واقف کا شرائط وقف میں تبدیلی کرنے کا حکم:
Question
ایک عورت نے وقف نامہ تحریر کیا اور اس میں چند شرائط درج کیے، مثلاً یہ لکھا کہ جب تک میں زندہ رہوں اس مکان میں رہوں گی، میرے مرنے کے بعد یہ مکان اللہ تعالیٰ کے لیے وقف ہوگا، اور چار افراد فائدہ اٹھائیں گے، پھر ان کے انتقال کے بعد مسجد کے لیے وقف ہوگا، اس وقف نامہ کے بعد وہ عورت اس میں کچھ تبدیلی کرنا چاہتی ہے، مثلاً چار افراد کی جگہ صرف ایک شخص کا نام لکھنا چاہتی ہے اس تبدیلی کا اختیار ہے یا نہیں؟ جب کہ وقف نامہ میں تبدیلی کی کوئی شرط موجود نہیں ہے؟
Answer
واقف نے جب ایک مرتبہ وقف نامہ لکھ کر وقف کر دیا اور اپنے لیے تبدیلی وغیرہ کا کوئی اختیار نہیں رکھا تو بعد میں وقف نامہ میں تبدیلی کی اجازت نہیں ہو گی، لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی اب تغیر و تبدل کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی الشامی میں ہے:
وفي الإسعاف: ولا يجوز له أن يفعل إلا ما شرط وقت العقد، وفيه: لو شرط في وقفه أن يزيد في وظيفة من يري زيادته أو ينقص من وظيفة من يري نقصانه أو يدخل معهم من يري إدخاله أو يخرج من يرى إخراجه جاز، ثم إذا فعل ذلك ليس له أن يغيره لأن شرطه وقع على فعل يراه، فإذا رآه وأمضاه فقد انتهي ما رآه، وفي فتاوى الشيخ قاسم: وما كان من شرط معتبر في الوقف فليس للواقف تغييره ولا تخصيصه بعد تقرره، ولا سيما بعد الحكم، فقد ثبت أن الرجوع عن الشروط لا يصح إلا التولية ما لم يشرط ذلك لنفسه فله تغيير المشروط مدة واحدة، إلا أن ينص على أنه يفعل ذلك كلما بدا له وإلا إذا كانت المصلحة اقتضته فاغتنم هذا التحرير. (فتاوى الشامي: ٤/٤۵۹، مطلب لا يجوز الرجوع عن الشراط، سعيد).
البحر الرائق میں ہے:
وفيه (منظومة ابن وهبان) أيضاً فرع مهم وقع السؤال بالقاهرة بعد سبعين أن الواقف إذا جعل لنفسه التبديل والتغيير والإدخال والإخراج والزيادة والنقصان هل يكون صحيحاً وهل تكون له ولاية الاستبدال، والشيخ الإمام الوالد سقي الله عهده صوب الرضوان، أفتي بصحة ذلك. (البحر الرائق: ۵/۲۲٤، كوئته).
مزید ملاحظہ فرمائیں: (
قانون العدل والإنصاف، ص ۸۹. وفتاوى محموديه: ۱٤/۲۳۵).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.