مشینی ذبیحہ کا حکم:
Question
مشینی ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ صنعتی ترقی کے اس مشینی دور میں انسان زیادہ سے زیادہ کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی بجائے مشینوں سے کی مدد سے انجام دے رہا ہے، چنانچہ بعض ممالک میں اس مشینی ذبیحہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ بہت سارے جانور اس مشین کے نیچے کھڑے کر دیے جاتے ہیں اور ایک مرتبہ بٹن دبانے سے ان سب کی گردنیں کٹ جاتی ہیں، یہ بجلی کی مشین سارا دن چلتی رہتی ہے اور اس کے نتیجہ میں مرغیاں کٹتی رہتی ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بجلی کے مشین میں گھومنے والی چھری سے گردن کٹنے سے جانور ذبح شدہ سمجھا جائے گا یا نہیں؟ نیز بٹن دبانے والا مسلمان یا کتابی بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر بٹن دبائے تو ذبیحہ حلال ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
مشینی ذبیحہ سے متعلق اکابر رحمہ اللہ کی آراء میں اختلاف ہے: (۱) حضرت مفتی شفیع صاحب وغیرہ درجِ ذیل تفصیل کے مطابق مشینی ذبیحہ کے حلال ہونے کے قائل ہیں ۔
پہلے قول کی وضاحت و تفصیل ملاحظہ ہو:
پہلی بات تو یہ ہے کہ خواہ دستی چھری سے یا مشین کے ذریعہ سے جانور کی گردن بالکل علیحدہ کر دینا شرعی طریقہ ذبح کے خلاف ہے اور مکروہ ہے، البتہ جو جانور اس طریقہ سے ذبح کیا جائے اس کے گوشت کے حلال ہونے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر بٹن دبانے سے بیک وقت چھری سب جانوروں کی گردنوں پر آ گئی اور مسلم یا کتابی نے بسم اللہ پڑھ کر بٹن دبا دیا تو یہ ایک بسم اللہ سب کے لیے کافی ہو گئی اور مذبوحہ جانور حلال ہو گیا، اور اگر آگے پیچھے گردنیں کٹیں تو یہ بسم اللہ پہلے جانور کے لیے کافی ہو گی، باقی جانوروں کے لیے یہ بسم اللہ معتبر نہ ہو گی اور یہ جانور مردار کے حکم میں ہوں گے ۔
بعض اوقات کسی وجہ سے مرغی کی گردن بالکل نہیں کٹتی اور بعض اوقات اتنی تھوڑی سی کٹتی ہے کہ جس کی وجہ سے اس کی تمام رگیں کٹنے میں شک ہو جاتا ہے ۔ ان دونوں صورتوں میں ذبیحہ شرعی نہیں کہلائے گا بلکہ مردار کے حکم میں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
من بلغ بالسكين النخاع أو قطع الرأس كره له ذلك وتؤكل ذبيحته
أما الكراهة فلما روي عن النبي ﷺ أنه نهي أن تنخع الشاة إذا ذبحت
وإن ذبح الشاة من قفاها فبقيت حية حتى قطع العروق حل لتحقق الموت بما هو ذكاة ويكره. (الهداية: ٤/٤۳۸، كتاب الذبائح).
(وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۲۹٦، سعيد، وبدائع الصنائع: ۵/٤۲، سعيد).
الاختيار لتعليل المختار
میں ہے:
والذكاة اختيارية، وهي الذبح في الحلق واللبة؛ واضطرارية، وهي الجرح في أي موضع اتفق؛ وشرطهما التسمية، وكون الذابح مسلماً أو كتابياً، فإن ترك التسمية ناسياً حل، وإن أضجع شاة وسمي فذبح غيرها بتلك التسمية لم تؤكل، وإن ذبح بشفرة أخري أكل
ويكره أن يبلغ بالسكين النخاع، أو يقطع الرأس وتؤكل. (الاختيار لتعليل المختار: ۱۰. ۱۱، ۱۳، كتاب الذبائح، دار الكتب العلمية، بيروت).
الفتاوى الهندية
میں ہے:
ولو أضجع إحدى الشاتين على الأخرى تكفي تسمية واحدة إذا ذبحهما بإمرار واحد، ولو جمع العصافير في يده فذبح وسمي وذبح آخر على إثره ولم يسم لم يحل الثاني ولو أمر السكين على الكل جاز بتسمية واحدة كذا في خزانة المفتين. (الفتاوى الهندية: ۵/۲۸۹، وكذا في تحفة الملوك: ۲/۱۷۰۰).
اس جزئیہ کا یہ مطلب نہیں کہ سارا دن مشین چلتی رہے اور پہلی دفعہ بٹن دباتے وقت صرف ایک تسمیہ کافی ہو گی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بٹن دباتے وقت مشینی چھری پر بالفعل جو جانور موجود ہوں اور ان پر بیک وقت چھری چلی وہی حلال ہوں گے، بعد میں جو جانور آ کر اس چھری پر کٹیں، بٹن دبانے والے کا تسمیہ ان کے لیے کافی نہیں ہوگا ۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ تسمیہ کے فوراً بعد ذبح کیا جائے اگر معتدبہ فصل واقع ہو تب بھی ذبیحہ حلال نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:
ولو أضجع شاة وسمي وكلمه إنسان أو استسقي ماء فشرب أو شحذ السكين قليلاً ثم ذبح على تلك التسمية الأولي أجزأه وأما إذا طال الحديث أو أخذ في عمل آخر واشتغل به ثم ذبح بتلك التسمية الأولي لم تؤكل. (الجوهرة النيرة: ۲/۲۷۵، ط: إمدادية، ملتان).
وفي المحيط البرهاني: وليس في ذلك تقدير بل ينظر فيه إلى العادة.
إن استكثر الناس في العادة يكون كثيراً وإن كان يعد قليلاً فهو قليل. (المحيط البرهاني: ٦/٤٦۵، الفصل الرابع فيما يتعلق بالتسمية على الذبيح، مكتبه رشيدية).
مشینی ذبیحہ سے متعلق حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کے تفصیلی فتوے کا خلاصہ درجِ ذیل ہے ۔
ملاحظہ ہو فرماتے ہیں:
یورپ کے شہروں کا مروجہ طریقہ ذبح خلافِ شرع اور موجبِ گناہ ہے ۔ مسلمانوں کو جہاں تک قدرت ہو اس سے بچیں اور اپنے ملکوں میں اس کے رواج کو بند کریں اور یورپ کے علاقوں میں رہنے والے مسلمان جو اس طریقہ کے بدلنے پر قادر نہیں اور گوشت کی ضرورت بہرحال ہے ان کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ اس گوشت کا استعمال کرنا جائز ہوگا ان میں سے ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو حرام ہوگا ۔
(۱) مشین کے ذریعہ ذبح کرنے والا آدمی مسلمان، نصرانی یا یہودی ہو ۔
(۲) مشین کی چھری جانوروں کی گردن تک پہنچاتے وقت اس نے خالص اللہ کا نام
"بسم الله والله أكبر"
پڑھا ہو ۔ (پہلے مذکور ہوا کہ فقط بسم اللہ بھی کافی ہے، بلکہ شیخ الاسلام ابو الحسین علی السغدی کے نزدیک یہ احسن ہے ۔)
(۳) یہ چھری جتنے جانوروں کی گردن پر بیک وقت پڑی ہے وہ جانور ممتاز اور الگ ہوں ۔ دوسرے جانور جن پر چھری بعد میں پڑی ہے اور وہ مردہ ہیں، ان کا گوشت پہلے جانوروں کے گوشت میں مخلوط نہ ہو گیا ہو ۔
مگر ظاہر ہے کہ باہر سے جانے والے اور مختلف علاقوں کے رہنے والے مسلمانوں کو ان شرائط کے پورے ہونے کا علم ہونا آسان نہیں اس لیے اجتناب ہی بہتر ہے، واللہ سبحانہ و تعالی اعلم ۔ (ماخوذ از جدید معاملات کے شرعی احکام:
۳
/
۱۰۷
) ۔
مشینی ذبیحہ کی مزید تفصیلات کے لیے درجِ ذیل کتب ملاحظہ فرمائیں: (احکام الذبائح، و جدید فقہی مسائل، جلدِ دوم، و جدید معاملات کے شرعی احکام، جلدِ سوم، و منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱/۳٦۹ و ٤۰٤ ۔ ٤۰۷، و حلال و حرام، ص ۱۳۷ ۔ ۱٤٤) ۔
دوسرا قول:
دوسری رائے حضرت مفتی محمود صاحب شیخ الحدیث مدرسہ قاسم العلوم ملتان کی ہے، چنانچہ ان کا تفصیلی فتوی ملاحظہ فرمائیے:
فرماتے ہیں: مہربانِ من! میں سمجھتا ہوں کہ بٹن دبانے والا مسلمان بھی ہو اور بٹن دباتے وقت تسمیہ بھی پڑھے تب بھی مشین کے مروجہ ذبیحہ کو حلال نہیں کہا جا سکتا ۔ بلکہ وہ مردار ہی ہے ۔
آپ یہ دیکھیں کہ بٹن دبانے والے نے صرف اتنا ہی تو کیا کہ برقی طاقت اور مشین کا جو کنکشن (تعلق) کٹ چکا تھا اور ان دونوں کے درمیان جو مانع تھا اس کو دور کر دیا اور پھر سے کنکشن جوڑ دیا اور بس، دراصل مشین کی چھری کو چلانے والی اور جانور کا گلا کاٹنے والی برقی لہر (کرنٹ) ہے نہ کہ ایک مسلمان کے ہاتھ کی قوت محرکہ، اور یہ گلا کاٹنا برقی قوت اور مشین کا فعل ہے نہ کہ اس مسلمان کا ۔
اور ذبح اختیاری میں ذابح (ذبح کرنے والے) کا فعل (اپنے ہاتھ سے گلا کاٹنا) اور اس کی تحریک کا مؤثر ہونا شرط ہے ۔ یہاں تو بٹن دبانے والے کا فعل سوائے رفع مانع (رکاوٹ کو ہٹا دینے) کے اور کچھ نہیں ۔ رفع مانع (رکاوٹ دور کر دینے سے) فعل ذبح کی نسبت رافع (ہٹانے والے) کی طرف کس طرح ہو سکتی ہے؟ اور اس کو ذبح کرنے والا کیسے کہا جا سکتا ہے؟
اس کی مثال اس طرح سمجھیں ۔ (۱) کہ ایک مجوسی چھری ہاتھ میں لے کر کسی جانور کو ذبح کرنا چاہتا تھا کہ کسی شخص نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور ذبح کرنے سے روک دیا ۔ اب ایک مسلمان شخص بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ کر اس روکنے والے کا ہاتھ کھینچ لے اور مجوسی کا ہاتھ چھڑا دے اور وہ فوراً جانور کی گردن پر چھری پھیر دے تو کیا یہ ذبیحہ حلال ہو جائے گا؟
دیکھیے اس مثال میں رفع مانع (رکاوٹ ہٹانے) کا فعل تو ایک مسلمان نے کیا ہے اور تسمیہ پڑھ کر ذبح کیا ہے اور وہ ذبح کا اہل بھی ہے ۔ لیکن چونکہ اصل ذبح کرنے والا جس کی تحریک مؤثر ہے وہ مجوسی ہے ۔ اس لیے لازماً اصل محرک و مؤثر کو دیکھ کر ہی اس ذبیحہ کو حرام ہونے کا حکم لگایا گیا اور رافع مانع (رکاوٹ دور کرنے والے) کے فعل کا اعتبار نہیں کیا گیا ۔
(۲) اسی طرح اگر ایک تیز دھار دار الہ مثلاً چھری اوپر کسی رسی سے بندھا ہوا لٹک رہا ہے اور اس کے نیچے بالکل سیدھ میں مرغی یا بکری کا بچہ یا کوئی جانور کھڑا ہے ۔ اب اگر کوئی مسلمان تسمیہ پڑھ کر رسی کاٹ دے اور وہ آلہ اپنے طبعی ثقل سے نیچے گر کر اس جانور کا گلا کاٹ دے تو کیا یہ ذبیحہ حلال ہوگا؟ اور یہ فعل ذبح اس رافع مانع مسلمان کی طرف منسوب ہوگا اور اس کو جانور ذبح کرنے والا اور اس جانور کو مسلمان کا ذبیحہ کہا جائے گا؟
اگر ان دونوں مثالوں میں اس ذبیحہ کا حکم حلت کا نہیں ہے اور یہ ذبیحہ حلال نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے تو مشینوں کے ذبیحہ پر حلت کا حکم کیسے لگایا جا سکتا ہے اور ان دونوں میں فرق کیا ہے؟
دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ اگر اس حقیقت کو نظر انداز بھی کر دیا جائے اور ایک لمحہ کے لیے تسلیم کر لیا جائے کہ بٹن دبانا ایک مؤثر اور اختیاری عمل ہے تو بٹن دبانے کا فعل تو بٹن دباتے ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ مشین کے چلنے اور گلے کاٹنے کے وقت تو اس کا فعل موجود نہیں ہوتا ۔ مشین چلتی رہتی ہے اور گلے کٹتے رہتے ہیں تو گلے کٹنے سے پہلے ہی اپنے عمل سے فارغ ہو جاتا ہے ۔
یہ صورت حال ذبح اضطراری (مجبوری کی ذبح) میں تو شرعاً گوارا ہے کہ تیر پھینکتے ہی رامی (پھینکنے والے) کا عمل ختم ہو جاتا ہے اور اصابتِ سہم (تیر لگنے) کے وقت بظاہر اس کا فعل باقی نہیں ہوتا ۔ مگر اس صورت میں شریعت نے صرف عذر اضطراری (مجبوری کے عذر) کی وجہ سے اصابتِ سہم (تیر لگنے کی نسبت) کو رامی (پھنکنے والے) کے ساتھ قائم کر دیا ہے اور اس کو ذبح کرنے والا قرار دیا ہے ۔ دراصل اس کا عمل صرف "رمی" پھینکنا ہے ۔ اور بس حتی کہ اصابتِ سہم کے وقت اس رامی کا اہل رہنا بھی ضروری نہیں جب کہ "رمی" کے وقت وہ اہل تھا ۔ امام ابو بکر الکاسانی بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں:
ولو رمي أو أرسل وهو مسلم ثم ارتد أو كان حلالاً فأحرم قبل الإصابة وأخذ الصيد يحل ولو كان مرتداً ثم أسلم وسمي لا يحل لأن المعتبر وقت الرمي والإرسال فتراعي الأهلية عند ذلك. (بدائع الصنائع: ٤/۱۷۲، ط: إحياء التراث العربي).
اسی طرح ہدایہ میں ہے:
ولأن الكلب والبازي آلة والذبح لا يحصل بمجرد الآلة إلا بالاستعمال وذلك فيهما بالإرسال فنزل منزلة الرمي وإمرار السكين. (الهداية: ٤/۵۰۰).
ذبح اضطراری اور ذبح اختیاری کا بنیادی فرق یہی ہے کہ اختیاری ذبح میں امرارِ سکین (چھری چلانا) ہی عمل ذبح ہے ۔ اور ذبح اضطراری میں رمی (تیر پھینکنا) اور ارسال (سدھے ہوے شکاری جانور کو چھوڑنا) از روئے شرع عمل ذبح کے قائم مقام ہے ۔
دیکھیے امام شافعی رحمہ اللہ بھی ذبح اختیاری میں "فعل انسانی" کو شرط قرار دیتے ہیں ۔ کتاب الام ج ۲ ص ۱۹۸ پر فرماتے ہیں:
والذكاة وجهان وجه فيما قدر عليه الذبح والنحر وفيما لم يقدر عليه ما ناله الإنسان بسلاح بيده أو رميه بيده فهي عمل يده وما أحل الله عز وجل من الجوارح المعلمات التي تأخذ بفعل الإنسان كما يصيب السهم، فأما الحفرة فإنها ليست واحداً من ذا كان فيها سلاح أو لم يكن ولو أن رجلاً نصب سيفاً أو رمحاً ثم اضطر صيداً فأصابه فزكاه لم يحل أكله لا نها ذكاة بغير فعل أحد.
اور اس میں شک نہیں کہ برقی مشین سے جو جانوروں کے گلے کٹتے ہیں، وہ یقیناً نہ انسان کا فعل ہے نہ اس کے ہاتھ کی قوت کو اس میں کوئی دخل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ادنی سے ادنی سمجھ رکھنے والا بھی اس کو انسان کا فعل نہیں کہہ سکتا ۔ اس لیے اس کو مشینی ذبیحہ کہتے ہیں ۔
اس لیے میں مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ سے با ادب درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس فتوے پر نظر ثانی فرما کر اصلاح فرمائیں ۔ (فتاوی بینات، جلدِ چہارم، ص
۵٤۰
۔
۵٤۵
، کتاب الذبائح و الاضحیہ) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک ذبح شرعی متحقق نہیں ہوتا اور یہی صحیح قول ہے اور ہم اس فتوے سے متفق ہیں ۔ بنا بریں مشینی ذبیحہ سے مکمل احتراز کرنا لازم اور ضروری ہے ۔ نیز فتاوی مفتی محمود صاحب ملتانی رحمہ اللہ کے مقدمہ (ص
۱۱٤
) میں مرقوم ہے کہ حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے اپنے فتوے سے رجوع فرما لیا تھا ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔
مشینی ذبیحہ کی صحیح اور غیر مشکوک متبادل صورت:
اس مشین سے چھری نکال دی جائے اور اس کی جگہ پر چند مسلمان یا اہل کتاب کھڑے کیے جائیں اور جب مرغیاں ان کے سامنے سے گزریں تو ان میں سے ہر ایک باری باری ہر مرغی پر "تسمیہ" پڑھتے ہوے ان کو شرعی طریقہ پر ذبح کر دے ۔
تنبیہ: مشینی ذبیحہ میں چند اور بھی خرابیاں ہیں، مثلاً بجلی کے کرنٹ سے بے ہوشی کا طاری ہونا، صفائی وغیرہ کے لیے گرم پانی میں ڈالنا وغیرہ لیکن چونکہ "ریمبو چکن" کے مسئلہ کے تحت ان کی تفصیلات ذکر کی جاچکی ہے لہذا تطویل سے دامن بچاتے ہوے دوبارہ ذکر کرنا نامناسب سمجھا، اگر کوئی ان تفصیلات کا خواہاں ہو تو وہاں رجوع کر سکتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کے فتوے پر اشکال اور جواب:
اشکال: بعض حضرات حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کے فتوے پر یہ اشکال کرتے تھے کہ مفتی صاحب نے فرمایا کہ: مشین مباشر ہے اور انسان صرف رافعِ مانع (رکاوٹ دور کرنے والا) ہے، لہذا مشین کا ذبیحہ ہے انسان کا ذبیحہ نہیں ہے اس لیے حرام ہے، تو فقہاء نے ذبح بالنار کو تسلیم کیا ہے اور اس کے حلال ہونے کا فتوی دیا ہے جب کہ یہاں بھی انسان صرف آگ پہنچانے کا عمل کرتا ہے اور ذبح کا عمل آگ کرتی ہے جو انسان کے عمل کے درمیان حائل ہے اس کے باوجود فقہاء نے کیوں ذبیحہ کے حلال ہونے کا فتوی دیا؟
الجواب: حضرت مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کے سامنے جب یہ اشکال پیش کیا گیا تو حضرت نے مسکرا کر فرمایا کہ یہ تو عجیب بات ہے کہ کسی جانور کو کھڑا کر دیا جائے اور آگ جلا دی جائے اور جانور ذبح ہو جائے اس سے تو جانور جھلس جائے گا، اس کی رگیں ہرگز قطع نہیں ہوں گی ۔ اور فقہاء نے جو ذبح بالنار سے جانور کے حلال ہونے کا فتوی دیا ہے اس کا مطلب تو یہ ہے کسی کند لوہے کو آگ میں سرخ کیا جائے پھر وہ لوہا جانور کے گلے پر پھیر دیا جائے تو اس آگ کی تیزی سے جانور کی تمام رگیں کٹ جائیں گی اور ذبح متحقق ہو جائے گا ۔
یہ واقعہ حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ نے سنایا تھا، حضرت علامہ بنوری رحمہ اللہ نے بھی اس جواب کو بہت پسند فرمایا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.