حرمت خمر پر شبہات:

17 min readFatwa Vol 4 #304Urdu
Vol. 4كتاب الحدود والقصاصباب (۱): حدود اور قصاص کا بیان

Question

بعض گمراہ اور بے دین لوگ کہتے ہیں کہ شراب کی حرمت قرآن کریم میں نہیں ہے، صرف احادیث میں ہے، کیا ان کی یہ بات صحیح ہے یا نہیں؟

Answer

شراب کی حرمت قرآن میں ہے:
حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں:

يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه. الخ. (سورة المائدة)

ترجمہ: اے ایمان والو ! بلا شبہ شراب، جوا، اور بت اور جوئے کے تیر یہ سب نجس ہیں، شیطانی عمل میں سے ہیں، سو ان چیزوں سے دور رہا کرو، تاکہ تمھیں فلاح ملے، شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے آپس میں بغض اور عداوت پیدا کر دے اور اللہ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے، سو کیا تم باز آؤ گے ۔
آیاتِ مذکورہ بالا میں شراب جوئے، بت جوئے کے تیر کو نجس اور شیطانی کام بتایا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں گندی ہیں، انسانی معیشت کے لئے مناسب اور حلال نہیں ہے، اور یہ چیزیں شیطانی اعمال ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہیں، مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ شیطان اور شیطانی عمل سے دور رہیں، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، اس واسطے اللہ تعالی نے مذکورہ بالا اشیاء کو حرام فرمایا ہے ۔
حرمت خمر پر چند شبہات اور ان کے جوابات:
من جملہ شبہات کے چند حسب ذیل درج ہیں:
(۱) قرآن کریم میں کہیں حرام کا لفظ موجود نہیں ہے؟
الجواب: (۱) الزامی جواب تو یہ ہے کہ زنا کے لئے بھی لفظ حرام قرآن میں نہیں ہے، حالانکہ زنا کی حرمت کو سب تسلیم کرتے ہیں ۔
(۲) تحقیقی جواب:
تفسیر حقانی میں ہے: صاحب کشاف لکھتے ہیں کہ اس آیت میں شراب کی حرمت چند وجوہ سے مؤکد کر دی ہے: (۱) جملہ کو إنما کے ساتھ صادر کیا ۔ (۲) اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا ۔ (۳) اس کو رجس یعنی ناپاک کہا ۔ (٤) عمل شیطان فرمایا جو کہ تمام خرابیوں کا سر چشمہ ہے ۔ (۵) اس سے بچنے کا حکم دیا ۔ (٦) اس کے اجتناب میں فلاح کا واقع ہونا بیان فرمایا تو ارتکاب میں فلاح کہاں؟ (۷) اس کی علت تحریم انسان کا اپنے حواس سے معطل ہو جانا جو اس کی معاش و معاد میں مخل ہے، معاش میں تو باہمی رنجش اور عداوت کے پیدا کر دینے اور معاد میں نماز اور یادِ خدا سے غافل کر دینے سے اس کے بعد
"أطيعوا الله"
سے لے کر
"المبين"
تک اور بھی اس حکم کی تاکید کر دی ۔ اب لفظ حرام کا اطلاق اس کی حرمت کے لئے ضروری نہ تھا ۔ (تفسیر حقانی، صفحہ ۵٤، ج ٤، سورہ مائدہ پارہ ۷)
آیات الاحکام میں شیخ صابونی فرماتے ہیں:

التعبير بقوله تعالى: فاجتنبوه (المائدة، الآية: ۹۰) أبلغ في النهي والتحريم من لفظ حرم لأن معناه البعد عنه بالكلية فهو مثل قوله تعالى: ولا تقربوا الزنا. (الإسراء: ۳۲) لأن القرب منه إذا كان حراما فيكون الفعل محرما من باب أولي فقوله فاجتنبوه معناه: كونوا في جانب آخر منه وكلما كانت الحرمة شديدة جاء التعبير بلفظ الاجتناب كما قال تعالى: فاجتنبوا الرجس من الأوثان، واجتنبوا قول الزور (حج: ۳۰) ومعلوم أنه ليس هناك ذنب أعظم من الإشراك بالله. (آيات الأحكام للصابوني: مأخوذ من فتاوى الشبكة: ٤/۹۳٦).

نیز آنحضور ﷺ کی ذات بابرکت قرآن کے لئے بمنزلہ شرح و تفسیر کے تھی لہذا احادیث میں آنحضور ﷺ نے خمر کو حرام سے تعبیر فرمایا، جو قرآن کا بیان ہے، یہ بات ناممکن ہے کہ قرآن سے اباحت ماخوذ اور مترشح ہو اور رسالت مآب ﷺ اسے حرام قرار دیں، قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:
﴿وأنزلنا إليك الذكر لتبين للناس ما نزل إليهم﴾ (النحل، الآية: ٤٤).

معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
اس آیت میں ذکر سے مراد بالاتفاق قرآن کریم ہے، اور رسول اللہ ﷺ کو اس آیت میں مامور فرمایا ہے کہ آپ ﷺ قرآن کی نازل شدہ آیات کا بیان اور وضاحت لوگوں کے سامنے کر دیں اس میں اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف اور احکام کا صحیح سمجھنا رسول کریم ﷺ کے بیان پر موقوف ہے، اگر ہر انسان صرف عربی زبان اور عربی ادب سے واقف ہو کر قرآن کے احکام کو حسب منشا ء خداوندی سمجھنے پر قادر ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کو بیان و توضیح کی خدمت سپرد کرنے کے کوئی معنی نہیں رہتے ۔ (معارف القرآن: ۵/۳۳٦، سورۂ نحل: ٤٤) ۔
چنانچہ آیات مذکورہ بالا کی وضاحت و تشریح فرماتے ہوے سرور کائنات ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: "
عن أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إن الله تعالى حرم الخمر فمن أدركته هذه الآية وعنده منها شيء فلا يشرب ولا يبع قال: فاستقبل الناس بما كان عندهم منها في طريق المدينة فسفكوها. (رواه مسلم: ۲/۲۲).

حضرت ابو سعید خدری رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ شراب کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے جس کے پاس شراب ہو اور اس کو حرمت کی آیت پہنچ جائے تو وہ نہ تو شراب پیے نہ شراب کو بیچے، ابو سعید خدری رضي الله عنه نے کہا: جن لوگوں کے پاس شراب تھی وہ اس کو مدینہ کے راستے پر لائے اور بہا دیا ۔

(۲) عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه أنه سمع رسول الله ﷺ يقول عام الفتح وهو بمكة: إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام. (رواه مسلم: ۲/۲۳).
(۳) عن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إن الله حرم الخمر والميسر والكوبة

(مشكوة: ۲/۳۸٦).

حضرت عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه سے روایت ہے کہ اللہ تعالی نے شراب اور جوا اور ڈھول بجانے کو حرام قرار دیا ہے ۔

(٤)

عن ابن عمر رضي الله عنه قال خطب عمر رضي الله عنه على منبر رسول الله ﷺ فقال: إنه قد نزل تحريم الخمر

(رواه البخاري).

حضرت عبد اللہ بن عمر رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضي الله عنه نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے منبر پر خطبہ دیتے ہوے فرمایا: یقیناً خمر کی حرمت نازل ہو چکی ہے ۔
نصوصِ بالا سے شراب کی حرمت قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے ۔
ہدایہ میں شراب کی حرمت کے انکار کو کفر اور جحود فرمایا ہے:

ومن الناس من أنكر حرمة عينها

وهذا كفر لأنه جحود الكتاب فإنه سماه رجساً والرجس ما هو محرم العين وقد جاء ت السنة متواترة أن النبي ﷺ حرم الخمر وعليه انعقد الإجماع. (هداية آخرين، ٤۹۳).

دوسرا شبہ:
دوسرا شبہ یہ بتلاتے ہیں کہ بعض آیات سے خمر کی حلت معلوم ہوتی ہے ۔ مثلاً:
(۱)
﴿يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكاري حتى تعلموا ما تقولون﴾. (سورة النساء: ٤۳).
(۲) ﴿ومن ثمرات النخيل والأعناب تتخذون منه سكراً ورزقاً حسناً﴾. (سورة النحل: ٦۷).
(۳) ﴿يسئلونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير ومنافع للناس﴾. (سورة البقرة: ۲۱۹).

الجواب:
احکامِ خمر بتدریج نازل ہوے ہیں لہذا ابتدائے اسلام میں شراب حلال تھی پھر مختلف واقعات پر مختلف آیات سے بتدریج حرام ہوئی، اس وجہ سے جو آیات حلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں وہ ابتدائے اسلام پر محمول ہے، پھر نسخ واقع ہوا ۔
ملاحظہ فرمائیں علامہ ابن کثیر رحمه الله فرماتے ہیں:

وقال الإمام أحمد

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه قال: لما نزل تحريم الخمر قال اللهم بين لنا في الخمر بياناً شافياً فنزلت الآية التي في البقرة: ﴿يسئلونك عن الخمر والميسر قل فيهما إثم كبير﴾ فدعي عمر رضي الله عنه فقرء ت عليه فقال: اللهم بين لنا في الخمر بياناً شافياً فنزلت الآية التي في سورة النساء: ﴿يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكاري﴾ فدعي عمر رضي الله عنه فقرء ت عليه، فقال: اللهم بين لنا في الخمر بياناً شافياً، فنزلت الآية التي في المائدة، فدعي عمر رضي الله عنه فقرء ت عليه فلما بلغ قوله تعالى: ﴿فهل أنتم منتهون﴾ قال عمر رضي الله عنه انتهينا انتهينا. (ابن كثير: ۲/ ۱۰٤، وابن عربي: ۲/۱٦۳).

لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن مجید مین نسخ ممکن نہیں ہے، نسخ کا انکار صرف اس وجہ سے کر دیا کہ نسخ کی حقیقت اور حکمت تک ان کی رسائی نہیں ہوئی ۔
معارف القرآن میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
ایک تیسری صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ حکم دینے والے کو اول ہی سے یہ بھی معلوم تھا کہ حالات بدلیں گے اور اس وقت یہ حکم مناسب نہیں ہو گا، دوسرا حکم دینا ہو گا، یہ جانتے ہوے آج ایک حکم دے دیا اور جب اپنے علم کے مطابق حالات بدلے تو اپنی قرار داد سابق کے مطابق حکم بھی بدل دیا، اس کی مثال ایسی ہے کہ مریض کے موجود ہ حالات کو دیکھ کر حکیم یا ڈاکٹر ایک دوا تجویز کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ دو روز اس دوا کے استعمال کرنے کے بعد مریض کا حال بدلے گا، اس وقت مجھے دوسری دوا تجویز کرنا ہو گی وہ پہلے دن ایک دو ا تجویز کرتا ہے جو اس دن کے مناسب ہے دو دن کے بعد حالات بدلنے پر دوسری دوا تجویز کرتا ہے اللہ جل شانہ کے احکام مین صرف یہی آخری صورت نسخ کی ہو سکتی ہے ۔ (معارف القرآن: ۱/ ۲۸۳) ۔
تیسرا شبہ:
آیت کریمہ میں
"فاجتنبوه"
کا مطلب و منشا صرف اتنا ہے کہ پینے میں احتیاط کرو تاکہ مفاسد لازم نہ آئیں یا یہ ان کے نزدیک صرف ایک نصیحت ہے ۔
الجواب: مفسرین کا اتفاق ہے کہ
"اجتنبوه"
مکمل چھوڑنے اور دور رہنے کے معنی میں ہے، چنانچہ محقق ابن کثیر رحمه الله نے فرمایا
"فاجتنبوه" أي اتركوه. (۱/۱۰٤، وكذا في تفسير السمرقندي: ۱/٤۵۷).

امام ابو بکر جصاص رازی رحمه الله احکام القرآن میں فرماتے ہیں:

اقتضت هذه الآية تحريم الخمر من وجهين: ـ أحدهما قوله رجس لأن الرجس اسم في الشرع لما يلزم اجتنابه

والوجه الآخر قوله تعالى فاجتنبوه وذلك أمر والأمر يقتضي الإيجاب فانتظمت الآية تحريم الخمر من هذين الوجهين. (أحكام القرآن: ۲/٤٦۱).

ابن عربی رحمه الله فرماتے ہیں:
قوله تعالى: "فاجتنبوه" يريد ابعدوه، واجعلوه ناحية، وهذا أمر باجتنابها، والأمر على الوجوب لا سيما وقد علق به الفلاح. (أحكام القرآن لا بن العربي: ۲/۱٦۵).

علامہ قرطبی فرماتے ہیں:

قوله تعالى: (فاجتنبوه) يريد ابعدوه واجعلوه ناحية، فأمر الله تعالى باجتناب هذه الامور، واقترنت بصيغة الامر مع نصوص الأحاديث وإجماع الأمة فحصل الاجتناب في جهة التحريم، فبهذا حرمت الخمر، ولا خلاف بين علماء المسلمين أن سورة مائدة نزلت بتحريم الخمر، وهي مدنية من آخر ما نزل، وورود التحريم في الميتة والدم ولحم الخنزير في قوله تعالى: "قل لا أجد" وغيرها من الآي خبراً، وفي الخمر نهياً وزجراً، وهو أقوي التحريم وأوكده. (الجامع لا حكام القرآن: ٦/۱۸٦).

لسان العرب میں ہے:

جنب الشيء

واجتنبه: بعد عنه، وهذا مفهوم عدم القرب. (لسان العرب: ۱/۲۷۸).

قاموس الوحید میں ہے:
اجتنب الشيء:
بچنا، دور رہنا، پہلو تہی کرنا، کنارہ کش ہونا ۔ (قاموس الوحید: ۱/۲۸٤) ۔
نیز آیت کریمہ کے سیاق و سباق سے بھی پتا چلتا ہے کہ امر وجوب کے لئے ہے، اور تحریم مراد ہے ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: (
صفوة التفاسير: ۱/۳٦٦ وأحكام القرآن للجصاص: ۲/٤٦۱، ومعارف القرآن: ۲/۵۸۳).

چوتھا شبہ:
قرآن میں ہے:
﴿إنما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل به لغير الله﴾. (سورة البقرة، ص ۱۷۳).

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہ چیزیں حرام ہیں، اور چونکہ ان مذکورہ اشیاء میں لفظ خمر مذکور نہیں ہے اس لئے حلال ہے گویا انما حصر کے لئے ہے ۔
الجواب:
مفسرین نے بہت سارے جوابات دیے ہیں، منجملہ چند حسب ذیل درج ہیں:
(۱) انما تاکید کے لئے آتا ہے حصر کے لیے نہیں ہے ۔
(۲) یہ حصر اضافی ہے، حصر حقیقی نہیں، یعنی یہ چیزیں فقط حرام ہیں، اور سائبہ، بحیرہ، وصیلہ اور حام جن کو تم حرام سمجھتے ہو وہ حرام نہیں ہیں ۔
(۳) یہ مطلب نہیں کہ حرمت صرف ان اشیاء کے ساتھ مخصوص ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں میں حرمت اور نجاست کے علاوہ کچھ نہیں یعنی کوئی فائدہ نہیں ۔
(٤) ان چیزوں کی حرمت ان کی نجاست کی وجہ سے ہے تو دوسری چیزوں میں نجاست ہو گی تو حرمت بھی یقیناً ہو گی ۔
(۵) اس میں قصر قلب ہے یعنی تم ان چیزوں کو حلال سمجھتے ہو حالانکہ یہی چیزیں حرام ہیں ۔
شراب کی اقسام اور ان کے احکام:
ائمہ ثلاثہ کے یہاں ہر مسکر حرام اور موجب حد ہے چاہے قلیل ہو یا کثیر ۔
اور امام محمد رحمه الله حرمت میں ائمہ ثلاثہ کے موافق ہیں، لیکن وجوبِ حد میں شیخین کے ساتھ ہیں (یعنی خمر کے علاوہ میں سکر کا اعتبار ہے) ۔
شیخین کے نزدیک اشربہ کی تین قسمیں ہیں:

(۱) الخمر: ني من ماء العنب إذا غلا واشتد وقذف بالزبد.

اس کا قلیل اور کثیر حرام ہے اور اس کا پینا موجب حد ہے اگر چہ قلیل ہو ۔
(۲) انگور کا پکا ہوا عصیر جب دو ثلث سے کم اڑ جائے ۔ اور کھجور یعنی منقیٰ کی پکائی ہوئی شراب جب اس پر جھاگ چھا جائے اس کا پینا حرام ہے، اگر چہ قلیل ہو، ہاں حد سکر کے بعد حد لازم ہو گی ۔
(۳) اشربہ اربعہ مذکورہ یعنی انگور کی کچی شراب، انگور کی پکائی ہوئی شراب، کھجور کی پکائی ہوئی شراب اور منقیٰ کی شراب کے علاوہ جیسے نبیذ التمر و الزبیب مطبوخ ادنی طبخۃ اور عصیر العنب جس کے ثلثین پکانے سے اڑ گئے ہوں، اور حنطہ چاول شعیر وغیرہ کی شراب ۔
اس کا قلیل غیر مسکر مقدار پینا تقوی للعبادۃ کے لئے امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک حلال ہے اور بطور مستی و لہو لعب ناجائز ہے ۔ اور اگر سکر پیدا ہوا تو راجح قول کے مطابق حد ہے ۔ البتہ بطور تداوی جائز ہے ۔ عام حالات میں امام محمد رحمه الله کے قول پر فتویٰ ہے کہ پینا ناجائز ہے اور علاج معالجہ کے باب میں شیخین کے قول پر فتویٰ ہے، یعنی غیر مسکر مقدار جو دواؤں میں ملائی جاتی ہے حلال ہے ۔ (
هذا ملخص ما في كتب الفقه).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.