بالغہ لڑکی ماں کے ساتھ رہنے پر مصر ہو تو نفقہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #194Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱۵): نفقہ اور سکنی کا بیان

Question

اگر کو ئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے، اور اس کی بالغہ لڑکی ہو، اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، والد کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو کیا اس کا نفقہ والد کے ذمہ ہوگا جب کہ لڑکی از خود نفقہ کا انتظام نہیں کر سکتی؟

Answer

بصورتِ مسئولہ بالغہ لڑکی کا نفقہ والد کے ذمہ ہے، کیوں کہ لڑکیوں کا نفقہ شادی ہونے تک مطلقاً والد کے ذمہ ہوتا ہے، ہاں اگر لڑکی کے پاس مال ہو تو اپنے مال میں سے اپنے اوپر خرچ کرے گی ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

ونفقة الإناث واجبة على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال. كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٦۳).

فتح القدیر میں ہے:

والأولاد إما صغار وإما كبار، فالأقسام أربعة: الأول أن يكون الأب غنياً والأولاد كباراً، فإما إناث أو ذكور، فالإناث عليه نفقتهن إلى أن يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، وليس له أن يؤاجرهن في عمل ولا خدمة وإن كان لهن قدرة، وإذا طلقت وانقضت عدتها عادت نفقتها على الأب. (فتح القدير: ٤/٤۱۰، فصل في نفقة الأولاد الصغار. وكذا في الفتاوى التاتارخانية: ٤/۲٤۰، نفقة ذوي الأرحام).

فتاویٰ قاضی خان میں ہے:

ونفقة البنت البالغة في ظاهر الرواية تكون على الأب خاصة. (فتاوى قاضي خان: ۱/٤٤۷).

احسن الفتاویٰ میں ہے:
لڑکی کا نفقہ شادی تک والد پر ہے، البتہ اگر لڑکی خود مالدار ہو، یا کوئی ذریعہ معاش رکھتی ہو تو اس کا نفقہ والد پر نہیں ۔ بالغ لڑکے کا نفقہ والد پر نہیں، البتہ وہ اگر کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے کسب پر قادر نہ ہو، یا طالبِ علم ہو اور اس کا اپنا مال نہ ہو تو اس کا نفقہ والد پر ہے ۔ (احسن الفتاویٰ: ۵/٤٦۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.