خنزیر کے چمڑے سے بنی ہوئی پٹی کا حکم:
Question
ہمارے یہاں چیلی میں خنزیر کے چمڑے سے بنی ہوئی ایک پٹی آتی ہے جس میں دوا وغیرہ ہوتی ہے، بہت زیادہ مؤثر اور زخم کو بہت تیزی سے بھرتی ہے اس کے علاوہ بھی دیگر معالجات ہیں مگر مؤثر نہیں اور زیادہ مہنگے بھی ہیں تو کیا خنزیر کی پٹی کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
عام حالات میں حرام اور نجس اشیاء سے علاج کرنا جائز نہیں، اس لیے خنزیر کے چمڑے سے بنی ہوئی پٹی کا استعمال بھی ناجائز ہوگا، ہاں اگر مسلمان دیندار ماہر طبیب یہ تجویز کرے کہ بغیر اس کے شفا ممکن نہیں ہے اور کوئی حلال دوا اس مرض کے لیے کافی نہیں تو پھر بدرجہ مجبوری اس کے استعمال کی اجازت ہو گی ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
اختلف في التداوي بالمحرم وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر ولكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي، وقيل: يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص في الخمر للعطشان وعليه الفتوى، قال الشامي: ففي النهاية عن الذخيرة يجوز إن علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۲۱۰، سعيد).
عالمگیری میں ہے:
قال أبو حنيفة رحمه الله: ولا ينتفع من الخنزير بجلده ولا غيره إلا الشعر للاساكفة وقال أبو يوسف رحمه الله: يكره الانتفاع أيضاً بالشعر وقول أبي حنيفة رحمه الله أظهر كذا في المحيط، وإذا كان برجل جراحة يكره المعالجة بعظم الخنزير والإنسان لأنه يحرم الانتفاع به كذا في الكبري. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵٤).
جدید فقہی مسائل میں ہے:
سور، کتا، مردار، بہتے ہوے خون والے حشرات الارض کو تیل میں پکا کر روغن بنایا جائے تو یہ ناپاک رہیں گے، اور ان کا استعمال درست نہ ہوگا، یہ احکام عا م حالات میں ہیں، بالکل اضطراری اور مجبوری کی صورت مستثنی ہے، اس وقت شریعت ضرورت کے مطابق ناجائز چیزوں کے استعمال کی بھی اجازت دے دیتی ہے ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۳۳۵) ۔
الاشباہ و النظائر میں ہے:
الضرورات تبيح المحظورات. (الأشباه والنظائر: ۱/۱۱۸).
حلال اور حرام میں ہے:
دوسری ناپاک اشیاء کے مقابلے میں فقہاء نے خنزیر کے اجزاء استعمال کرنے میں زیادہ احتیاط کی راہ اختیار کی ہے، اس لیے کہ خنزیر نجس العین ہے بزازیہ میں ہے:
ويكره معالجة الجراحة بإنسان أو خنزير لانهما محرم الانتفاع
، میرا خیال ہے کہ خنزیر کے اجزاء کی ممانعت بھی اس وقت ہے جب کہ کوئی اور ذریعہ علاج موجود ہو، کیوں کہ خنزیر اپنی حرمت اور نجاست عین کی وجہ سے مطلقاً ناقابل انتفاع ہے لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہی ہیں کہ چمڑے وغیرہ کی سلائی کے لیے خنزیر کے بال کے استعمال کو جائز رکھتے ہیں، اور فقہاء امام صاحب رحمہ اللہ کی اس رائے کو دلیل و مصالح شرعی کے لحاظ سے اظہر قرار دیتے ہیں، پس صحتِ انسانی کی حفاظت اور نفس انسانی کی صیانت کے لیے بدرجۂ اولی اجزائے خنزیر کے استعمال کی اجازت دینی ہو گی ۔ (حلال و حرام، ص ۱۷۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.