متروک التسمیہ عمداً کا حکم:

10 min readFatwa Vol 6 #41Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۱): ذبح کرنے کے احکام کا بیان

Question

مجھے معلوم ہے کہ احناف کے یہاں ذبیحہ پر لساناً تسمیہ پڑھنا لازم اور ضروری ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں اس مسئلہ میں تخفیف ہے، ان کے نزدیک ہر مومن کے دل میں بسم اللہ ہے۔ اس بات کو ملحوظِ نظر رکھتے ہوئے کسی حنفی کے لیے یہ جائز ہوگا کہ کسی شافعی کے مذبوحہ کو جو بلا تسمیہ ذبح کیا گیا ہو کھالے؟ شریعتِ مطہرہ میں اس کا کیا حکم ہے؟ اور متروک التسمیہ عمداً میں امام شافعی رحمہ اللہ کا صحیح قول کیا ہے؟

Answer

جمہور فقہاء کے ہاں تسمیہ پڑھنا لازم اور ضروری ہے، اگر عمداً ترک کر دیا تو جانور میتہ کے حکم میں ہوگا، اور اگر نسیاناً چھوٹ گیا تو جمہور کے ہاں حلال ہے البتہ امام احمد کے نزدیک تب بھی شکار حلال نہیں ہے۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تسمیہ سنت ہے واجب اور لازم نہیں ہے، البتہ اگر کوئی استخفافاً ترک کر دے تو جانور مردار کے حکم میں ہوگا، ہاں ویسے ہی اتفاقاً تسمیہ ترک کر دیا بلا استخفاف کے تو جمہور کے نزدیک حرام و امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک حلال ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص عمداً ترک کرنے کا عادی ہو تو یہ استخفاف میں شمار ہوگا اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی جانور میتہ کے حکم میں ہوگا۔
الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں مذکور ہے:

قال جمهور الفقهاء غير الشافعية: تشترط التسمية عند التذكية وعند الإرسال في العقر، فلا تحل الذبيحة، سواء أكانت أضحية أم غيرها، في حال ترك التسمية عمداً، وكانت ميتة. فلو تركها سهواً، أو كان الذابح المسلم أخرس أو مستکرہاً، تؤكل لقوله تعالي: ﴿ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه، وإنه لفسق﴾ وأضاف الحنابلة: من ترك التسمية على الصيد عامداً أو ساهياً، لم يؤکل

وقال الشافعية: تسن التسمية ولا تجب وتركها مكروه، لقوله تعالي: ﴿فكلوا مما ذكر اسم الله عليه﴾ فلو ترك التسمية عمداً، أو سهواً حل الأکل

الخ. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۳/٦۵۹، الذبائح، دار الفكر).
أحكام الذبائح
میں ہے:

ذهب جمهور الفقهاء إلى أنه يجب للذكاة الشرعية أن يذكر الذابح اسم الله تعالى عند الذبح فإن ترك التسمية عمداً فلا تحل ذبيحته عند أبي حنيفة رحمه الله ومالك رحمه الله وأحمد رحمه الله وجمهور الفقهاء، وأما إذا نسيها فالذكاة معتبرة عند الحنفية والمالكية، ولا فرق عندهم في هذا بين الذبيحة والصيد. أما عند الحنابلة، فالنسيان معفو عنه في الذكاة الاختيارية فقط. أما في الصيد، فلا تعتبر الذكاة إذا لم يذكر الصائد اسم الله عند إرسال السهم أو الكلب سواء أتركها عمداً أو نسياناً.
أما الإمام الشافعي رحمه الله فالمشهور عنه أن التسمية ليست بواجبة عنده، وإنما هي سنة، فتحل الذبيحة وإن تركها الذابح عمداً. ولكن الذي يظهر من مراجعة كتاب الأم للشافعي أنه لم يصرح بحل متروك التسمية عمداً، وإنما صرح بحل ما نسي الذابح ذكر الله عليه وعبارته ما يلي:
وإذا أرسل الرجل المسلم كلبه أو طائره المعلمين أحببت له أن يسمى، فإن لم يسم ناسياً، فقتل أكل، لانهما إذا كان قتلهما كالذكاة، فهو لو نسي التسمية في الذبيحة أكل، لأن المسلم يذبح على اسم الله عز وجل وإن نسي. (كتاب الام: ۲/۲۲۷، كتاب الصيد والذبائح).
ثم إن الإمام الشافعي رحمه الله صرح فيما بعد بأن من يترك التسمية عند الذبح استخفافاً لا يحل أكل الذبيحة، فقد ذكر في معرض ما هو مسلم عنده:
إن المسلم إن نسي اسم الله تعالى أكلت ذبيحته، وإن تركه استخفافاً لم تؤكل ذبيحته. (كتاب الام: ۲/۱۳۱، باب ذبائح أهل الكتاب).
وقد صرح بعض العلماء بأن الفقهاء أجمعوا على ذلك، فقد جاء في التفسير المظهري نقلاً عن شرح المقدمة المالكية:
وكل هذا في غير المتهاون، وأما المتهاون فلا خلاف أنها لا تؤكل ذبيحته تحريماً، قاله ابن الحارث والبشير، والمتهاون هو الذي يتكرر منه ذلك كثيراً، والله أعلم. (التفسير المظهري: ۳/۳۱۸، سورة الأنعام).
وهذه العبارات تدل على أن مذهب الإمام الشافعي رحمه الله ليس على إطلاق الحل فيما تعمد ترك التسمية عليه، وإنما تحرم الذبيحة عنده إذا ترك عليها التسمية تهاوناً واستخفافاً، وجعله الرجل عادة له. (أحكام الذبائح، ص ۱۲. ۱٤، للشيخ المفتي محمد تقي مد ظله).

حضرت مفتی شفیع صاحب بھی کتاب الام کی مذکورہ بالا عبارات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
اس عبارت سے دو باتیں معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ بھول کر تسمیہ چھوٹ گیا، تو وہ معاف ہے، دوسرے یہ کہ جان بوجھ کر بھی استخفاف کے طور پر بسم اللہ کہنا چھوڑا ہے، تو اس کا ذبیحہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی حرام ہے، اب ایک صورت زیر بحث رہ گئی کہ کسی نے بسم اللہ کہنا چھوڑا، تو قصداً ہے، مگر اتفاقی طور پر ایسا ہو گیا، بے پرواہی یا استخفاف مقصود نہیں، (اس بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ سے کوئی روایتِ منقولہ نظر سے نہیں گزری البتہ شافعی فقہاء کی عبارات ملاحظہ ہو) اس کا جواز اس عبارت (کتاب الام کی استخفاف والی عبارت جو مذکور ہوئی) سے مفہوم ہوتا ہے، یہی قول اشہب کا تفسیر قرطبی نے اس طرح نقل کیا ہے:

قال أشهب توكل ذبيحة تارك التسمية عمداً إلا أن يكون مستخفاً. (تفسير قرطبي: ۷/۷٦).

خلاصہ یہ ہے امام شافعی رحمہ اللہ یا بعض دوسرے علماء جنھوں نے قصداً ترکِ تسمیہ کے باوجود ذبیحہ کو حلال کہا ہے، وہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ یہ ترکِ تسمیہ استخفافاً اور تہاوناً نہ ہو، یعنی اس کی عادت نہ ڈال لے، بلکہ اتفاقی طور پر کبھی تسمیہ چھوڑ دیا ہے لیکن پھر بھی اس کا کھانا مکروہ ہے، اور گناہ ہے۔ امام ابو بکر ابن العربی نے احکام القرآن میں نقل کیا ہے:

إن تركها متعمداً كره أكلها ولم تحرم قاله القاضي أبو الحسن والشيخ أبو بكر من أصحابنا وهو ظاهر قول الشافعي رحمه الله. (أحكام القرآن لا بن العربي: ۱/۳۰۹).

علامہ نووی جو شافعی المذہب کے امام ہیں شرح مسلم میں فرماتے ہیں:

وعلي مذهب أصحابنا يكره تركها وقيل لا يكره والصحيح الكراهة. (صحيح مسلم: ۲/۱٤۵، كتاب الصيد والذبائح).

مذکورہ بالا تصریحات سے اس مسئلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کے مذہب کے متعلق امور ذیل ثابت ہوئے:
(۱) ذبیحہ پر بسم اللہ کا قصداً چھوڑنا ان کے نزدیک مکروہ ہے۔
(۲) جس ذبیحہ پر بسم اللہ قصداً چھوڑ دی گئی ہو، اس کا کھانا بھی ظاہری قول امام شافعی رحمہ اللہ کے مطابق مکروہ ہے۔
(۳) کراہت والا قول اس وقت ہے جب کہ استخفافاً ترک نہ کی ہو بلکہ ترک اتفاقی ہو ورنہ حرام ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف مطلقاً متروک التسمیہ عمداً حلت کو منسوب کر دینا صحیح نہیں۔
پھر چند صفحات کے بعد فرماتے ہیں:
بہت سے علمائے شافعیہ نے بھی اس مسئلے میں جمہور ہی کے قول کو ترجیح دی ہے ائمہ شافعیہ میں سے محقق حضرات نے امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول کو اختیار نہیں کیا، امام غزالی رحمہ اللہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:

لأن الآية ظاهرة في إيجابها والأخبار متواترة فيه فإنه ﷺ قال لكل من سأله عن الصيد إذا أرسلت كلبك المعلم وذكرت اسم الله فكل ونقل ذلك على التكرار وقد اشتهر الذبح بالبسملة وكل ذلك يقوي دليل الاشتراط. (إحياء العلوم: ۲/۱۰۳، مصري).

ابن کثیر رحمہ اللہ نے ایک شافعی المذہب عالم ابو الفتوح محمد علی الطائی کی کتاب اربعین سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے شافعی المذہب ہونے کے باوجود متروک التسمیہ عامداً کو حلال نہیں کہا۔ (ابن کثیر
۲
/
۱٦۹
، سورۃ الانعام)۔
(ملخص از جواہر الفقہ، جلد ششم، ص
۱۹۰
۔
۱۹۹
، رسالہ اسلامی ذبیحہ، ط: دار العلوم کراچی)۔
خلاصہ یہ کہ شافعیہ کے ہاں بھی متروک التسمیہ عمداً مکروہ ہے۔ بلکہ محققین شافعیہ کے ہاں جمہور کا قول راجح ہے لہذا احناف کو اس طرح کے ذبائح سے احتراز و اجتناب کرنا لازم اور ضروری ہے۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

ولا تحل ذبيحة تارك التسمية عمداً وإن تركها ناسياً تحل والمسلم والكتابي في ترك التسمية سواء. (الفتاوى الهندية: ۵/۲۸۸).

علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ولا تحل ذبيحة من تعمد ترك التسمية مسلماً أو كتابياً لنص القرآن ولانعقاد الإجماع ممن قبل الشافعي رحمه الله على ذلك،

ولو قضي القاضي بجوازه لا ينفذ، وقوله ﷺ: "المسلم يذبح على اسم الله سمي أو لم يسم" محمول على حالة النسيان دفعاً للتعارض بينه وبين قوله عليه الصلاة والسلام حين سأله عدي بن حاتم رضي الله عنه عما إذا وجد مع كلبه كلباً آخر "لا تأكل، إنما سميت على كلبك ولم تسم على كلب غيرك" علل الحرمة بترك التسمية. (فتاوى الشامي: ٦/۲۹۹، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.