کھانا کھلانے کے ذریعہ دین کی طرف مائل کرنے کا حکم:
Question
نبی ﷺ نے دین اسلام کی طرف لوگوں کوکس طرح مائل کیا، اس کے ذرائع و اسباب کیا تھے؟ کیا سیرتِ نبوی میں یا خلافتِ راشدہ میں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں لوگوں کو کھانا کھلا کر اسلام کی طرف مائل کیا گیا ہو یا جو مسلمان تھے ان کو کھانا کھلا کر اعمالِ اسلام کی طرف مائل کیا گیا ہو؟ کیوں کہ آج کل دینی جلسوں اور دینی پروگراموں کے اختتام پر دعوتِ طعام پابندی سے ہوتی ہے، اور اس کے لیے بڑا اہتمام کیا جاتا ہے، جب کہ دینی مقاصد مغلوب اور یہ دعوتیں غالب آ چکی ہیں۔ لہذا برائے مہربانی حکمِ شرع سے مطلع فرما کر اجرِ عظیم کے مستحق ہوں؟
Answer
نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو دین اسلام کی طرف بلانے اور متوجہ کرنے کے لیے مختلف طریقے و ذرائع استعمال فرمائے۔ جن میں سے چند حسبِ ذیل ہیں:
۱۔ دعوت الی اللہ: اللہ تعالی کی طرف دعوت دینا۔ یہ سب سے اہم طریقہ تھا جس کے ذریعہ آپ ﷺ نے لوگوں کو اسلام کی طرف متوجہ فرمایا، اس کے قصص اور واقعات لا محدود ہیں۔ تفصیل کے لیے حیاۃ الصحاۃ، جلد اول باب الدعوۃ الی اللہ، ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
۲۔ حسنِ اخلاق اور رقتِ قلب: اچھے اخلاق اور نرم دلی؛ یہ ایسی صفت تھی جس کی وجہ سے صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کے ساتھ مربوط رہے، منتشر نہیں ہوے؛ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿فبما رحمة من الله لنت لهم ولو كنت فظاً غليظ القلب لا نفضوا من حولك﴾ [ آل عمران: ۱۵۹]،
ترمذی شریف میں ہے؛
عن أنس رضي الله عنه قال: خدمت النبي ﷺ عشر سنين فما قال لي أف قط وما قال لشيء صنعته لم صنعته ولا لشيء تركته لم تركته وكان رسول الله ﷺ من أحسن الناس خلقاً
(رواه الترمذي، رقم: ۲۰۱۵).
ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کیا تو آپ ﷺ نے بڑی نرمی اور رحم دلی سے سمجھایا۔ (بخاری شریف:
٦۱۲۸
)۔ معاویہ بن حکم سلمی رضی الله عنه نے نماز میں چھینکنے والے کا جواب
يرحمك الله
سے دیا، تو آپ ﷺ نے بہترین انداز میں سمجھایا۔ وہ خود بیان کرتے ہیں:
ما رأيت معلماً قبله ولا بعده أحسن تعليماً منه فو الله ما كهرني ولا ضربني ولا شتمني. (مسلم شريف ۵۳۷)
آپ جیسا معلم میں نے نہ آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد، خدا کی قسم نہ مجھے جھڑکا، نہ مارا اور نہ ڈانٹا۔
۳۔ سخاوت: بعض حضرات نبی کریم ﷺ کی سخاوت کو دیکھ کر مسلمان ہوئے، جیسے حضرت صفوان بن امیہ
رضي الله عنه،
جب نبی ﷺ نے ان کو مویشی مع چرواہوں کے ہبہ کیے تو انہوں نے کہا:
ما طابت نفس أحد بمثل هذا إلا نفس نبي أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً عبده ورسوله وأسلم مكانه. (تاريخ مدينة دمشق: ۲٤/۱۱٤).
٤۔ اکرام و احترام: نبی ﷺ ہر ایک کا اکرام و احترام فرماتے تھے چاہے وہ غنی ہو یا فقیر، مسکین ہو یا وجاہت والا۔
وأخرج الطبراني عن ابن عباس رضي الله عنه قال: دخل عيينة بن حصن رضي الله عنه على النبي ﷺ وعنده أبو بكر رضي الله عنه وعمر رضي الله عنه وهم جلوس جميعاً على الأرض فدعا لعيينة بنمرقة فأجلسه عليها وقال: "إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه". (حياة الصحابة: ۲/٤۱۹، ط: دار الفكر).
آپ مساکین اور فقراء صحابہ رضي الله عنہم کے ساتھ خصوصی اکرام و محبت کا معاملہ فرماتے تھے اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ ملاحظہ ہو:
أحبوا الفقراء وجالسوهم وأحب العرب من قلبك ولترد عن الناس ما تعلم من قلبك. (المستدرك للحاكم، رقم: ۷۹٤۷).
۵۔ حلم و بردباری: حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ تعالی عنہ، یہودی عالم تھے، نبی کریم ﷺ کے تحمل اور بردباری کو دیکھ کر مسلمان ہو گئے تھے، حدیث کی کتابوں میں ان کا واقعہ مذکور ہے:
قال عبد الله بن سلام: إن الله تبارك وتعالى لما أراد هدي زيد بن سعنة قال زيد بن سعنة: إنه لم يبق من علامات النبوة شيء إلا وقد عرفتها في وجه محمد ﷺ حين نظرت إليه إلا اثنتين لم أخبرهما منه: يسبق حلمه جهله ولا يزيده شدة الجهل عليه إلا حلماً
إلى قوله: فأخذت بمجامع قميصه ونظرت إليه بوجه غليظ ثم قلت: ألا تقضيني يا محمد حقي؟ فوالله ما علمتكم بني عبد المطلب بمطل ولقد كان لي بمخالطتكم علم قال: ونظرت إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه وعيناه تدوران في وجهه كالفلك المستدير ثم رماني ببصره وقال: أي عدو الله أتقول لرسول الله ﷺ ما أسمع وتفعل به ما أري؟ فو الذي بعثه بالحق لولا ما أحاذر فوته لضربت بسيفي هذا عنقك ورسول الله ﷺ ينظر إلى عمر في سكون وتؤدة ثم قال: "إنا كنا أحوج إلى غير هذا منك يا عمر أن تأمرني بحسن الأداء وتأمره بحسن التباعة اذهب به يا عمر فاقضه حقه وزده عشرين صاعاً من غيره مكان ما رعته
فقال زيد: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمداً عبده ورسوله. الخ. (صحيح ابن حبان، رقم: ۲۸۸).
٦۔ عفو و درگزر:۔ اس صفت کا ظہور کامل اور مکمل طور پر فتح مکہ کے موقع پر ہوا، جب کہ آپ ﷺ نے اسلام کے سخت ترین دشمنوں کو معاف فرمایا، اور ان کو عزت بخشی۔
قال رسول الله ﷺ: "مثلي ومثلكم كما قال يوسف عليه السلام لا خوته: ﴿قال: لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو أرحم الراحمين﴾ [يوسف: ۹۲]،
راوی کہتے ہیں:
فخرجوا كأنما نشروا من القبور فدخلوا في الإسلام. (السنن الكبرى للبيهقي: ۹/۱۱۸).
اسلام اور مسلمانوں کے بڑے بڑے دشمن اس صفت کی وجہ سے اسلام کے حلقہ بگوش ہو گئے، مثلاً: ابو سفیان بن حرب رضی الله عنه، ابو سفیان بن حارث رضی الله عنه، ہند رضی الله عنه، وحشی رضی الله عنه، عکرمہ بن ابی جہل رضی الله عنه، وغیرہ۔
۷۔ عیادۃ المریض، بیمار کی عیادت: ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہو گیا، نبی ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت پیش کی، تو وہ لڑکا مسلمان ہو گیا۔
عن أنس رضي الله عنه قال: كان غلام يهودي يخدم النبي ﷺ فمرض فأتاه النبي ﷺ فقعد عند رأسه فقال له: أسلم فنظر إلى أبيه وهو عنده فقال له: أطع أبا القاسم فأسلم فخرج النبي ﷺ وهو يقول: الحمد لله الذي أنقذه من النار. (رواه البخاري، رقم: ۱۳۵٦).
۸۔ اطعام الطعام، کھانا کھلانا: کھانا کھلانا بھی قلوب کو مائل کرنے اور محبت پیدا کرنے کا ایک ذریعہ اور وسیلہ ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے محبت پیدا کرنے کے دو نسخے ارشاد فرمائے: ۱۔ سلام کرنا۔ ۲۔ کھانا کھلانا۔ اور ایک حدیث میں اس کو بہترین اسلام بتایا اور جہنم سے دوری اور دخولِ جنت کا سبب قرار دیا۔
إن رجلاً سأل رسول الله ﷺ: أي الإسلام خير قال: تطعم الطعام وتقرأ السلام على من عرفت ومن لم تعرف. (سنن النسائي، رقم: ۵۰۰۰).
وفي حديث هانئ بن يزيد أن رجلاً قال: يا رسول الله! دلني على عمل يدخلني الجنة ويباعدني من النار قال: تطعم الطعام وتفشي السلام
وفي هذه الحديث: الحض على المواساة واستجلاب قلوب الناس بإطعام الطعام وبذل السلام لأنه ليس شيء أجلب للمحبة وأثبت للمودة منهما. (شرح صحيح البخاري لابن بطال: ۱/٦۳).
آپ ﷺ اجتماعی طور پر لوگوں کو دعوت دیتے تھے۔
وأخرج البيهقي في شعب الإيمان (۵/۷۹/۵٤٦۱): عن عبد الله بن بشر قال: أهديت للنبي ﷺ شاة والطعام يومئذٍ قليل فقال لا هله: اطبخوا هذه الشاة
وكانت للنبي ﷺ قصعة يقال لها الغراء أو الغرا يحملها أربعة رجال فلما أصبح وسجد الضحى أتي بتلك القصعة والتقوا عليها فلما كثر الناس جثي رسول الله ﷺ فقال أعرابي: ما هذه الجلسة، فقال النبي ﷺ: إن الله جعلني عبداً كريماً ولم يجعلني جباراً عنيداً ثم قال رسول الله ﷺ: كلوا من جوانبها وذروا ذروتها يبارك فيها.
اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم بھی بکثرت لوگوں کو اجتماعی طور پر کھانا کھلاتے تھے۔ مسلم شریف میں ہے:
قال: (عبد الله بن رباح) وفدت وفوداً إلى معاوية رضي الله عنه وذلك في رمضان فكان يضع بعضنا لبعض الطعام وكان أبو هريرة رضي الله عنه مما يكثر أن يدعونا إلى رحله
(رواه مسلم: ۲/۱۰۲).
مزید واقعات کے لیے حیاۃ الصحابہ، جلد دوم، (ص
۱۹۹
) کا مطالعہ مفید ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ کھانا کھلا کر دین کی طرف مائل کرنا درست ہے، لیکن آج کل لوگ دین کی بات کم سنتے ہیں اور کھانے میں شرکت زیادہ کرتے ہیں، بیانات کے وقت غائب اور کھانے کے وقت حاضر ہوتے ہیں، بڑے بڑے جلسوں میں کھانا کھلانے پر لاکھوں رینڈ خرچ ہوتے ہیں، بلکہ اس نے ایک رسم کی شکل اختیار کر لی ہے، اس لیے اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور لوگوں کو دین کی طرف مائل کرنے کے لیے دوسرے طریقے اختیار کرنے چاہیے، نیز انفرادی محدود دعوتیں یا چائے پانی کی مختصر دعوت بھی تالیفِ قلوب کے لیے کافی ہے، ایسی مثالیں بھی بہت کم ہیں کہ کسی کو بڑے جلسے کی دعوتِ طعام کی وجہ سے ہدایت نصیب ہوئی ہو۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.