تفویض طلاق کی ایک صورت:
Question
ساؤتھ افریقہ میں کورٹ کا قانون ہے کہ جس طرح شوہر کو طلاق کا اختیار ہوتا ہے اسی طرح بیوی کو بھی طلاق کا اختیار ہوتا ہے، لہذا اس قانون کے مطابق کسی نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ اگر کورٹ میں بلائے اور طلاق دینے کو کہے تودے دینا لیکن شرعی طلاق کا جو اختیار مجھے ہے وہ اختیار میں تجھے نہیں دیتا ہوں، اب سوال یہ ہے کہ اس لفظ سے تفویض سمجھی جائے گی یا نہیں؟ اور عورت مطلقہ ہو گی یا نہیں؟
Answer
شریعتِ مطہرہ نے طلاق کا مکمل اختیار مرد کو دیا ہے، اگر مرد اپنا اختیار عورت کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے، شرعاً اس کو تفویض طلاق کہتے ہیں، لیکن شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کو طلاق کا کوئی اختیار نہیں، اگر چہ غیر اسلامی قوانین میں ہو، اسلامی قانون پر اس کا کوئی اثر مرتب نہ ہوگا، اسی مسئلہ کے پیش نظر بصورتِ مسئولہ جب کہ شوہر نے صرف غیر اسلامی قانون کی رعایت کرتے ہوے کہ دیا تا کہ کورٹ میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، ورنہ در حقیقت تفویض کی نیت نہیں تھی، نیز شوہر کے صریح الفاظ "شرعی طلاق کا جو اختیار مجھے ہے وہ اختیار میں تجھے نہیں دیتا ہوں" سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر نے بیوی کو طلاق کا اختیار نہیں دیا، لہذا شرعاً تفویض نہیں ہوئی اور طلاق واقع نہ ہو گی ۔
ملاحظہ فتاوی ہندیہ میں ہے:
أولياء المرأة إذا طلبوا من الزوج أن يطلقها، فقال الزوج لا بيها: ماذا تريد مني افعل ما تريد وخرج ثم طلقها أبوها، لم تطلق إن لم يرد الزوج التفويض ويكون القول قوله أنه لم يرد به التفويض، كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية: ۱/٤۰۷، فصل في المشيئة).
در مختار میں ہے:
(قال لها: اختاري أو أمرك بيدك ينوي) تفويض (الطلاق) لأنها كناية فلا يعملان بلا نية (أو طلقي نفسك فلها أن تطلق في مجلس علمها به). وفي الشامية: ثم اعلم أن اشتراط النية إنما هو فيما إذا لم يذكر النفس أوما يقوم مقامها في كلامه
قوله فلا يعملان بلا نية أي قضاءً وديانة في حالة الرضاء، أما في حالة الغضب أو المذاكرة فلا يصدق قضاءً في أنه لم ينو الطلاق
قوله طلقي نفسك هذا تفويض بالصريح ولا يحتاج إلى نية والواقع به رجعي. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۳۱۵، باب تفويض الطلاق، سعيد).
تقریرات الرافعی میں ہے:
(ثم اعلم أن اشتراط النية إنما هو) كلماتهم متفقة على اشتراط النية وذكر النفس أو ما يقوم مقامها والاكتفاء بذكر النفس عن النية تكون مخالفاً لما اتفقوا على اشتراطه فلا يعول عليه. (تقريرات الرافعي: ۳/۲۱۹، سعيد).
عالمگیری میں ہے:
ثم لا بد من النية في قوله اختاري فإن اختارت نفسها في قوله اختاري كانت واحدة بائنة
فإذا اختارت نفسها فأنكر قصد الطلاق فالقول له مع يمينه. (الفتاوى الهندية: ۱/۳۸۸، الباب الثالث في تفويض الطلاق).
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
ولو لم يرد الزوج بالأمر باليد طلاقاً فليس بشيء إلا أن يكون في حالة الغضب أوفي حالة مذاكرة الطلاق فلا يد ين في الحكم. (الفتاوى التاتارخانية: ۳/۳۲۹، تفويض الطلاق. وكذا في البحر الرائق: ۳/۳۱۱، كوئته).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.