حدیث "لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر" کی تحقیق:

2 min readFatwa Vol 1 #156Urdu
Vol. 1كتاب الحديث والآثارآیاتِ قرآنی کی تفسیر و تشریح اور تجوید سے متعلق مسائل

Question

مشہور حدیث "
لا عدوي ولا طيرة ولا هامّة ولا صفر" (صحيح البخاري: ۲/۸۵۰، مع فتح الباري: ۱۰/۱۹۵)
میں لا
عدوي
کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا جبکہ بعض امراض کا متعدی ہونا یقینی یا ظنی ہے اور خود آنحضرت ﷺ نے
"فرّ من المجذوم فرارك من الأسد"
فرمایا ہے ۔ (
صحيح البخاري: ۲/۸۵۰، مع فتح الباري: ۱۰ /۱۹۵).

Answer

شارحینِ حدیث نے اس کے بہت سارے جوابات دئیے ہیں ہمارے شیخ ابو غدہ نے موضوعاتِ صغیر کی تعلیقات میں یہ معنی بھی لکھے ہیں کہ مرض کو متعدی مت کرو جیسے
﴿لا رفث ولا فسوق﴾
کے معنی فحش کلامی اور فسوق نہ کرو لیکن یہ معنی سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ ایک صحابی نے لا
عدوي
کے بعد پوچھا کہ خارشی اونٹ بسا اوقات دوسرے اونٹوں کو خارشی بناتا ہے تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم مطلب نہیں سمجھے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ بیمار اونٹ کو تندرست کے پاس مت لاؤ بلکہ فرمایا کہ پہلے اونٹ کو کس نے بیمار اور خارش والا بنایا بہر حال لا عدوی کا آسان مطلب یہ ہے کہ اگر مرض مشکوک یا مظنون التعدی ہے تو درجۂ یقین میں اس کی تعدی نہیں اور اگر متیقن التعدی ہے تو اس کی تاثیر کی نفی ہے یعنی اگر مرض متعدی ہو جائے تو وہ خود ہوا میں اڑ کر متعدی ہونے کی تاثیر نہیں رکھتا بلکہ اس میں یہ تاثیر اللہ تعالی نے رکھی ہے جیسے
﴿وما رميت إذ رميت﴾
کے معنی یہ ہیں کہ جب آپ نے رمی کی تو اس میں آپ نے تاثیر نہیں رکھی بلکہ اللہ نے تاثیر رکھی کیونکہ جس چیز کی تاثیر بظاہر سمجھ میں نہ آنے والی ہو وہ اللہ تعالی کی طرف منسوب ہوتی ہے ۔ واللہ اعلم ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.