معانقہ کا سنت طریقہ:

3 min readFatwa Vol 7 #178Urdu
Vol. 7باب (٦): سلام، تقبیل، مصافحہ اور معانقہ کے احکام

Question

معانقہ میں دائیں جانب کے ساتھ ملانا چاہیے یا بائیں جانب، جس طرف قلب واقع ہے، ملانا چاہیے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

معانقہ کے معنی ہیں "گردن سے گردن ملانا" عرب میں متوارث بھی یہی ہے کہ پورا جسم الگ رکھ کر صرف گردن سے گردن ملاتے ہیں اور لغت "منجد" میں گردن کے ساتھ سینہ ملانے کی بھی تصریح ہے ۔

قال ابن منظور الأفريقي: عانقه: معانقة وعناقاً: التزمه فأدني عنقه من عنقه. (لسان العرب: ۱۰/۲۷۲، ط: بيروت).
وقال في المنجد في اللغة: عانقه، معانقة وعناقاً: جعل يديه على عنقه وضمه إلى صدره. (المنجد في اللغة، ص ۵۳٤).

المعجم الوسیط میں مرقوم ہے:

عانقه، معانقة، وعناقاً: أدني عنقه من عنقه وضمه إلى صدره. (المعجم الوسيط، ص ٦۳۲).

خلاصہ یہ ہے کہ معانقہ کا طریقہ یہ ہے کہ گردن کو گردن کے ساتھ ملایا جائے اس میں کسی قدر سینہ کا حصہ بھی مل جائے، رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے خاص خاص مواقع میں معانقہ فرمانا ثابت ہے ۔ ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:

وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قدم زيد بن حارثة رضي الله عنه المدينة ورسول الله ﷺ في بيتي، فأتاه فقرع الباب، فقام إليه النبي ﷺ يجر ثوبه، فاعتنقه وقبله. (رواه الترمذي، رقم: ۲۷۳۲، وقال: حديث حسن).
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: خرج النبي ﷺ في طائفة النهار

فجلس بفناء فاطمة رضي الله تعالى عنها فقال: أثَم لكع أثَم لكع

فجاء يشتد حتى عانقه وقبله وقال: اللهم أحببه وأحب من يحبه. (رواه البخاري، رقم: ۲۱۲۲).
وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: لما قدم جعفر وأصحابه، تلقاه رسول الله ﷺ، فاعتنقه، وقبل بين عينيه. (معجم أبي يعلي الموصلي، رقم: ۱٦۳).
وعن أبي الهيثم بن التيهان رضي الله عنه أن النبي ﷺ لقيه فاعتنقه وقبله والتزمه

(معجم الصحابة لا بي نعيم: ۵/۲٤۵۰).

لیکن معانقہ کی کیفیت کے بارے میں کوئی روایت یا کوئی فقہی جزئیہ ہمیں نہیں ملا، بظاہر دائیں، بائیں دونوں جانب جائز معلوم ہوتا ہے، دائیں جانب اس لیے کہ دائیں کو فضیلت حاصل ہے، اور بائیں جانب اس لیے کہ اس طرف دل ہوتا ہے اور دل کو دوسرے اعضا پر فضیلت حاصل ہے، بلکہ بعض مشائخ قلب کو قلب کے ساتھ ملا کر دل میں ذکر اللہ کی حرارت پیدا کرتے ہیں، بہرحال نفس معانقہ میں سینہ کو ملانا مقصود ہے دائیں یا بائیں جانب کی تخصیص نہیں ہے ۔
مزید ملاحظہ ہو : (احسن الفتاوی: ۸/٤۰٦ ۔ ٤۱۳) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ معانقہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ گردن سے گردن ملائی جائے اور سینہ کا لگانا بھی بعض روایات سے ثابت ہے، لہذا یہ درست ہے اس کے علاوہ پیٹ ملانا، ایک دوسرے کو خوب کھینچنا یہ خلاف سنت طریقہ ہے اکثر و بیشتر ایذا رسانی کا ذریعہ بن جاتا ہے بنا بریں مسنون طریقہ کے مطابق معانقہ کرنا چاہیے اور خلاف شرع طریقہ سے بچنا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.