شوہر کے مجنون ہونے کی وجہ سے فسخِ نکاح کا حکم:

4 min readFatwa Vol 4 #121Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱۱): فسخ و تفریق کا بیان

Question

اگر کو ئی شخص پاگل ہو تو اس کی بیوی کی تفریق کی کیا صورت ہے، جب کہ عورت کو یہ بات معلوم تھی، لیکن اب عزت کا خطرہ ہے، اور اس سے خوف زدہ بھی ہے؟

Answer

اگر کسی عورت کا شوہر مجنون یا پاگل ہو، دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہو، بیوی کے حقوق کی ادائیگی کی ان کو خبر ہی نہ ہو اگر چہ عورت کو پہلے سے جنون معلوم تھا، لیکن اب شوہر کے پاس رہنا مشکل بلکہ خطرہ بھی ہے، اور نان و نفقہ کا معاملہ بھی بیوی کے لئے مشکل ہے، نیز عفت و پاک دامنی کے ساتھ زندگی بسر کرنا بیوی کے بس سے باہر ہے، تو ان تمام صورتوں میں یہ عورت شرعی قاضی کے پاس، اور اگر شرعی قاضی نہ ہو تو علماء کی جمعیت کے پاس اپنا مقدمہ دائر کر دے، جمعیت اس کے دعوی کو صحیح پا کر شوہر کے علاج کے لئے ایک سال کی مہلت دے دے، اگر ایک سال میں صحیح نہیں ہوا تو دوبارہ عورت اپنا مقدمہ اسی جمعیت کے پاس دائر کر کے جمعیت والے حضرات دونوں کے ما بین تفریق کر دے، اس کے بعد جب عدت گزر جائے تو بیوی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے ۔ (ملخص از امداد المفتین از مفتی شفیع صاحب ۲/٦۷۳) ۔
مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
شوہر کے جس جنون سے بیوی کے جسم و جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے وہ جنون موجبِ تفریق ہے، لیکن شوہر کو قاضی علاج کے لئے ایک سال کی مہلت دے گا، اس کے بعد بھی اگر افاقہ نہ ہو اور بیوی علیحدگی چاہے تو قاضی تفریق کر دے گا ۔

قال محمد: إن كان بالزوج عيب لا يمكنه الوصول إلى زوجته، فالمرأة مخيرة بعد ذلك، ينظر إن كان العيب كالجنون الحادث والبرص ونحوهما، فهو والعنة سواء فينظر حولاً، وإن كان الجنون أصلياً أو به مرض ولا يرجي برء ه فهو والجب سواء، وهي بالخيار إن شاء ت رضيت بالمقام معه، وإن شاءت رفعت الأمر إلى الحاكم حتى يفرق بينهما. (
الفتاوی الحامدیہ للعلامۃ رکن الدین ناغوری ص ۷٦ نقلاً عن المضمرات، بحوالہ: الحیلۃ الناجزۃ ص ۳۹) ۔
لیکن چونکہ جنونِ حادث کی تفسیر نہ اس جگہ لکھی ہے اور نہ کہیں دوسرے مواقع میں دستیاب ہوئی، جس کی وجہ سے اس کے مقابلہ میں مطبق کی تفسیر بھی پوری طرح واضح نہیں ہو سکتی، اور دوسرے مواقع میں جو مطبق کی تفسیر بمقابلہ غیر مطبق لکھی ہے اس کو محض قیاس سے اس جگہ جاری کرنا احتیاط کے خلاف ہے اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ اس تفسیر سے قطع نظر کر کے ہر حال میں سال بھر کی مہلت دی جاوے، اس کے بعد حکم کیا جاوے ۔ الحیلۃ الناجزۃ: ص ٦۲/٦۳ زیر عنوان: حکمِ زوجہ مفقود ۔ (ماخوذ از مجموعہ قوانین اسلامی: ۱۹۵ دفعہ ۷٦) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (
كتاب الفسخ والتفريق: ص ۱۱۳. ۱۱۵، من مولانا عبد الصمد رحماني نائب أمير الشريعة بهارواڑيسه. والحيلة الناجزة: ٤۱، ٤۸).

نیز نان و نفقہ اور دیگر اخراجات کے اسباب مہیا کرنا بیوی کے لئے مشکل ہو جاوے تب بھی تفریق ہو سکتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں: (الحیلۃ الناجزۃ: ص ٦۳ حکمِ زوجہ متعنت فی النفقہ) کما مرّ ۔
اسی طرح حقوقِ زوجیت ادا نہ کر سکتا ہو اور بیوی کے لیے عفت و پاک دامنی کی زندگی بسر کرنا مشکل ہو جاوے، بلکہ معصیت میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو تب بھی عورت مقدمہ دائر کر کے قاضی یا جمعیت المسلمین سے تفریق کرا سکتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں: (کتاب الفسخ و التفریق: ص ۷۳، و الحیلۃ الناجزۃ) کما مرّ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.