"جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام" اس مقولہ کی تحقیق:
Question
ایک مقولہ مشہور ہے جس کا مفہوم یہ ہے: جس نے علم سکھایا وہ اس کا مولی ہے چاہے تو اس کو آزاد کرے، یا چاہے تو اس سے خدمت لے، یہ مقولہ کس کاہے اور کس کتاب میں ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
اس مقولہ کی نسبت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف ہے کہ آپ نے یہ فرمایا:
أنا عبد من علمني حرفاً إن شاء باع وإن شاء استرق.
قال في بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية وشريعة نبوية: ومن تعظيم العلم تعظيم المعلم قال على رضي الله تعالى عنه: أنا عبد من علمني حرفاً
ومن علمك حرفاً مما تحتاج إليه في الدين فهو أبوك في الدين. (بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية وشريعة نبوية: ٤/۳٤۵).
حضرت مولانا قاری صدیق احمد باندوی صاحب رحمه الله نے اس مقولہ کو "آداب المتعلمین" میں ص ۳۳ پر نقل کیا ہے۔
حضرت امام شعبہ رحمه الله سے بھی اس قسم کا ایک دوسرا مقولہ مروی ہے:
من كتبت عنه حديثاً فأنا له عبد.
جس سے میں نے ایک حدیث لکھی میں اس کا غلام ہوں۔
قال في سير أعلام النبلاء: وقال يحيى بن منده: كان عمي سيفاً على أهل البدع، وهو أكبر من أن يثني عليه مثلي، كان والله آمراً بالمعروف، ناهياً عن المنكر، كثير الذكر، قاهراً لنفسه، عظيم الحلم، قرأت عليه قول شعبة: من كتبت عنه حديثاً فأنا له عبد، فقال عمي: من كتب عني حديثاً فأنا له عبد. (سير أعلام النبلاء: ۱۸/۳۵۲، مؤسسة الرسالة).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.