کار کے تصادم یا الٹنے پر تاوان کا حکم:
Question
اگر ڈرائیور کار یا بس چلا رہا تھا اور اس کی کوئی چیز ٹوٹ گئی یا کار یا بس الٹ گئی یا کسی دوسری کار یا بس کے ساتھ تصادم ہو گیا اور اندر بیٹھے ہوئے کچھ لوگ زخمی ہو گئے یا مر گئے اور ڈرائیور بچ گیا تو تاوان یا دیت وغیرہ لازم ہو گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر ڈرائیور نے قصداً کوئی زیادتی کی مثلاً غلط راستہ اختیار کیا اور الٹ گئی یا بہت زیادہ تیز چلا رہا تھا مثلاً ۲۰۰ سے زیادہ اسپیڈ پر یا بالکل بے پرواہی سے چلا رہا تھا تو ان تمام صورتوں میں ڈرائیور ذمہ دار ہوگا، اور اسی پر تاوان آئے گا، لیکن اگر ایسا نہیں تھا بلکہ ڈرائیور اپنی پوری ذمہ داری سے چلا رہا تھا اور ناگہانی طور پر کوئی حادثہ پیش آگیا تو ڈرائیور اس کا ذمہ دار نہیں ہے، اور اس پر کسی قسم کا تاوان نہیں آئے گا، ہاں اگر باہر کسی آدمی کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تو پھر دیت واجب ہو گی ۔
ان مسائل کو مولانا مجیب اللہ ندوی صاحب نے تفصیل سے بیان کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:
بے جان سواریوں مثلاً سائیکل موٹر، ریل ہوائی جہاز وغیرہ کا حکم یہی ہے کہ خواہ قصداً اس سے کوئی مالی نقصان پہنچے یا غفلت کی وجہ سے بغیر قصد کے اس کا تاوان سواری کے مالک سے نہیں بلکہ ڈرائیور، کنڈکٹر یا گارڈ سے لیا جائے گا، مثلاً سگنل کے بغیر گاڑی اسٹیشن پر لے آیا اور گاڑی لڑ گئی، یا کار یا بس کو ڈرائیور غلط سائڈ سے لے جا رہا تھا یا جو اسپیڈ مقرر ہے اس سے تیز چلا رہا تھا تو ان صورتوں میں اسی پر مالی نقصان کی ذمہ داری ہو گی البتہ کوئی دوسرا شخص سواری کے آگے کوئی اینٹ یا پتھر ڈال دے اور وہ اسے نہ دیکھ سکے اور حادثہ پیش آ جائے یا کوئی پیدل آدمی غلط راستہ چل رہا تھا اور اس کو موٹر سائیکل سے دھکا لگ گیا یا اچانک سواری کے سامنے کوئی لیٹ جائے تو ایسی صورت میں ڈرائیور یا مالک یا حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اگر موٹر ریل اتفاق سے لڑ جائے یا ہوائی جہاز حادثہ کا شکار ہو جائے یا کسی انسان یا بہت سے انسانوں کی جان چلی جائے تو اس جانی نقصان کی ذمہ داری ڈرائیور یا پائلٹ پر نہیں ہو گی بلکہ وہ کمپنی یا حکومت پر ہو گی اس لیے ایسے اتفاقی حادثات کی دیت (خون بہا) کی ذمہ داری فقہاء عاقلہ پر ڈالتے ہیں، ابتدائے اسلام میں اہل دیوان یعنی ایک صنف کے لوگوں کے لیے جو رجسٹر ہوتا تھا وہ سب ایک دوسرے کے عاقلہ تھے پھر اس کے بعد خاندان اور قبیلہ و برادری وغیرہ پر اس کی ذمہ داری ڈالی گئی لیکن اب یہ صورت بھی بدل گئی ہے اب کمپنی کارخانہ اور حکومت پر یہ ذمہ داری ہونی چاہیے فقہاء نے اسے قتل خطا پر محمول کیا ہے کمپنی یا کارخانہ دار یا حکومت ڈرائیور و پائلٹ کو سزا تو دے سکتی ہے لیکن ان پر دیت یعنی خون بہا کی ذمہ داری نہیں ڈال سکتی، بہرحال یہ نئے مسائل ہیں ان پر علماء کو مزید غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ (اسلامی فقہ، ۲/٦٤۲ تا ٦٤۳) ۔
مجمع الضمانات میں ہے:
لو اصطدم فارسان حران فماتا فعلى العاقلة كل واحد منهما الدية للأخرى كما في الهداية، قال في الإصلاح والإيضاح وههنا شرط مذكور في الفتاوى الظهيرية وهو أن يقع كل واحد منهما على قفاه
وشرط آخر مذكور في المحيط وهو أن لا يكونا عامدين في ذلك الاصطدام فإنهما لوكانا عامدين فيه ضمن كل نصف الدية للآخر
ولو اصطدم دابتان فعطبت إحداهما ولكل منهما سائق فضمان التي عطبت على الآخر، من قاضيخان. (مجمع الضمانات: ۱/٤۲۳، الفصل الخامس في جناية البهيمة، للعلامة أبي محمد البغدادي، والهداية: ٤/۳٤۸)
وانظر للاستزادة: (تكملة فتح الملهم، حكم السيارة: ۲/۵۲۳).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.