گمشدہ چیز کا مسجد میں اعلان کرنے کا حکم:
Question
گمشدہ چیز کے لیے مسجد میں اعلان کر نا کیسا ہے؟
Answer
گمشدہ چیز کا اعلان مسجد میں کرنا جائز نہیں ہے ۔
ترمذی شریف میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: إذا رأيتم من ينشد ضالة فقولوا: لا ردها الله عليك". (رواه الترمذي، رقم: ۱۳۲۱، وقال حسن غريب، وابن السني، رقم: ۱۵۳، والحاكم، رقم: ۲۳۳۹، وقال: صحيح على سرط مسلم، ووافقه الذهبي، والبيهقي، رقم: ٤۱٤۲).
الدر المختار میں ہے:
(ويكره إلى قوله وإنشاد ضالة) هي الشيء الضائع وإنشادها السؤال عنها وفي حديث إذا رأيتم من ينشد ضالة في المسجد فقولوا: لا ردها الله عليك. (الدر المختار: ۱/٦٦۰).
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے:
(ويكره إنشاد ضالة) لقوله عليه السلام فذكر الحديث المتقدم. (حاشية الطحطاوي: ۱/۲۷۸).
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
مسجد میں گمشدہ چیز کی تلاش کے لیے اعلان کرنا جائز نہیں حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے، البتہ گمشدہ بچے کا اعلان انسانی جان کی اہمیت کے پیش نظر جائز ہے اور جو چیز مسجد میں ملی ہو اس کا اعلان جائز ہے نماز جنازہ کا اعلان بھی جائز ہے اس کے علاوہ اعلانات جائز نہیں ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل ۲/۱٤٤)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ذكر الفقيه رحمه الله في التنبيه حرمة المسجد خمسة عشر فقال: الخامس ألا يطلب الضالة فيه. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۲۱).
مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہو گیا کہ گمشدہ چیز کا اعلان مکروہ ہے آپ کے مسائل اور ان کا حل میں عدم جواز کا قول ہے اور شامی اور طحطاوی کے مطابق مکروہ ہے اور دونوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ مکروہ تحریمی اور ناجائز کا ایک ہی مطلب ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.