اور شوہر زبان سے کچھ نہ کہے تو طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ ملاحظہ فرمائیں شامی میں ہے:

وفي البحر:

فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق. (فتاوى الشامي: ۳/۲۳٦، مطلب في الإكراه على التوكيل

، سعيد).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/٤۷۳، الطلاق بالكتابة).

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

وفي الظهيرية: رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فكتب فلانة بنت فلانة امرأته طالق، وفي الحاوي: ولم يعبر بلسانه لا تطلق. (الفتاوى التاتارخانية: ۳/۳۸۰، إيقاع الطلاق بالكتابة).

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں:
زید سسرال گیا اس کی سسرال والوں نے طلاق دینے پر مجبور کیا اور طلاق نامہ لکھ کراس پر جبراً انگوٹھا زید سے لگوا لیا لیکن زید نے زبان سے الفاظ طلاق نہیں کہے، اس صورت میں زید کی زوجہ پر طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ (ملخص از امداد المفتین: ٦۳٤، جلد دوم، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.