ڈاڑھی منڈے قاری کی تلاوت سننے کا حکم:
Question
ہمارے علاقہ میں بعض علماء اور دوسرے حضرات کو یہ فکر لاحق ہوا ہے کہ آج کل لوگوں کا تعلق قرآنِ کریم سے دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے اور گانے موسیقی وغیرہ سننے کا رواج بہت عام ہو چکا ہے، بنا بریں یہ حضرات مختلف جگہوں میں قراء ت کے جلسے قائم کرتے ہیں، اس سلسلہ میں درجِ ذیل امور مطلوب ہیں:
(۱) جو قاری ڈاڑھی نہیں رکھتا اس کی تلاوت سننا جائز ہے یا نہیں؟
(۲) ایسے قاری کی تلاوت کا پروگرام مسجد میں رکھنا درست ہے یا نہیں؟
Answer
بہتر یہ ہے کہ منبر پر ایسے دیندار اور متقی شخص کی تلاوت سننی چاہیے جس کے تقوی سے لوگ متاثر ہو جائیں، تاہم بے ریش قاری کی تلاوت سننے میں بھی چنداں حرج نہیں بلکہ جائز اور درست ہے نیز اس کا آ کرام کرنا اور کچھ تعریفی کلمات کہنا بھی احادیث کی روشنی میں درست ہے ۔ بہت ساری احادیث سے ثابت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے کافر کی کسی خوبی پر تعریف فرمائی ۔ چند احادیث ملاحظہ ہوں:
(١) أخرج الإمام البخاري بسنده عن محمد بن جبير عن أبيه أن النبي ﷺ قال في أساري بدر: لو كان المطعم بن عدي حياً ثم كلمني في هؤلاء النتني لتركتهم له. (صحيح البخاري: ۱/٤٤۳/۳۱۳۹، باب ما من النبي ﷺ على الأسارى).
چونکہ مطعم بن عدی نے شعبِ ابی طالب کے تین سالہ حبس کے زمانہ میں مسلمانوں کے خلاف لکھے گئے صحیفہ کو ختم کرنے کے لیے بہت کوشش کی تھی اس لیے آپ نے ان کے نیک کام کی احسان شناسی فرمائی ۔
(٢) عن نافع عن ابن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه. (رواه ابن ماجه، رقم: ۳۷۱۲)، قال في الزوائد في إسناده سعيد بن مسلمة وهو ضعيف. وأخرج الحاكم في المستدرك (٤/۳۲٤/۷۷۹۱) عن جابر بن عبد الله، وقال هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه بهذ ه السياقة، سكت عنه الذهبي في التلخيص. فالحديث حسن بكثرة طرقه.
قال في فيض القدير: إذا أتاكم كريم قوم، أي رئيسهم المطاع فيهم المعهود منهم بإكثار الإعظام وإكثار الاحترام، فأكرموه، برفع مجلسه واجتزال عطيته ونحو ذلك مما يليق به لان الله تعالى عوده منه ذلك ابتلاء منه له فمن استعمل معه غيره فقد استهان به وجفاه وأفسد عليه دينه فإن ذلك يورث في قبله الغل والحقد والبغضاء والعداوة وذاك يجر إلى سفك الدماء وفي إكرامه اتقاء شره وإبقاء دينه فإنه قد تعزز بدنياه وتكبره وتاه وعظم في نفسه فإذا حقرته فقد أهلكته من حيث الدين والدنيا وبه عرف أنه ليس المراد بكريم القوم عالمهم أو صالحهم كما وهم البعض، ألا تري أنه لم ينسبه في الحديث إلى علم ولا إلى دين؟ ومن هذا السياق انكشف أن استثناء الكافر والفاسق كما وقع لبعضهم منشؤه الغفلة
الخ. (فيض القدير: ۱/۲٤۱).
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معزز آدمی کا آ کرام کرنا چاہیے کرنا چاہیے کرنا چاہیے اس کے لیے نیک ہونا ضروری نہیں ہے ۔
(۳) حضرت عدی بن حاتم رضي الله عنه مشرف باسلام ہونے سے پہلے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے ان کا آ کرام فرمایا تھا کیونکہ وہ مشہور سخی حاتم طائی کے بیٹے تھے ۔
ملاحظہ ہو کتب سیرت و تاریخ میں مرقوم ہے:
قال عدي: فخرجت حتى أقدم على رسول الله ﷺ المدينة، فدخلت عليه وهو في مسجد ه، فسلمت عليه، فقال: من الرجل؟ فقلت: عدي بن حاتم؛ فقام رسول الله ﷺ فانطلق بي إلى بيته فو الله أنه لعامد بي إليه إذ لقيته امرأة ضعيفة كبيرة فاسترفقته فوقف لها طويلاً تكلمه في حاجتها، قال: قلت في نفسي: والله ما هذا بمَلِك قال: ثم مضي بي رسول الله ﷺ حتى إذا دخل بي بيته تناول وسادة من أدم محشوة ليفاً، فقذفها إلى فقال: اجلس على هذه قال: قلت: بل أنت فاجلس عليها، فقال: بل أنت فجلست عليها، وجلس رسول الله ﷺ بالأرض قال: قلت في نفسي: والله ما هذا بأمر ملك
الخ. (سيرة ابن هشام: ۲/۵۸۰، والروض الأنف: ٤/۳٦۰، وتاريخ الرسل والأمم: ۲/۱۸۸، دار الكتب العلمية، بيروت).
(٤) آپ ﷺ نے حضرت عدی بن حاتم رضی الله عنه کی بہن کا بہت آ کرام فرمایا، جب وہ قید ہو کر آئی تو بغیر فدیہ کے رہا کر دیا ۔ ملاحظہ ہو الروض الانف میں ہے:
وتخالفني خيل لرسول الله ﷺ فتصيب ابنة حاتم فيمن أصابت فقدم بها على رسول الله ﷺ في سبايا من طي وقد بلغ رسول الله ﷺ هربي إلى الشام، قال: فجعلت بنت حاتم في حظيرة بباب المسجد كانت السبايا يحبس فيها، فمر بها رسول الله ﷺ فقامت إليه وكانت امرأة جزلة فقالت: يا رسول الله! هلك الوالد وغاب الوافد فامنن على من الله عليك، قال: ومن وافدك؟ قالت: عدي بن حاتم، قال الفار من الله ورسوله؟ قالت: نعم
فقال ﷺ: قد فعلت
قالت: فكساني رسول الله ﷺ وحملني، وأعطاني نفقة فخرجت معهم حتى قدمت الشام
الخ. (الروض الأنف: ٤/۳٦۰، أمر عدي بن حاتم).
(وكذا في سيرة ابن هشام: ۳/۵۷۹، وعيون الأثر لابن سيد الناس: ۲/۲۸٦، وتاريخ الرسل والملوك: ۲/۱۸۷، والسيرة النبوية لابن كثير: ٤/۱۲٤، وتاريخ مدينة دمشق: ٦۹/۱۹۹، طـ: دار الفكر).
(۵) نبی کریم ﷺ نے اپنی رضاعی بہن شیما بنت الحارث کا آ کرام فرمایا، حالانکہ وہ اس وقت مسلمان نہیں تھی ۔ البدایہ و النہایہ میں ہے:
قال ابن إسحاق: وحدثني بعض سعد بن بكر أن رسول الله ﷺ قال يوم هوازن: إن قدرتم على بجاد، رجل من بني سعد بن بكر فلا يفلتنكم
فلما ظفر به المسلمون ساقوه وأهله، وساقوا معه الشيماء بنت الحارث
فقالت للمسلمين: تعلمون والله إني لا خت صاحبكم من الرضاعة؟ فلم يصدقوها حتى أتوبها رسول الله ﷺ
قالت: إني أختك من الرضاعة، قال: وما علامة ذلك؟ قالت: عضة عضضتنيها في ظهري وأنا متوركتك، قال: فعرف رسول الله ﷺ العلامة، فبسط لها رداء ه، فأجلسها عليه، وخيرها وقال: إن أحببت فعندي محببة مكرمة، فمتعها رسول الله ﷺ وردها إلى قومها
وفيه بعد سطور: فبسط لها رسول الله ﷺ رداء ه ثم قال: سلي تعطي واشفعي تشفعي. (البداية والنهاية: ٤/۷٦۳، ۷٦٤، دار المعرفة، بيروت). (وكذا في الروض الأنف: ٤/۲۲۷، شأن الشيماء وبجاد، وسيرة ابن هشام: ۲/٤۵۷، شأن بجاد والشيماء، وعيون الأثر: ۲/۲۲۱، ط: بيروت، لبنان، ومغازي الواقدي: ۳/۹۱۳، ط: بيروت، عالم الكتب، وتاريخ الرسل والملوك: ۲/۱۷۱، والحاوي الكبير للماوردي: ۱۱/۸۰٤، ط: دار الفكر، والسيرة النبوية لابن كثير: ۳/٦۸۹).
(٦) نبی پاک ﷺ نے غیر مسلم کو خط تحریر فرمایا تو اس میں تعریفی کلمات تحریر فرمائے ۔ ملاحظہ ہو :
ثم دعا بكتاب رسول الله ﷺ الذي بعث به دحية إلى عظيم بصري فدفعه إلى هرقل فقرأه فإذا فيه: بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبد الله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدي
الخ. (رواه البخاري: ۱/۵/۷).
قال العلامة العيني: فيه؛ ملاطفة المكتوب إليه وتعظيمه. (عمدة القاري: ۱/۱۵۹، ط: دار الحديث، ملتان).
اشکال اور جواب:
اشکال: بعض حضرات یہ اشکال کرتے ہیں کہ ایسے قراء کو منبر پر بٹھانا اور ان کی تعظیم کرنا گناہ ہے اور حدیث شریف
"إذا مدح الفاسق غضب الرب تعالى واهتز له العرش"
استدلال میں پیش کرتے ہیں، اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے اس سے استدلال مذکورہ بالا احادیثِ صحیحہ کے مقابلہ میں کمزور ہے ۔ حدیث کی تحقیق ملاحظہ کیجیے:
إذا مدح الفاسق غضب الرب واهتز لذلك العرش. عن أنس رضي الله عنه: أخرجه ابن أبي الدنيا في ذم الغيبة (ص ۱٤۹، رقم: ۹۱)، وأبو يعلي في معجمه (۱/۱۵٦، رقم: ۱۷۱)، والبيهقي في شعب الإيمان (٤/۲۳۰، رقم: ٤۸۸٦)، وأخرجه أيضاً ابن حبان في الضعفاء (۱/۲٦۷، ترجمة: ۲۷۳، حازم بن أبي عطاء) وقال: منكر الحديث، يأتي بأشياء لا تشبه حديث الأثبات، وابن أبي الدنيا في الصمت (۱/۱٤۳، رقم: ۲۲۸)، والديلمي (۱/۳۳٦، رقم: ۱۳۳٦)، وأورده الذهبي في الميزان (۳/۱٦۱، ترجمة ۳۰٤٤)، والحافظ في اللسان (۳/۲) كلاهما في ترجمة سابق بن عبد الله، وقالا: هذا خبر منكر. وقال الحافظ في الفتح (۱۰/٤۷۸): في سنده ضعف.
وروي عن بريدة: أخرجه ابن عدي (۵/۲۷۹، ترجمة ۱٤۱۵ عقبة بن عبد الله الأصم الرفاعي). قال المناوي (۱/٤٤۱): قال العراقي: وسنده ضعيف. (جامع الأحاديث للامام السيوطي: ٤/ ۷٤/ ۲۸۰۲).
وللاستزادة انظر: (تعليقات شعب الإيمان: ٦/۵۰۹. ۵۱۱، والمغني عن حمل الأسفار للعراقي: ۳/۱۵۹).
(۲) اگر حدیث کو حسن تسلیم کیا جائے تب بھی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فاسق فاجر کی کوئی اچھی صفت بیان کرنا گناہ ہے ۔
قال العلامة المناوي رحمه الله: وظاهر الحديث يشتمل ما لو مدحه بما فيه كسخاء وشجاعة ولعله غير مراد. (فيض القدير: ۱/٤٤۱).
لہذا جو قاری کی تعریف کرتا ہے وہ اس کی تلاوت اور حسنِ صوت پر تعریف کرتا ہے اس کے ڈاڑھی منڈوانے کی وجہ سے تعریف نہیں کی جاتی ۔ خود حدیث کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں،
إذا مدح الفاسق
، قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی حکم مشتق پر ہوتا ہے تو علتِ حکم مبدأ اشتقاق ہوتی ہے، یعنی جب کسی کام کے کرنے کی وجہ سے کوئی حکم مرتب ہوا تو اس حکم کی علت وہ کام ہوگا ۔ جیسے قرآنِ پاک میں ہے:
الزانية والزاني فاجلدوا
اور
السارق والسارقة فاقطعوا
کا مطلب یہی ہے کہ زنا کی وجہ سے کوڑے مارو اور چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹو ۔
فتاوی رشیدیہ میں مرقوم ہے:
سوال: کافر یا فاسق کی مدح اگر اس کی صفاتِ حمیدہ مثل حسن خلق و صدق، حیا وغیرہ کے کہ حدیث شریف میں وارد ہے:
الحياء شعبة من الإيمان
، درست ہے یا ممنوع و حرام بوجہ حدیث شریف
"إذا مدح الفاسق غضب الرب تعالى واهتز له العرش" ؟
جواب: بہ تخصیص یہ کہنا کہ فلان شخص میں یہ صفت اچھی ہے اگر چہ وہ کافر ہے، تو بظاہر جائز معلوم ہوتا ہے، واللہ تعالی اعلم، البتہ مدحِ مطلق کرنا گناہ ہے اس میں تعظیم فاسق کافر کی ہوتی ہے، اور ہم کو ان کی توہین کا حکم ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص۵٤۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.