لباس وغیرہ میں تشبہ بالکفار کی وضاحت اور اس کا حکم:
Question
لباس وغیرہ میں تشبہ بالکفار کی وضاحت اور اس کا حکم:
Answer
عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "من تشبه بقوم، فهو منهم. (أخرجه أبو داود، رقم ٤۰۳۱، وابن حبان في صحيحه، وابن أبي شيبة، رقم: ۱۹٤۰۱، والبيهقي في شعب الإيمان: ۱۱۹۹).
قال العراقي: أبو داود من حديث ابن عمر بسند صحيح. (۸۵۱). وقال ابن حجر: إسناده حسن. (فتح الباري: ۱۰/۲۷۱). وأورده السيوطي في الجامع الصغير (۸۵۹۳) ورمز له بالحسن، وضعفه السخاوي والزركشي وغيرهما، ولكن له شواهد.
قلت: إسناده حسن. فيه: عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، قال ابن حجر: صدوق. وقال يحيى بن معين: ليس به بأس. قال أبو حاتم: ثقة. يشوبه شيء من القدر، وهو مستقيم الحديث. قال أبو داود: كان فيه سلامة، وكان مجاب الدعوة، وليس به بأس. قال النسائي: ضعيف. قال أحمد بن حنبل: لم يكن بالقوي في الحديث. قال الهيثمي: قد وثقه غير واحد، وضعفه غيرهم.
راجع: (تهذيب الكمال للمزي: ۱۷/۱٤، وتقريب التهذيب، وتهذيب التهذيب ٦/۱۳۷، ومجمع الزوائد).
وحديث حذيفة أخرجه الطبراني في الأوسط، (۸۳۲۷)، والبزار (۲۹٦٦)، وقال الهيثمي: فيه على بن غراب وقد وثقه غير واحد وضعفه بعضهم وبقية رجاله ثقات.
وللمزيد راجع: (كشف الخفاء، رقم: ۲٤۳٦، والمقاصد الحسنة، رقم: ۱۱۰۱، ونصب الراية: ٤/۳٤۷).
ملا علی قاری رحمه الله مرقات میں فرماتے ہیں:
أي من شبه نفسه بالكفار مثلاً في اللباس وغيره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار فهو منهم أي في الإثم والخير، قال الطيبي: هذا عام في الخَلق والخُلق والشعار ولما كان الشعار أظهر في الشبه ذكر في هذا الباب، قلت: بل الشعار هو المراد بالتشبه لا غير فإن الخلق الصوري لا يتصور فيه التشبه والخلق المعنوي لا يقال فيه التشبه بل هو التخلق. (مرقاة المفاتيح: ۸/۲۵۵، إمدادية، ملتان).
علامہ مناوی فیض القدیر میں فرماتے ہیں:
"من تشبه بقوم" أي تزياً في ظاهره بزيهم وفي تعرفه بفعلهم وفي تخلقه بخلقهم وسار بسيرتهم وهديهم في ملبسهم وبعض أفعالهم
"فهو منهم" وقيل المعني من تشبه بالصالحين وهو من اتباعهم يكرم كما يكرمون ومن تشبه بالفساق يهان ويخذل كهم،
وقال ابن تيمية: هذا الحديث أقل أحواله أن يقتضي تحريم التشبه بأهل الكتاب وإن كان ظاهره يقتضي كفر المتشبه بهم
الخ. (فيض القدير: ٦/۱۰٤).
حضرت حکیم الامت فرماتے ہیں: یہ مسئلہ خود نص قرآنی میں موجود ہے وہ یہ ہے کہ حق تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
﴿ولا تركنوا إلى الذين ظلموا فتمسكم النار﴾
ترجمہ: یعنی مت مائل ہو ان لوگوں کی طرف جنہوں نے ظلم کیا کبھی تم کو بھی آگ پہنچ جائے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل باطل کی طرف میلان حرام ہے اور اس کے ساتھ ایک قاعدہ بھی ملا یا جائے کہ تشبہ بدون رکون اور میلان قلبی کے نہیں ہوتا ۔ قلب میں اولاً اس کی عظمت ہوتی ہے اور اس کے استحسان کا درجہ پیدا ہوتا ہے اور اس کی طرف میلان ہوتا ہے، پس جب رکون اور میلان حرام ہے تو تشبہ بھی حرام ہے ۔ (الاضافات:
۸
/
۳۲٦
، بحوالہ فقہ حنفی کے اصول و ضوابط، ص
۱٤۸
) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
تشبہ کی تعریف اور رفع تشبہ کی پہچان: اس کا معیار یہ ہے کہ جہاں کوئی بات کسی کی وضع ہو اور یہ معلوم ہوتا ہو کہ یہ بات کفار میں ہے اور کفار کی خصوصیت کی طرف ذہن جاتا ہو تو تشبہ ہو گا ورنہ نہیں ۔ (حسن العزیز:
۳
/
۲۱۳
، بحوالہ فقہ حنفی کے اصول و ضوابط، ص
۱۵۰
) ۔
پہچان یہ ہے کہ ان چیزوں کے دیکھنے سے عام لوگوں کے ذہن میں ایک کھٹک نہ ہو کہ یہ وضع تو فلانے کی ہے، مگر جب تک یہ خصوصیت ہے اس وقت تک منع کیا جائے گا ۔ (حیات المسلمین، ص
۲۲٤
، بحوالہ فقہ حنفی کے اصول و ضوابط، ص:
۱۵۰
) ۔
تشبہ کے اقسام اور اس کے احکام:
(۱) تشبہ بالکفار اعتقادات و عبادات میں کفر ہے اور مذہبی رسومات میں حرام ہے ۔
(۲) معاشرت اور عبادات اور قومی شعائر میں تشبہ مکروہ تحریمی ہے ۔
(٣) جو چیزیں دوسری قوموں کی نہ قومی وضع ہیں نہ مذہبی وضع ہیں گو ان کی ایجاد ہوں اور عام ضرورت کی چیزیں جیسے دیا سلائی یا گھڑی یا نئے ہتھیار یا نئی ورزشیں جن کا بدل ہماری قوم میں نہ ہو اس کا برتنا جائز ہے ۔ ایجادات و انتظامات اور اسلحہ اور سامانِ جنگ میں غیر قوموں کے طریقے لے لینا جائز ہے ۔ ہاں جس کا بدل مسلمانوں کے پاس موجود ہو تو اس میں تشبہ مکروہ تنزیہی ہے ۔
(٤) مسلمانوں میں جو فاسق یا بدعتی ہیں ان کی وضع اختیار کرنا بھی گناہ ہے ۔
(حیات المسلمین، و انفاس عیسی، بحوالہ فقہ حنفی کے اصول و ضوابط، ص
۱۵۱
) ۔
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:
"من تشبه بقوم فهو منهم"
سے مراد یہ ہے کہ کسی قوم کی ایسی چیز میں مشابہت اختیار کی جائے جو اس قوم کے ساتھ مخصوص ہو یا اس کا خاص شعار ہو تو ایسی مشابہت ناجائز ہے ۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۱٦۹
، دار الاشاعت) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
جہاں مسلمان عورتوں کے اپنے لباس میں ساڑی داخل ہو وہاں جائز ہے، اور جہاں مسلمانوں میں ساڑی مروج نہ ہو صرف غیر مسلم عورتوں کے لباس میں داخل ہو وہاں مکروہ ہے ۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۱٦۰
، دار الاشاعت) ۔
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
انگریزی بال، ہیٹ، کوٹ پتلون میں سے ہر چیز تشبہ کے لیے کافی ہے مگر تشبہ کا حکم اسی صورت میں ہوتا ہے کہ دیکھنے والا اسے دیکھ کر اس شبہ میں پڑ جائے کہ یہ شخص اس قوم کا فرد ہے، مثلاً ہیٹ لگانے والے کو کرسٹان سمجھا جائے ۔ تو جو چیزیں کہ غیر لوگوں میں بھی عام طور پر استعمال ہونے لگی ہوں مثلاً بوٹ، پتلون، کوٹ تو ان میں تشبہ کی جہت کمزور اور خفیف رہ جاتی ہے ۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۱٦٤
، دار الاشاعت) ۔
کوٹ، پتلون سے متعلق حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمه الله فرماتے ہیں:
اب اس میں اتنا تشدد نہیں، اتنا ضرور ہے کہ ان اطراف میں یہ صلحاء کا لباس نہیں، اس سے بچنا چاہیے، کراہت کا درجہ ہے ۔
تعلیق میں مرقوم ہے:
آج کل پینٹ شرٹ (کوٹ پتلون) اور انگریزی بال کا گر چہ مسلمانوں میں عام رواج ہو گیا ہے، مگر اس کے باوجود اسے انگریزی لباس ہی سمجھا جاتا ہے ۔ الغرض تشبہ بالکفار نہ بھی ہو تشبہ بالفساق میں تو کوئی شبہ نہیں، لہذا ایسے لباس سے احتراز ضروری ہے ۔ پتلون کے متعلق یہ تفصیل اس وقت ہے جب اس سے واجب الستر اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر نہ آتا ہو، اگر پتلون اتنی چست اور تنگ ہو کہ اس سے اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو، جیسا کہ آج کل ایسی پتلون کا کثرت سے رواج ہو گیا ہے، تو اس کو پہننا اور لوگوں کو دکھانا اور دیکھنا سب ناجائز ہے ۔ (فتاوی محمودیہ مع التعلیقات:
۱۹
/
۲۸۰
، جامعہ فاروقیہ) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
جس علاقہ میں یہ کفار و فساق کا شعار ہو، وہاں اس سے پرہیز کیا جائے اور جہاں شعار نہ ہو، سبھی استعمال کرتے ہوں وہاں کا یہ حکم نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۲۸۱
، جامعہ فاروقیہ) ۔
قاموس الفقہ میں ہے:
مسلمانوں کو ایسا لباس اختیار کرنا کہ غیر مسلموں سے مماثلت پیدا ہو جائے مکروہ ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوے ارشاد فرمایا کہ لوگو! راہبوں کے لباس سے بچو، جس نے رہبانیت اور تشبہ اختیار کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ جس نے کسی قوم سے تشبہ اختیار کیا وہ ان ہی میں سے ہے ۔
ظاہر ہے کہ تشبہ کے مختلف درجات ہیں، غیر مسلموں کے مذہبی شعائر میں تشبہ سخت گناہ ہو گا، یہاں تک کہ بعض فقہاء نے زنار وغیرہ باندھنے پر کفر کا حکم لگایا ہے ۔ گو محققین کے نزدیک اس کی وجہ سے تکفیر نہیں کی جائے گی، لیکن فقہاء کے اس رویہ سے اس تشبہ کا حرام اور شدت کے ساتھ ممنوع ہونا ظاہر ہے، البتہ جو لباس مذہبی افکار و تصورات سے متعلق نہ ہو، اگر اس لباس کا اتنا عموم ہو جائے کہ کسی شخص کو اس لباس میں دیکھ کر یہ خیال نہ ہوتا ہو کہ یہ شخص فلاں قوم سے تعلق رکھتا ہے، تو پھر اس میں تشبیہ خفیف ہو جاتی ہے ۔
ایسا لباس جو جغرافیائی ضرورت کے لیے استعمال کیا جاتا ہو، اور مذہبی شعائر سے متعلق نہ ہو گو کسی خاص قوم کی ایجاد ہو، ان کے استعمال میں تشبہ نہیں ہے ۔ (قاموس الفقہ:
٤
/
۵۷۵
) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳٤٤
) ۔
پس اگر کوئی غیر مسلم ملک میں ملازمت کی ضرورت یا بار بار تلاشی کی مشقت یا کسی اور خاص مصلحت کی وجہ سے کوٹ پتلون نما لباس پہن لے تو اس کی وضع قطع کو ذرا مختلف بنا دے مثلاً کوٹ یا شرٹ اتنا لمبا ہو کہ اس میں سرین چھپ جائے اور پتلون نما شلوار ٹخنوں سے اوپر ہو ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.