فسخ و تفریق کا مفہوم اور عورت کو رشتہ نکاح ختم کرنے کا اختیار:

12 min readFatwa Vol 4 #137Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱۱): فسخ و تفریق کا بیان

Question

شریعتِ مطہرہ نے طلاق کا مکمل اختیار مرد کو دیا ہے، عورت از خود اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کی مختار نہیں ہے، لیکن کوئی ایسی شکل ہے کہ جس میں عورت کو بھی رشتہ نکاح ختم کرنے کا کوئی اختیار ہو؟ اگر ہے تو اس کو تفصیل کے ساتھ بتلا کر اجر عظیم کے مستحق ہوں؟

Answer

ازدواجی بندھن کے بعد کسی مرحلہ میں اگر زن و شو کی زندگی خوشگواری کی حد سے نکل کر ناقابل برداشت ہو جائے اور باہم مل جل کر رہنا اور زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے تو شریعت مطہرہ نے جس طرح مرد کو حق دیا ہے کہ دینی حدود کے اندر رہتے ہوے طلاق کے ذریعہ رشتہ نکاح کو ختم کر دے، اسی طرح عورت کو بھی حق حاصل ہے کہ بذریعہ خلع یا بذریعہ فسخ و تفریق ازدواجی تعلق کو ختم کر دے ۔
لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی تنبیہ کی ہے کہ خواہ مخواہ معمولی رنجش پر تفریق کرا کر اس قانون سے غلط فائدہ نہ اٹھائے، چنانچہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

"أيما امرأة اختلعت من زوجها من غير بأس لم ترح رائحة الجنة". (رواه الترمذي: ۱/۲۲٦، باب ما جاء في المختلعات).

نیز ارشاد فرمایا:

"أيما امرأة سألت زوجها طلاقاً في غير ما بأس به فحرام عليها رائحة الجنة". (رواه الترمذي: ۱/۲۲٦، باب ما جاء في المختلعات).

ترجمہ: "جو عورت اپنے شوہر سے بے وجہ اور بے محل طلاق چاہے گی تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہو گی" ۔
ہاں مجبوری اور نازک حالت میں جب کوئی دوسرا شرعی چارۂ کار نہ رہا ہو تو عورت کو فسخ و تفریق کے مطالبہ کا حق حاصل ہوگا ۔
تفریق رشتہ ازدواج کو ختم کرنے کا نام ہے ۔
تفریق کی دو قسمیں ہیں: ۔ (۱) قضائے قاضی شرط ہے ۔ (۲) قضائے قاضی شرط نہیں ہے ۔
(۱) تفریق کی وہ صورتیں جن میں قضائے قاضی شرط ہے، حسب ذیل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) نکاح کا غیر کفو میں ہونا ۔
(۲) مہر میں غیر معمولی کمی یعنی غبن فاحش کے ساتھ نکاح ہونا ۔
(۳) نابالغہ کا خیار بلوغ کو اختیار کرنا ۔
(٤) شوہر کا حقوق زوجیت ادا نہ کرنا ۔
(۵) شوہر کا وطی پر قادر نہ ہونا ۔
(٦) شوہر کا جذام، برص، ایڈس یا اس جیسے کسی موذی مرض میں مبتلا ہونا ۔
(۷) شوہر کا مجنون ہونا ۔ (۸) شوہر کا مفقود الخبر ہونا ۔ (۹) شوہر کا غائب غیر مفقود ہونا ۔
(۱۰) شوہر کا استطاعت کے باوجود نفقہ نہ دینا ۔ (۱۱) شوہر کا نفقہ ادا کرنے سے عاجز ہونا ۔
(۱۲) شوہر کا بیوی کو تکلیف دینا، سخت مار پٹائی کرنا ۔ (۱۳) زوجین میں شقاق کا پایا جانا ۔
(۱٤) مرد کا اپنی حالت کے بارے میں عورت کو دھوکے میں ڈال کر نکاح کرنا ۔
(۱۵) تفریق بسبب حرمت مصاہرت ۔ (اگر زوجین از خود متارکت اختیار کر لے، تو قضائے قاضی شرط نہیں ہے، ورنہ قضائے قاضی واجب ہے) ۔
(۱٦) تفریق بسبب فساد نکاح ۔ (اگر زوجین از خود متارکت اختیار کر لے، تو قضائے قاضی شرط نہیں ہے، ورنہ قضائے قاضی واجب ہے) ۔
(۲) تفریق کی وہ صورتیں جن میں قضائے قاضی شرط نہیں ہے، حسب ذیل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) ثبوت مصاہرت کے بعد شوہر کا متارکت اختیار کر لینا نکاح ختم کرنے کے لے کافی ہے ۔
(۲) نکاح فاسد میں زوجین میں سے کسی کا متارکت اختیار کرنا نکاح ختم کرنے کے لیے کافی ہے ۔
(٤) فرقت بسبب ایلاء ۔ (٤) فرقت بسبب ارتداد زوج ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
(مجموعہ قوانین اسلامی: ۱۸۷ ۔ ۲۰۸، قانون فسخ تفریق ۔ و کتاب الفسخ و التفریق، از مولانا عبد الصمد رحمانی نائب امیر شریعت بہار ۔ و الحیلۃ الناجزۃ: جزو دوم، دار الاشاعت، دیوبند ۔ و جدید فقہی مسائل: جلد سوم، کتب خانہ نعیمیہ ۔ و طبی اخلاقیات، از قاضی مجاہد الاسلام، ادارۃ القرآن) ۔
شرائط قضاء اور جماعت مسلمین یا جمعیت العلماء کے احکام ۔
فسخ و تفریق کی اکثر صورتوں میں قضائے قاضی شرط ہے، لیکن اگر قاضی شرعی موجود نہ ہو تو اس کے قائم مقام جمعیت العلماء یا جماعت المسلمین کا فیصلہ بھی کافی ہو جاتا ہے، لیکن کچھ شرائط و ضوابط کی پابندی لازم ہے، نیز ہر کس و نا کس قضا کی اہلیت نہیں رکھتا ہے اس کی بھی کچھ شرائط ہیں، حسب ذیل ملاحظہ فرمائیں:
منصبِ قضاء سے متعلق وضاحت: ۔
اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوے قانون کے مطابق حق کے ساتھ لوگوں کے نزاعات میں فیصلہ دینا قضاء ہے ۔
قاضی کے فیصلہ کے لیے ضروری ہے کہ اجماع کے خلاف نہ ہو ۔
قاضی کا فیصلہ خبر نہیں بلکہ انشاءِ حکم کے درجہ میں ہوگا ۔
اہلیتِ قضاء کے لیے ضروری شرطیں:
(۱) عاقل ہونا، کسی مجنون اور مختل الحواس منصب قضاء کا اہل نہیں ۔
(۲) بالغ ہونا، کسی نابالغ کی تقرری بھی درست نہیں ہے ۔
(۳) مسلمان ہونا، غیر مسلم قاضی نہیں بنایا جا سکتا، اگر قاضی غیر مسلم ہو اور فیصلہ کرے تو نافذ نہیں ہوگا ۔
(٤) آزاد ہونا ۔
(۵) بینا ہونا ۔ کسی نا بینا کو قاضی نہیں بنایا جائے گا ۔
(٦) بولنے والا ہو اخرس نہ ہو، سننے والا ہو بہرا نہ ہو ۔
(۷) حد قذف میں سزا یافتہ نہ ہو ۔
قاضی کی کچھ صفات حسب ذیل درج ہیں: ۔
صاحب علم و فضل ہو حلال و حرام اور دیگر ضروری احکام پر اس کی نگاہ ہو ۔
کتاب و سنت اور طریقہ اجتہاد سے واقف ہونا چاہیے ہونا چاہیے، تاکہ واقعات و حوادث میں اچھی طرح فیصلہ کر سکے ۔
عربی زبان، اس کی مختلف تعبیرات و محاورات اور زبان و ادب کا ضروری علم ہو ۔
جس ملک و علاقہ میں ہو اس علاقہ کی زبان، معاشرت و عرف، محاورات اور لغت سے آشنا ہو ۔
مشورہ لینے میں علماء سے عار نہ کرے ۔
صفت عدل سے متصف ہو ۔ اصطلاحِ فقہاء میں عادل وہ ہے جو گناہ کبیرہ سے اجتناب کرے، صغیرہ پر اصرار نہ کرے ۔
حسنات صغائر کے مقابلہ میں غالب ہوں ۔
محل تہمت سے بچنے والا ہو ۔
مزاج میں عجلت نہ ہو ۔
بد اخلاق نہ ہو ۔ کردار کا مضبوط، دانش مند، سمجھدار اور صالح ہو ۔
(ملخص از اسلامی عدالت، از قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمه الله ۔ و ایضاح النوادر از مفتی شبیر احمد قاسمی) ۔
جماعتِ مسلمین کی شرائط:
اس جماعت کو قاضی کے قائم مقام کرنے کے لیے چند شرائط ہیں، جس جماعت میں یہ شرطیں موجود نہ ہوں وہ شرعاً معتبر نہ ہو گی ۔
(۱) کم از کم تین آدمیوں کی جماعت ہو ایک یا دو آدمی فیصلہ کریں تو وہ معتبر نہیں ۔
(۲) اس جماعت کے سب ارکان کا عادل ہونا شرط ہے، اور عادل وہ شخص ہے جو تمام کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور صغائر پر مصر نہ ہو اور اگر کبھی کوئی گناہ سر زد ہو جاتا ہو تو فوراً توبہ کر لیتا ہو، لہذا سود خوار اور رشوت لینے والا، ڈاڑھی منڈانے والا، جھوٹ بولنے والا، اور بے نماز ی جماعت کارکن نہیں بن سکتا ۔ (اگر بد قسمتی سے کسی جگہ با اثر لوگ دیندار نہ ہوں تو یہ تدبیر کر لے جائے کہ وہ با اثر اشخاص چند دینداروں کو اختیار دے دیں تاکہ شرعاً فیصلہ کی نسبت دیندار جماعت کی طرف ہو اور ان با اثر اشخاص کو کوشش کا ثواب حاصل ہو جائے) ۔
(۳) فیصلہ میں علماء کی شرکت لازم اور شرط ہے صرف عوام کی جماعت کا فیصلہ حکم قاضی کے قائم مقام نہیں ہو سکتا اس لیے اولاً تو یہ چاہیے کہ جماعت کے سب ارکان اہل علم ہوں اور اگر یہ میسر نہ ہو تو کم از کم ایک معاملہ فہم عالم کو ضرور جماعت کارکن بنائیں اور دوسرے ارکان معاملہ کے تمام پہلوؤں کو ان عالم صاحب سے خوب سمجھ کر رائے قائم کریں، اور اگر کسی جگہ یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر یہ لازم ہے کہ جماعت کے ارکان معاملہ کی کاروائی مکمل کر کے علمائے محققین سے ہر ہر جزئی کا حکم دریافت کریں، اور جوان کا فتویٰ ہو اس کے موافق فیصلہ کیا جاوے، اگر ایسا نہ کیا بلکہ عوام نے محض اپنی رائے سے فیصلہ کر دیاتو وہ حکم نافذ نہ ہوگا اور فیصلہ بالکل بے کار و غیر معتبر رہے گا، اگر چہ وہ فیصلہ شریعت کے موافق بھی ہو ۔
(٤) چوتھی شرط یہ ہے کہ جماعت مسلمین کے سب ارکان متفقہ فیصلہ دیں اگر رائے مختلف رہے اور کثرت رائے کی بنا پر فیصلہ کرنا چاہیں تو وہ فیصلہ معتبر نہ ہوگا، پس اگر ارکان میں اختلاف رہے تو مقدمہ خارج کر دیا جائے ۔
فائدہ: اگر اختلاف رائے کی وجہ سے کسی درخواست پر تفریق کا حکم نہ ہو سکا تھا تو وہ درخواست ہمیشہ کے
لیے مسترد نہیں ہو جائے گی، بلکہ مستغیثہ کو اختیار ہوگا کہ معاملہ کی حالت بدل جاوے یا ضرورت کی شدت بڑھ جائے تو دو بارہ درخواست پیش کرے، اور دوبارہ درخواست دینے پر اگر ارکان کی رائے متفق ہو جائے تو تفریق کر دی جاوے ۔ (
"الحيلة الناجزة"
ص ۱۳۵، صورتِ قضاء قاضی در ہندوستان، دار الاشاعت، دیوبند ۔ و کذا فی اسلامی فقہ: ۲/۲٦۱) ۔
حکمین کی شرائط:
مالکیہ کے نزدیک حکمین کو تفریق کا اختیار ہے، البتہ جمہور علماء کے نزدیک ان کو یہ حق نہیں ہے ۔
فسخ و تفریق کے باب میں چونکہ حنفیہ نے مالکیہ کے قول پر فتویٰ دیا ہے، لہذا احناف کے نزدیک بھی حکمین تفریق کر سکتے ہیں، جس کی قدرے تفصیل حکمین کی شرائط کے ساتھ مسئلہ "شقاق" کے تحت گزر چکی ہے، وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔
مزید ایک عبارت ملاحظہ فرما لیں:
الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے:

والحكمان: حران مسلمان ذكران عدلان مكلفان فقيهان عالمان بالجمع والتفريق لأن التحكيم يفتقر إلى الرأي والنظر، ويجوز أن يكونا من غير أهلهما؛ والأولي أن يكونا من أهلهما؛ لأن القرابة ليست شرطاً في الحكم ولا الوكالة. وينبغي لهما أن ينويا الإصلاح لقوله تعالى: ﴿إن يريدا إصلاحاً يوفق الله بينهما﴾ وأن يلطفا القول، وأن ينصفا، ويرغبا ويخوفا، ولا يخصا بذلك أحد الزوجين دون الآخر، ليكون أقرب للتوفيق بينهما.
وينفذ عند المالكية تصرف الحكمين في أمر الزوجين بما رأياه من تطليق أو خلع، من غير إذن الزوج ولا موافقة الحاكم، بعد أن يعجز عن الإصلاح بينهما، وإذا حكما بالفراق فهي طلقة بائنة. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۷/۳٤۰. ۳٤۱، دار الفكر).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.