رنگین لینز لگانے کا حکم:
Question
آج کل یہ فیشن چلا ہے کہ لوگ اپنی آنکھوں میں زینت کے لیے رنگ بہ رنگ کے لینز لگواتے ہیں، آیا شریعت کی نگاہ میں اس کا استعمال جائز ہو گا یا نہیں؟ کیا یہ تغییر لخلق اللہ میں داخل ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
شریعت کی حدود میں رہتے ہوے زینت اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چنانچہ ایسے رنگ بہ رنگی لینز استعمال کرنا بھی جائز ہو گا، بشرطیکہ اس میں اسراف اور خوفِ فتنہ نہ ہو اور دوسرے مفاسد نہ ہوں، کیوں کہ یہ تغییر لخلق اللہ میں شامل نہیں ہے، بلکہ تزیین کے قبیل سے ہے ۔ لیکن اگر بطورِ فیشن اور دوسری اقوام کی مشابہت میں یہ عمل کیا جاتا ہو تو اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله نتھ سے متعلق فرماتے ہیں:
قوله: لم أره قلت: إن كان مما يتزين النساء به كما هو في بعض البلاد فهو فيها كثقب القرط، وقد نص الشافعية على جوازه مدني. (فتاوى الشامي: ٦/ ٤۲۰، سعيد).
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
یوں تو خواتین کو ناک کے زیور کی بھی اجازت ہے، مگر شریف عورتوں کو بازاری عورتوں کی مشابہت سے پرہیز لازم ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۸
/
۳۷۵
، طبع جدید) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
اسلام نے زیب و زینت کے معاملہ میں اعتدال اور میانہ روی کی راہ اختیار کی ہے، اس نے ایک طرف زیبائش کے لیے غیر معمولی اور بے جا تکلف سے بھی منع کیا ہے اور دوسری طرف ایک خاص حد میں اس کی اجازت بھی دی ہے، چنانچہ نتھ اور آئرنگ وغیرہ پہنانے کے لیے بچیوں کی ناک اور کان میں سوراخ کرنا درست ہے:
لا بأس بثقب أذن البنات. (خلاصة الفتاوى: ٤/ ۳۷۷
) اور ظاہر ہے جب یہ درست ہو گا تو ان کا استعمال بھی جائز ہو گا ۔
اسی طرح بالوں میں خوبصورتی کے لیے چاندی، سونے یا کسی دھات کے کانٹے پھول وغیرہ بھی لگانے کی اجازت ہے ۔ (جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳۱۳
) ۔
خلاصہ یہ ہے رنگین لینز کا استعمال بطورِ زینت جائز اور درست ہے، جب تک اس میں غیر اقوام کی مشابہت اور دیگر مفاسد نہ ہوں ۔ البتہ نیک مسلمان خاتون کو یہ بات زیب نہیں دیتی ہے کہ بازاری عورتوں کی ہر چال چلن اختیار کرے، اگر چہ حدِ جواز کے دائرہ میں ہو پھر بھی تقوی طہارت اسلام میں قابل مدح و ستائش زیور ہے جس سے آراستہ پیراستہ ہونا ہر مسلمان خاتون کا اخلاقی فریضہ ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.