اجنبی عورت کے ساتھ نا جائز تعلقات کی بنا پر فسخ کا حکم:
Question
ایک عورت کا بیان ہے کہ اس کا شوہر اجنبی شادی شدہ عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتا ہے، اور اس کی وجہ سے گھر اور بچوں کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتا، حتی کہ اپنے فارغ اوقات کا اکثر و بیشتر حصہ اس عورت کے پاس گزارتا ہے، نیز مار پٹائی، ذہنی دباؤ اور طعن و تشنیع وغیرہ کرتا ہے، اخراجات کی پوری رقم نہیں دیتا بلکہ اکثر میرے والد صاحب خرچہ پورا کرتے ہیں، نیز بچوں کا ڈاکٹری خرچہ بھی نہیں دیا، ان تمام وجوہات کی بنا پر عورت فسخ نکاح کا مطالبہ کر سکتی ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ عورت کا بیان صحیح ثابت ہو جائے تو عورت کو طلاق کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہوگا، اور طلاق نہ ملنے کی صورت میں جمعیت العلماء کے سامنے مقدمہ پیش کر دے وہ حضرات تحقیق حال کے بعد اگر شوہر حقوق ادا نہیں کرتا اور ناجائز تعلقات سے بھی باز نہیں آتا تو نکاح فسخ کرنے کے مجاز ہوں گے ۔
ملاحظہ فرمائیں مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
اگر شوہر زوجہ کو برا بھلا کہے، گالی دے جو عورت کے لئے انتہائی تحقیر اور اذیت کا باعث ہو، شدید زد و کوب کرے تو اس کو حق تفریق حاصل ہوگا ۔
قرآن مجید میں
﴿ولا تمسكوهن ضراراً لتعتدوا، ومن يفعل ذـلك فقد ظلم نفسه﴾. (سورة البقرة: ۲۳۱).
وارد ہوا ہے، ظاہر ہے کہ ضرب شدید اور گالی گلوچ سے بڑھ کر ضرر رساں بات اور کیا ہو گی ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص: ۱۹۹، دفعہ ۸۱) ۔
نیز مذکور ہے:
اگر زوجین کے درمیان شدید نفرت پیدا ہو جائے کہ دونوں کا اللہ کے حدود کو قائم رکھتے ہوے ازدواجی زندگی گزارنا ممکن نظر نہ آئے تو ایسی صورت میں:
(الف) قاضی حکمین مقرر کرے گا، تاکہ اصلاح کی صورت نکل سکے ۔
(ب) اگر تحکیم کے باوجود اصلاح حال یا باہمی رضامندی سے علیحدگی کی کوئی صورت نہیں نکل سکے تو قاضی بر بنائے شقاق، زوجہ کے مطالبہ کی صورت میں تفریق کر دے گا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی، ص: ۲۰۰، دفعہ ۸۲) ۔
مزید دلائل مسئلہ "شقاق کی وجہ سے فسخ تفریق" کے تحت ملاحظہ فرمائیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.