سانپ کے زہر سے بنی ہوئی کریم استعمال کرنے کا حکم:
Question
آج کل بناؤ سنگھار اور مختلف دواؤں میں سانپ کا زہر استعمال ہوتا ہے، مثلاً: ایک کریم ملتی ہے اس میں سانپ کا زہر استعمال کرتے ہیں، یہ کریم چہرے پر لگائی جاتی ہے تاکہ بوڑھاپے کے آثار چہرے پر نمایاں نہ ہوں، تو کیا ایسی کریم کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
احناف کے نزدیک سانپ حرام جانوروں میں سے ہے اور اس کا زہر نجس ہے۔ اگر دواؤں میں اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی ہے تو بوقتِ ضرورت بغرض علاج اس کا خارجی استعمال درست ہے ورنہ نہیں، اور صورتِ مسئولہ میں بناؤ سنگھار کوئی ضرورت کی چیز نہیں ہے، اس لیے نجس چیز کا استعمال جائز اور درست نہیں۔ ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:
في الحاوي الزاهدي: يجوز بيع الحيات إذا كان ينتفع منها للأدوية وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه أي من حيوانات البحر أو غيرها. (رد المحتار: ۵/٦۸، سعيد).
وقال العلامة الرافعي: قوله يجوز بيع الحيات، هي وإن كان فيها نفع إلا أنه يحرم أكلها فليحرر حموي، سندي. (التحرير المختار: ۵/۱٤۱، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
ويجوز بيع الحيات إذا كان ينتفع بها في الأدوية وإن كان لا ينتفع بها لا يجوز والصحيح أنه يجوز بيع كل شيء ينتفع به كذا في التتارخانية. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۱٤).
وينظر للمزيد ويجوز بيع الحيات إذا كان ينتفع بها في الأدوية وإن كان لا ينتفع بها لا يجوز والصحيح أنه يجوز بيع كل شيء ينتفع به كذا في التتارخانية. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۱٤).
: (فتح القدير: ۷/۱۱۸، ط: دار الفكر).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.