اذان میں کانوں میں انگلیاں رکھنے کا حکم:
Question
نو مولود کے کانوں میں اذان دیتے وقت مؤذن کو کانوں میں انگلیاں داخل کرنی چاہیے یا نہیں؟
Answer
بوقتِ اذان کانوں میں انگلیاں ڈالنا ثابت ہے اور اقامت میں ثابت نہیں اس لیے اول الذکر میں انگلیاں کانوں میں رکھتے ہیں اور ثانی الذکر میں نہیں رکھتے، اسی طرح نو مولود کے کانوں میں اذان دیتے وقت بھی کانوں میں انگلیاں رکھنا ثابت نہیں اس لیے نہیں ڈالنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو تقریرات الرافعی میں ہے:
قال السندي: فيرفع المولود عند الولادة على يديه مستقبل القبلة ويؤذن في أذنه اليمني ويقيم في اليسرى. (التحرير المختار: ۱/٤۵، سعيد).
علامہ سندھی رحمہ اللہ کی عبارت سے معلوم ہوا کہ دونوں ہاتھ بچے کو اٹھانے میں مشغول ہوں گے ۔ یعنی کانوں میں رکھنا مستحب نہیں ہے ۔
حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اذان و تکبیر کے الفاظ کافی ہیں، کانوں میں انگلیاں دینے کی ضرورت نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۵/٤۵٤، جامعہ فاروقیہ) ۔
نیز یہاں رفع الصوت بھی مقصود نہیں ہے لہذا کانوں میں انگلیاں رکھنے کی ضرورت نہیں ۔ ہاں اذان کے آداب میں کانوں میں انگلیاں ڈالنا ہے اس لیے اس کی گنجائش ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.