متولی وقف کی ذمہ داریاں:

6 min readFatwa Vol 4 #351Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۱): مطلق وقف کا بیان

Question

متولی وقف کی شرائط اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟

Answer

متولی وقف کی شرائط، ذمہ داریاں اور اوصاف درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
متولی کا عاقل، بالغ ہونا، امین و دیانت دار ہونا، خائن شخص کو متولی بنانا جائز نہیں ہے ۔
وقف سے متعلق حفاظت اور مفوضہ فرائض کو بذاتِ خود انجام دینا، یا کسی نائب کے واسطہ سے انجام دینا ۔
موقوفہ املاک کی حفاظت اور حتی المقدور مقاصد وقف کی تکمیل کی کوشش کرنا ۔
واقف کی جائز شرائط یا متولیانِ قدیم کے دستور العمل کے مطابق اوقاف کے تمام انتظامی امور کو انجام دینا ۔
جائداد وغیرہ کو اجارہ پر دینا اور ماہانہ آمدنی کو صحیح مصارف میں صرف کرنا ۔
جو اوقاف کسی مفاد یا رفاہِ عام میں مخصوص ہوں، مثلاً مسافر خانے، سرائے، مقبرہ، سقایہ، کتب خانے، انجمنیں، وغیرہ ان کے ناجائز استعمال سے روکنا اور جائز استعمال کی اجازت دینا ۔
ایسے اسباب و ذرائع اختیار کرنا جن سے اوقاف ویرانی کے خطروں سے محفوظ رہ سکے ۔
آمدنی میں حسب ضرورت خرید و فروخت کرنا ۔
آمدنی وصول کر کے اس کے مصارف پر خرچ کرنا ۔
مخصوص صورتوں کے علاوہ وقف کی جائداد کو فروخت کرنے یا کسی غیر منقولہ جائداد کے ساتھ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ۔
اراضی وقف زیادہ سے زیادہ تین سال اور رہائشی مکانات زیادہ سے زیادہ ایک سال کے لیے کرایہ پر دینا، اس سے زیادہ میں تحفظِ وقف کے خطرہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے ۔ ہاں اگر مصلحت متقاضی ہو تو اسی کو اختیار کیا جائے گا ۔
وقف کی جائداد کو رہن رکھ کر قرض حاصل کرنا جائز نہیں ہے ۔
متولی کے لیے مصالح وقف کے بغیر قرض لینا جائز نہیں ہے، اگر متولی نے بغیر مصلحتِ وقف کے ایسا کیا تو اس قرض کی ذمہ داری متولی کی ذات پر ہو گی ۔
اشیاء موقوفہ کو اجرتِ مثل میں کرایہ پر دینا متولی پر لازم ہے، اگر اس نے اجرتِ مثل میں کوئی قابل لحاظ کمی کر دی تو بھی کرایہ دار پر اجرتِ مثل ہی لازم ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

وينزع وجوباً لو الواقف (فغيره بالأولي) غير مأمون أو عاجزاً أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح، أو كان يصرف ماله في الكيمياء، نهر. وفي الشامية: قوله غير مأمون قال في الإسعاف: ولا يولي إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولاية مقيدة بشرط النظر وليس من النظر تولية الخائن لأنه يخل بالمقصود، وكذا تولية العاجز لأن المقصود لا يحصل به، ويستوي فيه الذكر والأنثى وكذا الأعمى والبصير وكذا المحدود في قذف إذا تاب لأنه أمين، وقالوا: من طلب التولية على الوقف لا يعطي له وهو كم ن طلب القضاء لا يقلد، والظاهر: أنها شرائط الأولوية لا شرائط الصحة وأن الناظر إذا فسق استحق العزل ولا ينعزل كالقاضي إذا فسق لا ينعزل على الصحيح المفتي به، ويشترط لصحته بلوغه وعقله لا حريته وإسلامه لما في الإسعاف لو أوصي إلى الصبي تبطل في القياس مطلقاً وفي الاستحسان هي باطلة ما دام صغيراً، فإذا كبر تكون الولاية له ولو كان عبداً يجوز قياساً واستحساناً لأهليته في ذاته بدليل أن تصرفه الموقوف لحق المولي ينفذ عليه بعد العتق لزوال المانع بخلاف الصبي. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۳۸۰، مطلب في شروط المتولي، سعيد).
(وكذا في قانون العدل والإنصاف، ص ۱۰۷، الفصل الاول في ولاية الوقف، بيروت).

فتاوی شامی میں ہے:

شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع. (فتاوى الشامي: ٤/۳٤۳، مطلب شرائط الواقف).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

إذا وقف داره على الفقراء فالقيم يؤاجرها ويبدأ من غلتها بعمارتها وليس للقيم أن يسكن فيها أحداً بغير أجر كذا في التاتارخانية. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۱۸).
وفي الدر المختار: يراعي شرط الواقف في إجارته فلو أهمل الواقف مدتها قيل تطلق

وقيل تقيد بسنة مطلقاً وبها أي بالسنة يفتي في الدار وبثلاث سنين في الأرض إلا إذا كانت المصلحة بخلاف ذلك وهذا مما يختلف زماناً وموضعاً، وفي فتاوى الشامية: قوله وقيل تقيد بسنة لأن المدة إذا طالت تؤدي إلى إبطال الوقف، فإن من رآه يتصرف بها تصرف الملاك على طول الزمان يظنه مالكاً إسعاف. (قوله وبثلاث سنين في الأرض) أي إذا كان لا يتمكن المستأجر من الزراعة فيها إلا في الثلاث كما قيده المصنف تبعاً للدرر حيث قال: إن الأرض إن كانت مما تزرع في كل سنتين مرة، أوفي كل ثلاث كان له أن يؤاجرها مدة يتمكن فيها من الزراعة، ومثله في الإسعاف، وكذا في الخانية لكن ذكر فيها بعد ذلك قوله وعن الإمام أبي حفص البخاري أنه كان يجيز إجارة الصباغ ثلاث سنين، فإن آجر أكثر اختلفوا فيه وأكثر مشايخ بلخ رحمه الله لا يجوز

وظاهره جواز الثلاث بلا تفصيل تأمل. وأن مختار الفقيه جواز الأكثر

واعلم أن المسألة فيها ثمانية أقوال ذكرها العلامة قنالي زاده في رسالته أحدها: قول المتقدمين عدم تقدير الإجارة بمدة ورجحه في أنفع الوسائل، والمفتي به ما ذكره المصنف خوفاً من ضياع الوقف كما علمت. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/٤۰۰، كتاب الوقف).

فتح القدیر میں ہے:

ليس على الناظر أن يفعل إلا ما يفعله أمثاله من الأمر والنهي بالمصالح

والأخذ والإعطاء. (فتح القدير: ٦/۲٤۲، دار الفكر).

عالمگیری میں ہے:

وإن كان في الأرض الموقوفة نخل وخاف القيم هلاكها كان للقيم أن يشتري من غلة الوقف فصيلاً فيغرسه كيلا ينقطع كذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۲/٤۱۳).

مزید ملاحظہ فرمائیں: (مجموعہ قوانین اسلامی مع الحاشیۃ: ۳۵۷، ۳٦۵ ۔ و قاموس الفقہ: ۵/۳۰۳ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱٤/۳٤۲، باب ولایۃ الوقف) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.