مسجد کے لیے کا فر کا چندہ قبول کر نا:
Question
کیا مسلمان کے لیے کا فر سے مسجد مدرسہ اور مذہبی جلسوں کے لیے چندہ قبول کرنا جائز ہے:
Answer
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
مسجد مدرسہ کی عمارت کو نقصان ہوا تو امداد لینے کی گنجائش ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۲/۱۵۷) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر ان کے نزدیک مسجد بنانا عبادت و ثواب ہے اور دوسرا کو ئی مانع بھی نہیں تو ان کا روپیہ تعمیر مسجد میں لگانا شرعاً درست ہے آیت میں عمارت سے مراد مسجد کی آبادی، تولیت اور انتظام ہے ۔ (فتاوی محمودیہ ۱/٤۸۷) ۔
عمدۃ القاری میں ہے:
ومن فوائد هذا الحديث جواز الاستعانة بأهل الصنعة فيما يشمل المسلمين نفعة (عمدة القاري: ۳/٤۷۸).
عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم مسجد یا مدرسہ یا کسی اور دینی کام کے لیے چندہ دے اور نیت حصولِ ثواب کی ہو اور عبادت سمجھے تو شرعاً قبول کرنا اور اس کو استعمال کرنا درست ہے، بشرطیکہ کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور احسان سمجھ کر نہ دیا ہو ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.