ٹسٹ ٹیوب بیبی کے نسب کا حکم:
Question
ہم پچھلے چھ سا ل سے شادی شدہ ہیں، مگر اولاد سے محروم ہیں، آج کل کے طریقہ علاج میں سے ایک طریقہ مصنوعی طریق حمل و تولید ہے، جس کی بہت ساری شکلیں ہیں، ان میں سے تین شکلوں سے متعلق مجھے فتویٰ درکار ہے، کہ ان تین طریقوں سے علاج کرنا اور اولاد حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اولاد ثابت النسب ہو گی یا نہیں؟ وہ شکلیں حسب ذیل درج ہیں:
(
۱
) (
Artificial Insemination)
شوہر کا مادۂ تولید انجیکشن کے ذریعہ اپنی بیوی کے رحم میں پہنچانا یہ اس لیے ہوتا ہے کہ کوئی مرد کمزوری یا کسی بیماری کے سبب اپنے مادۂ تولید کو اس مقام تک پہنچانے پر قادر نہیں ہوتا ۔
(
۲
) (In Vitro Fertilisation [ IVF ]) شوہر اور بیوی دونوں کا مادۂ تولید حاصل کرنے کے بعد رحم سے باہر ٹیوب میں مخصوص مدت تک ان کی پر ورش کی جائے پھر بیوی کے رحم میں منتقل کر دیا جائے، یہ صورت ایسی عورت کے لیے اختیار کی جاتی ہے جس کی بچہ دانی تک مادہ پہنچنے کا راستہ بند ہو گیا ہو جس کی وجہ سے استقرار حمل نہ ہوتا ہو ۔ اسی کو ٹسٹ ٹیوب بے بی (Test Tube Baby) کہتے ہیں ۔
(
۳
) (Gamete Intrafallopian Transfer [ GIFT ]) میاں بیوی کے مادۂ تولید کو باہم خلط ملط کر کے بجائے باہر ٹیوب میں رکھنے کے سیدھا بیوی کی رحم دانی میں داخل کر دیا جاتا ہے، یہ صورت صرف اس عورت کے ساتھ اختیار کی جا سکتی ہے جس کی دو بیض نالیوں (Fallopian Tube) (وہ نالیاں جو بیضۃ المنی کو رحم میں پہنچانے کا کام کرتی ہیں) میں کم از کم ایک صحیح سالم ہو ۔
Answer
مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں میاں بیوی کے مادۂ تولید کا اختلاط ہے کسی اجنبی کا نہیں ہے، لہذا اس طرح اولاد حاصل کرنا اور علاج کرانا ضرورت کے وقت جائز اور درست ہوگا، ہاں بلا ضرورت اس پر عمل کرنے سے گریز کرنا چاہیے، نیز بوقت ضرورت بھی صرف میاں بیوی کے مادہ کے اختلاط کی گنجائش ہو گی، اجنبی کا مادہ لے کر رحم میں داخل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں، اور یہ عمل مکمل ہو جائے اور بچہ پیدا ہو تو میاں بیوی سے اس بچہ کا نسب ثابت ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جدید فقہی مسائل میں تحریر فرماتے ہیں:
شوہر بیوی کے مادۂ حیات کو خلط ملط کر کے تولید عمل میں آئے، اس کی تین شکلیں ہو سکتی ہیں:
(
۱
) شوہر کا مادہ انجیکشن وغیرہ کے ذریعہ عورت کے رحم تک پہنچا دیا جائے ۔
(
۲
) شوہر و بیوی کے مادے حاصل کیے جائیں اور ٹیوب میں مخصوص مدت تک ان کی پر ورش کی جائے، پھر اسی عورت کے رحم میں منتقل کر دیا جائے ۔
(
۳
) زن و شو کا مادہ حاصل کیا جائے اور اس آمیزش کو اسی شوہر کی دوسری بیوی کے رحم میں منتقل کر دیا جائے، اس لیے کہ پہلی بیوی زچگی کی متحمل نہ ہو، یا طبی اسباب کی بنا پر تولید کی اہل نہ ہو ۔
پہلے غور کرنا چاہیے کہ کیا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟
جن فقہاء نے اس کو نا درست قرار دیا ہے ان کے سامنے تین باتیں ہیں:
(
۱
) مرد کو جلق کے ذریعہ مادہ نکالنا ہوگا اور جلق کرنا درست نہیں ہے ۔
(
۲
) مرد و عورت یا کم از کم عورت کی بے ستری ہو گی، اور شدید مجبوری کے بغیر بے ستری اطباء کے سامنے بھی درست اور جائز نہیں ہے ۔
(
۳
) یہ طریقہ خلاف فطرت ہے، اور شریعت کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ خلاف فطرت امور سے منع کرتی ہے ۔
ان اشکالات کے جوابات حسب ذیل ملاحظہ فرمائیں:
(
۱
) عام حالات میں فقہاء نے جلق کرنے سے منع کیا ہے، لیکن جہاں ضرورت دامن گیر ہو وہاں اس کی اجازت دی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں عبد الرشید طاہر بخاری لکھتے ہیں:
"إذا عالج ذكره حتى أمني
ولا يحل هذا الفعل خارج رمضان إن قصد قضاء الشهوة وإن قصد تسكين شهوة أرجو أن لا يكون عليه وبال". (خلاصة الفتاوى: ۱/۲٦۰، الفصل الثالث فيما يفسد الصوم، المكتبة الرشيدية).
جلق کی ممانعت کی اصل حکمت:
جلق میں مادۂ حیات کو ضائع کر دیا جاتا ہے، لیکن جلق کا عمل مصنوعی تولید کے لیے کیا جائے تو اس میں جوہر حیات کو کارگر و ثمر آور بنانا ہے، اس لیے یہ صورت جلق کی ممنوع صورتوں میں داخل نہیں ۔
(
۲
) شدید مجبوری کے بغیر اس میں بے پر دگی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فقہاء نے بعض ایسی صورتوں میں بھی بے ستری کو گوارا کیا ہے جو خود تو کوئی شدید مرض نہیں، لیکن امکانی طور پر شدید امراض کا باعث بن سکتا ہے، جیسا کہ اولاد سے محرومی بعض شدید امراض کا سبب بن جاتی ہے، ملاحظہ ہو علامہ سرخسی رحمه الله فرماتے ہیں:
"وقد روي عن أبي يوسف رحمه الله أنه إذا كان به هزال فاحش وقيل له إن الحقنة تزيل ما بك من الهزال فلا بأس بأن يبدئ ذلك الموضع للمحتقن وهذا صحيح فإن الهزال الفاحش نوع مرض تكون آخره الدق والسل". (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱۰/۱۵٦، كتاب الاستحسان، النظر إلى العورة).
ضرورت تو کجا بعض مرتبہ سنت یا مباح کی ادائیگی کے لیے بھی بے ستری جو کہ حرام ہے شریعت نے اجازت مرحمت فرمائی ہے، جیسے مرد کی ختنہ محض سنت ہے، اور عورت کی مباح ہے پھر بھی فقہاء نے ضرورت اور عذر کے دائرہ میں شمار فرما کر بے ستری کی اجازت دی ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ علاء الدین سمرقندی فرماتے ہیں:
"ولا يباح النظر والمس إلى ما بين السرة والركبة إلا في حالة الضرورة بأن كانت المرأة ختانة تختن النساء". (تحفة الفقهاء: ۳/۳۳٤، كتاب الاستحسان).
نیز موٹاپا نہ حاجت ہے ضرورت، لیکن فقہاء نے یہاں بھی حقنہ لگانے کی اجازت دی ہے ۔
ملاحظہ ہو خلاصۃ الفتاوی میں ہے:
"لا بأس بالحقنة لا جل السمن هكذا روي عن أبي يوسف رحمه الله". (خلاصة الفتاوى: ٤/۳٦۳، كتاب الكراهية، الفصل الخامس في الأكل، ط: المكتبة الرشيدية).
ٹسٹ ٹیوب کی مدد لا ولد کے لیے دراصل ایک ذریعہ علاج ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ فقہاء نے انسانی مسائل کو تیں خانوں ۔ ضرورت، حاجت، اور تحسین ۔ میں تقسیم کیا ہے، اور ممنوعات کو صرف اس وقت جائز رکھا ہے جب کہ ضرورت یا حاجت اس کی اجازت کا تقاضہ کرے، لیکن فقہی جزئیات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ علاج و معالجہ کے باب میں فقہاء نے ایک گو نہ زیادہ وسعت سے کام لیا ہے، اس لیے اولاد سے محروم شوہر و بیوی کے لیے اولاد کا حصول ایک فطری جذبہ اور طبعی داعیہ جس کے لیے شوہر کا مرد طبیب اور عورت کی عورت طبیبہ کے سامنے بے ستری گوارا کی جا سکتی ہے ۔
(
۳
) خلاف فطرت طریقہ ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ فطری ضرورت اور تقاضہ کی تکمیل (اولاد کا حصول) کے لیے ایسی غیر فطری صورت اختیار کرنا جس کی ممانعت پر نص وارد نہ ہو جائز ہوگا، مثلاً بچہ کی ولادت کی اصل راہ عورت کی شرمگاہ ہے، لیکن ضرورت ہو تو آپریشن کی اجازت ہے، اس لیے یہاں بھی مجبوری کے درجہ میں اس غیر فطری عمل کی اجازت ہونی چاہیے ۔
ثبوتِ نسب کا حکم:
ثبوتِ نسب کے لیے شوہر کے نطفہ سے بیوی کا حاملہ ہو جانا کافی ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ جسمانی طور پر اس کے ساتھ مباشرت کرے، لہذا بغیر وطی کے بھی استقرار حمل سے بچہ کا نسب میاں بیوی سے ثابت ہو جائے گا ۔ جس کی نظیر حسب ذیل درج ہے:
"رجل وطي جارية في ما دون الفرج فأنزل فأخذت الجارية ماء ه في شيء فاستدخلته في فرجها فعلقت، عند أبي حنيفة رحمه الله أن الولد ولده وتصير الجارية أم ولده كذا في فتاوى قاضيخان". (الفتاوى الهندية: ٤/۱۱٤، الباب الرابع عشر في دعوي النسب).
تیسری صورت کا حکم:
اگر میاں بیوی کا مادۂ منویہ شوہر کی دوسری بیوی یعنی سوکن کے رحم میں داخل کیا جائے تو بچہ کی حقیقی ماں کون ہو گی؟ اس بارے میں اہل علم کی رائیں مختلف ہیں ۔ لیکن معقول بات یہ ہے کہ حرمت نکاح وغیرہ میں دونوں کو اس مولود کے لیے حقیقی ماں کے حکم میں رکھا جائے، اور نفقہ و میراث وغیرہ کے احکام میں اس عورت کو ماں کا حکم دیا جائے جس نے حمل کی مشقت برداشت کی ہے اور مولود کو جنا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
﴿إن أمهاتهم إلا اللائي ولدنهم﴾. (سورة المجادلة: الآية: ۲).
فقہاء کے یہاں بعض ایسی نظیریں بھی موجود ہیں کہ ایک ہی بچہ کا نسب دو مردوں سے ثابت کیا گیا ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح قدوری میں ہے:
"وإذا كانت جارية بين اثنين جاء ت بولد فادعياه حتى ثبت النسب منهما". (الجوهرة النيرة: ۲/۸٤، كتاب النكاح، ط: إمدادية، ملتان. وكذا في البحر الرائق: ۳/۱۱۹، كوئته).
پہلی عورت سے نسب کا ثبوت تو اس وجہ سے کہ بیضۃ المنی اسی سے حاصل کیا گیا ہے اور بچہ کی حیثیت اس کے جزو کی ہو گی اور نسب اور اس کی حرمت کی بنا اصل میں اسی رشتہ جزئیت پر ہے، صاحب ہدایہ نے زنا کی وجہ سے حرمت مصاہرت ثابت ہونے پر بحث کرتے ہوے لکھا ہے:
"إن الوطي سبب الجزئية بواسطة الولد حتى يضاف إلى كل واحد منهما كملا". (الهداية: ۲/۳۰۹، فصل في المحرمات).
اور شوہر کی دوسری بیوی جس کے رحم میں پر ورش پائی اس سے ثبوت نسب کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جو زحمت ولادت برداشت کرے اور جس کے رحم میں بچہ پر ورش پائے ان کے لیے سب سے بڑی شہادت قرآن کریم کی یہ تعبیر ہے کہ وہ ماں کو والدہ "بچہ جننے والی" کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے پھر رحم میں بچہ اسی عورت کا جزو قرار پاتا ہے ۔
(ملخص از جدید فقہی مسائل ۵/۱۵۱ ۔ ۱٦۳، ٹسٹ ٹیوب سے تولید اور اس سے متعلق احکام) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل: ۲/۵٤۷ ۔ ۵٤۸ ۔ و جدید مسائل کا شرعی حل: ۲۰۹ ۔ ۲۱٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.