عاشورا کی شیرینی کھانے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 6 #265Urdu
Vol. 6كتاب الحظر والإباحةباب (۲): ضیافت و مہمانی کے آداب و احکام کا بیان

Question

محرم کے مہینہ میں ہندوستان میں حضرت حسین
رضي الله عنه
کے نام پر جلوس نکالتے ہیں، اس میں عام طور پر شیعہ لوگ ہوتے ہیں، لیکن آج کل ہمارے لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں، یہ لوگ جلوس کے ساتھ ایک وافر مقدار میں کھانے کی چیزیں لے کر چلتے ہیں، یہ اشیائے خوردنی، فقیر، امیر ہر ایک کو دیتے ہیں اور تقسیم کرتے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ اس تقسیم میں ہم صرف حضرت حسین
رضي الله عنه
کے ایصالِ ثواب کی نیت کرتے ہیں، تو کیا ان اشیاء کا کھانا جائز ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

اگر یہ اشیائے خوردنی حضرت حسین رضي اللہ عنہ کے نام پر ہوں تو ان کا کھانا ناجائز ہے، اور اگر فقط ایصالِ ثواب کے لیے ہوں تو ایصالِ ثواب بذاتِ خود ایک مستحب کام ہے، ایصالِ ثواب جس کو چاہے جس وقت چاہے بلا کسی التزامِ تاریخ و مہینہ وغیرہ کے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ بہتر ہے، [ہاں عاشورا کے دن خاص کر دینا بلا دلیل ہے] اہل سنت و الجماعت کے نزدیک مرحومین کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے، اور فقراء کو کھلانے میں زیادہ ثواب ہے مالدار بھی کھا سکتے ہیں لیکن ثواب کم ملے گا اس میں ہدیہ کا پہلو ہے ۔
البتہ عبادات میں اپنی طرف سے اوقات اور کیفیات کا تعین کرنا بدعت ہے آج کل اکثر لوگ اس میں مبتلا ہیں، لہذا ان دنوں میں خصوصیت کے ساتھ شیرینی کی تقسیم وغیرہ سے احتراز و اجتناب اولی ہے ۔
مزید برآں اکثر شیعہ کے عقائد حدِ کفر تک پہنچ چکے ہیں، لہذا ان کی طرف سے ایصالِ ثواب کا کوئی اعتبار نہیں ۔ اور ان کی چیزوں کے کھانے سے بچنا چاہیے ۔ نیز اس قسم کے جلوس میں شرکت کرنا بھی ناجائز ہے ۔
ایصالِ ثواب سے متعلق بخاری شریف کی روایت ملاحظہ ہو:

عن ابن عباس رضي الله عنه أن سعد بن عبادة رضي الله عنه توفيت أمه وهو غائب عنها، فقال: يا رسول الله! إن أمي توفيت وأنا غائب عنها أينفعها شيء إن تصدقت به عنها قال: نعم، قال: فإني أشهدك أن حائطي المِخْرَافَ صدقة عليها. (بخاري شريف: ۱/۳۸٦).
قال السيوطي في شرح الصدور في باب ما ينفع الميت في قبره: عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا تصدق أحدكم بصدقة تطوعاً فليجعلها عن أبويه فيكون لهما أجرها ولا ينقص من أجره شيء. (شرح الصدور، ص ۳۰۰، بيروت).
قال في البحر: والأصل فيه أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوماً أو صدقة أو قراء ة قرآن أو ذكراً أو طوافاً أو حجاً أو عمرة أو غير ذلك عند أصحابنا بالكتاب والسنة. (البحر الرائق: ۳/۱۰۵، باب الحج عن الغير، وكذا في فتاوى الشامي: ۲/۲٤۳، سعيد، والهداية: ۱/۲۹۲).

عبادات میں اپنی طرف سے ایام اور کیفیات کا تعین مخصوص ثواب کے ساتھ بدعت ہے ۔ ملاحظہ ہو:

أخرج مسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: لا تختصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي ولا تختصوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام إلا أن يكون في صوم يصومه أحدكم. (رواه مسلم: ۱/۳٦۱/۱۱٤٤).

الاعتصام میں امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ومنها التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة. (الاعتصام: ۱/۲۹، دار الكتب العلمية).

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ اول ص
۲٤٤
۔
۲۵٤
) ۔
ایصالِ ثواب کا کھانا اغنیاء کے کھانے کا حکم:
ایصالِ ثواب کا کھانا فقراء کو کھلانے میں زیادہ ثواب ہے مالدار بھی کھا سکتے ہیں لیکن ثواب کم ملے گا اس میں ہدیہ کا پہلو ہے ۔ ملاحظہ ہو طحطاوی علی الدر میں ہے

الصدقة على الغني هبة والهبة للفقير صدقة. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۳۳٦).

فتاوی رشیدیہ میں ہے:
سوال: اپنے بزرگوں کی ارواح کو ایصالِ ثواب منظور ہے کوئی شئی اپنے یا رو احباب اغنیاء کو کھلا کر ایصالِ ثواب کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور اغنیاء ایسی شئی کے کھانے سے خطا وار تو نہیں ہوں گے ۔
جواب: غنی کو ایسا طعام صدقہ نفل کا مکروہ تنزیہی ہے اور ثواب پہنچتا ہے مگر فقیر کے کھانے سے کم ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
۲۸۰
) ۔
اور باقیاتِ فتاوی رشیدیہ میں ہے: صدقہ نفل خواہ ایصالِ ثواب میت کا ہو، خواہ ارواحِ مشائخ کرام و انبیاء علیہم السلام یا کسی وجہ کا صدقہ نفل ہو، یہ سب ایک حکم رکھتے ہیں، کہ غنی کو مکروہ تنزیہی ہیں، نہ حرام ۔
قال في الهداية: ولا تدفع إلى غني الخ.
ترجمہ: ہدایہ میں کہا ہے: صدقات غنی کو نہ دئیے جائیں ۔ مراد اس سے زکوۃ اور صدقہ واجبہ ہے ۔
قال في فتح القدير: وكذا يجوز النفل للغني
، پس ذی مقدرت اگر غنی ہے تو اس کو ۔ ثواب کا کھانا حرام نہیں، اگر چہ مکروہ تنزیہی ہے (باقیاتِ فتاوی رشیدیہ، ص
۲۰۵
) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ غنی کے لیے ایصالِ ثواب کا کھانا جائز ہے، ہاں ثواب میں کم ہے اسی کو مکروہ تنزیہی کہا ہے یعنی چونکہ میت کو ثواب پہنچانا مقصود ہے اور غنی کو کھلانے میں ثواب کم ہے لہذا یہ خلافِ اولی ہوا ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
شیعہ زندیق ہیں، لہذا ان سے کسی قسم کا تعلق جائز نہیں، ان کے گھر سے کوئی چیز کھانا غیرتِ ایمانیہ کے خلاف اور ناجائز ہے ۔ البتہ بوقتِ ضرورتِ شیدیدہ گنجائش ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
۱۲۲
) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
ان روافض سے پوری احتیاط برتی جائے، یہ سنی لوگوں کو نجس کھلانا ثواب اور ضروری سمجھتے ہیں ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۸
/
۵٤
، جامعہ فاروقیہ) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: بعض ملکوں میں یہ رواج ہوتا ہے کہ دس محرم میں مٹھائی وغیرہ کھانے کی چیزیں مسجد میں لا کر یا گھر میں تقسیم کی جاتی ہیں، یہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ کوئی شرعی چیز اور قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، اس کو شرعی چیز سمجھنا غلط ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۳
/
۲٦٤
، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.