کیڑے کے اجزا بطورِ دوا استعمال کرنے کا حکم:
Question
حشرات الارض میں سے ایک قسم کا کیڑا جس کو گھونگا (سنیل، snail) کہتے ہیں، اس کیڑے کے اجزا بطورِ دوا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
حشرات الارض (کیڑے مکوڑے) کا کھانا جائز اور درست نہیں ہے ۔ البتہ بطورِ تداوی ان کا خارجی استعمال درست ہے، لہذا ایسی کریم (cream) یا دوا (ointment) کا خارجی استعمال جس میں مذکورہ کیڑے کے اجزا شامل کیے گئے ہوں جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
وأما الذي يعيش في البر فأنواع ثلاثة ما ليس له دم أصلاً وما ليس له دم سائل وما له دم سائل مثل الجراد والزنبور والذباب والعنكبوت
ونحوها لا يحل أكله إلا الجراد خاصة لا نها من الخبائث لاستبعاد الطباع السليمة إياها وقد قال الله تبارك وتعالى: ﴿ويحرم عليهم الخبائث﴾
وكذلك ما ليس له دم سائل مثل الحية والوزغ وسام أبرص وجميع الحشرات وهوام الأرض من الفار والقراد والقنافذ والضب واليربوع وابن عرس ونحوها ولا خلاف في حرمة هذه الأشياء إلا في الضب فإنه حلال عند الشافعي. (بدائع الصنائع: ۵/۳٦، سعيد).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۲۸۹، والطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۵۵).
وفي رد المحتار: لم يذكروا حكم دودة القرمز
قلت: وفيه أنها من أعز الأموال اليوم، ويصدق عليها تعريف المال المتقوم ويحتاج إليها الناس كثيراً في الصباغ وغيره، فينبغي جواز بيعها
مع أن هذه الدودة إن لم يكن لها نفس سائلة تكون ميتتها طاهرة كالذباب والبعوض وإن لم يجز أكلها. (رد المحتار: ۵/۵۱، سعيد).
قال في الدر المختار: فلو تفتت فيه نحو ضفدع جاز الوضوء به لا شربه لحرمة لحمه. (الدر المختار: ۱/۱۸۵، سعيد).
در مختار کی عبارت سے معلوم ہوا کہ خارجی استعمال درست ہے، ہاں داخلی استعمال درست نہیں ہے ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
مکھی اور چیونٹی میں دمِ سائل نہیں ہے اس لیے پاک ہے مگر کھانا حلال نہیں، خارجی استعمال درست ہے، داخلی استعمال درست نہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٦/۲۵) ۔
بہشتی زیور میں ہے:
کیڑے مکوڑے اور خشکی کے جملہ وہ جانور جن میں دمِ سائل نہ ہو پاک ہیں، جیسے اکثر حشرات الارض خارجاً ان کا استعمال ہر طرح درست ہے اور داخلاً سب حرام ہیں سوائے ٹڈی کے ۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ص: ۷۷۸) ۔
علاج و معالجہ کے شرعی احکام میں ہے:
ایسے کیڑے مکوڑے سے دوا تیار کی جائے یا اس کو تیل میں جلا کر طلا بنایا جائے تو بنانا بھی جائز، اور اس سے تیار شدہ دوا، تیل وغیرہ کا خارجی استعمال بھی جائز اور اس قسم کے مرہم تیل کے لگے ہونے کی حالت میں نماز پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں البتہ اس کا داخلی استعمال جائز نہیں ہوگا ۔ (علاج و معالجہ کے شرعی احکام، ص ۹۵، از مفتی انعام الحق صاحب قاسمی) ۔
استعمال خارجی و داخلی کی وضاحت:
جان لینا چاہیے کہ ان چیزوں کے استعمال کے طریقے دو ہیں اور دونوں کے حکمِ شرعی علیحدہ ہیں، ایک استعمال داخلی اور ایک خارجی، استعمال داخلی صرف حلق میں اور پیٹ میں پہنچ جانے کو کہتے ہیں یعنی استعمال داخلی کھانے پینے کا نام ہے اس کے سوا جتنے طریقے استعمال کے ہیں سب خارجی ہیں حتی کہ استنشاق یعنی تر چیز ناک میں سڑکنا اور سعوط یعنی تر دوا ناک میں ٹپکانا اور نفوخ یعنی ناک میں دوا پھونکنا اور سنون یعنی منجن ملنا اور شموم یعنی کوئی دوا تر یا خشک سونگھنا اور عطوس یعنی ناس لینا اور مضغ یعنی چبانا اور مضمضہ یعنی کلی کرنا یہ سب بھی استعمال خارجی ہیں، بشرطیکہ دوا حلق میں نہ پہنچے لیکن سوائے شموم کے سب میں خطرہ ہے کہ دوا حلق میں پہنچ جائے بلکہ اغلب ہے کہ پہنچ جاتی ہے لہذا فی حد ذاتہ نہ سہی عبرۃً للاکثر، یہ سب بھی استعمال داخلی کے حکم میں ہیں، احتیاط ضرور ہے کہ جس چیز کا استعمال داخلی درست نہیں وہ ان طریقوں سے استعمال نہ کی جاویں ورنہ اگر ذرا بھی حلق میں پہنچ گئی تو حرام چیز کھانے کا گناہ ہوگا، جیسے مردار اور کوئی احتیاط کر سکے تو فتوی میں گنجائش ہے ۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ص: ۷۷۲، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.