عوام میں مذاہبِ اربعہ بیان کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #239Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

کیا عالم کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام کے سامنے کسی مسئلہ پر چاروں مذاہب کے اقوال کو بیان کرے؟ کیا اس کی وجہ سے وہ سلفیت و غیر مقلدیت پھیلانے کا سبب تو نہیں بنے گا؟ براہِ کرم حکمِ شریعت سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں۔

Answer

بصورتِ مسئولہ کسی عالم کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ عوام کے مجمع میں اختلافی مسائل اور چاروں مذاہب کے اقوال کو بیان کرے، کیوں کہ عام لوگوں میں اتنی صلاحیت و اہلیت نہیں ہے کہ وہ براہِ راست کتاب و سنت و اختلافی مسائل و اقوال کو سمجھ سکیں، یا اس کے متعارض دلائل میں تطبیق و ترجیح کا فیصلہ کر سکیں، بہت سی مرتبہ ان کی نااہلی اور کم فہمی کے نتیجہ میں شدید افراتفری اور فتنہ، فساد کا باب مفتوح ہو جاتا ہے۔
ہاں اگر واعظ یا مدرس کے مخاطبین دنیا میں پھیلے ہوے ہوں یا مجمع میں مختلف مذاہب کے لوگ ہوں تو ان کی خاطر مذاہبِ اربعہ کو بیان کر کے اس انداز میں اپنے مذہب کی ترجیح بیان کرے کہ لوگوں کو تعصب اور تنگ نظری کا شبہ نہ ہو یا اس کے مخاطبین علماء و طلبہ علومِ دینیہ ہوں جو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تب بھی مذاہبِ اربعہ کے اقوال بیان کرنے میں چنداں حرج نہیں۔ حدیث شریف میں ہے:

ما حدث أحدكم قوماً بحديث لا يفقهونه إلا كان فتنة عليهم. العقيلي في الضعفاء وابن السني وأبو نعيم في الرياء من حديث ابن عباس رضي الله عنه بإسناد ضعيف ولمسلم في مقدمة صحيحه موقوفاً على ابن مسعود رضي الله عنه. (تخريج الاحياء، رقم: ۹٦).

حافظ ابن کثیر رحمه الله اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

قوله: ﴿فذكر إن نفعت الذكري﴾ أي: ذكر حيث تنفع التذكرة، ومن ههنا يؤخذ الأدب في نشر العلم، فلا يضعه عند غير أهله، كما قال أمير المؤمنين على رضي الله عنه: ما أنت بمحدث قوماً حديثاً لا تبلغه عقولهم إلا كان فتنة لبعضهم، وقال: حدث الناس بما يعرفون، أتحبون أن يكذب الله ورسوله؟ (تفسير ابن كثير: ٤/۱۲۹).
وفي أبجد العلوم: السادسة: أن يقتصر بالمتعلم على قدر فهمه ولا يلقي إليه ما لا يبلغه عقله فينفره أو يخبط عليه عقله كما قيل كلموا الناس على قدر عقولهم. (ابجد العلوم: ۱/۱۲۹).

فتح الباری میں حافظ ابن حجر رحمه الله لکھتے ہیں:

وقال على رضي الله عنه:

وفيه دليل على أن المتشابه لا ينبغي أن يذكر عند العامة. ومثله قول ابن مسعود رضي الله عنه ما أنت محدثاً قوماً حديثاً لا تبلغه عقولهم إلا كان لبعضهم فتنة، رواه مسلم،

(فتح الباري: ۱/۲۲۵). (وكذا في فتح الملهم: ۱/۳۵٤).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.