سجدۂ تلاوت میں تاخیر کی وجہ سے سجدۂ سہو واجب ہونے کا حکم:
Question
ایک امام نے سجدۂ تلاوت کی آیت پڑھی اور اس وقت سجدہ نہیں کیا، چار پانچ آیات کے بعد سجدہ کیا تو سجدۂ سہو واجب ہوا یا نہیں؟ آخری رکعت میں سجدۂ تلاوت کا کیا حکم ہے؟ اگر کسی امام نے سجدۂ تلاوت کے بعد کھڑے ہو کر سوۂ فاتحہ شروع کر دی پھر لقمہ دینے پر قراءت شروع کی تو کیا سجدۂ سہو واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ فصل کبیر کی وجہ سے اصح قول یہ ہے کہ سجدۂ سہو واجب ہوگا، سجدۂ سہو کرنے سے نماز صحیح ہو جائے گی، اسی طرح جس رکن میں یاد آئے سجدہ کر لے، امام نے سجدۂ تلاوت کے بعد سورۂ فاتحہ شروع کی تو سجدۂ سہو واجب نہیں کیوں کہ تکرارِ فاتحہ ضمِ سورت کے بعد ہے ۔ دلائل ملاحظہ فرمائیں:
قال في الفتاوى الهندية: المصلي إذا تلا آية سجدة ونسي أن يسجد لها ثم ذكرها وسجدها وجب عليه سجود السهو، لأنه تارك للوصل وهو واجب وقيل: لا سهو عليه والأول أصح كذا في التتارخانية. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲۷).
وفي رد المحتار: قوله فعلى الفور، جواب شرط مقدر تقديره فإن كانت صلوية فعلى الفور، ثم تفسير الفور عدم طول المدة بين التلاوة والسجدة بقراءة أكثر من آيتين أو ثلاث. (فتاوى الشامي: ۲/۱۱۰، سعيد).
وفي الدر المختار: ولو تذكر المصلي في ركوعه أو سجوده أنه ترك سجدة صلبية أو تلاوية فانحط من ركوعه بلا رفع أو رفع من سجوده فسجدها عقب التذكر أعادهما أي الركوع والسجود ندباً لسقوطه بالنسيان وسجد للسهو. وفي الشامية: قوله لسقوطه، أي سقوط وجوب الإعادة المبني على وجوب الترتيب؛ فإن الترتيب فيما شرع مكرراً من أفعال الصلاة واجب؛ يأثم بتركه عمداً، ويسقط بالنسيان، وينجبر بسجود السهو. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/٦۱۲، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
اگر آیتِ سجدہ پڑھ کر فوراً یا د نہیں آیا بلکہ اس کے بعد تین آیت پڑھ کر یاد آیا اور سجدۂ تلاوت کر لیا تو سجدۂ سہو لازم نہیں اگر اس سے زائد پڑھ کر یاد آیا اور پھر سجدۂ تلاوت کیا تو سجدۂ سہو لازم ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۱/۵۴۳، مکتبہ محمودیہ) ۔
وقال في الجوهرة: ولو قرأ فيهما الفاتحة ثم السورة ثم الفاتحة ساهياً لم يجب عليه سهو وصار كأنه قرأ سورة طويلة. (الجوهرة النيرة: ۱/۹۲).
وفي الفتاوى الهندية: ولو قرأ الفاتحة ثم السورة ثم الفاتحة لا سهو عليه كذا في الظهيرية وهكذا في التجنيس وهو الأصح هكذا في الزاهدي. (الفتاوى الهندية: ۱/۷۱).
وفي الفتاوى الهندية: ولو قرأ الفاتحة ثم السورة ثم الفاتحة لا سهو عليه كذا في الظهيرية وهكذا في التجنيس وهو الأصح هكذا في الزاهدي. (الفتاوى الهندية: ۱/۷۱).
فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے: سوال: امام نے الحمد کے بعد ایسی سورت پڑھی جس میں آیتِ سجدہ آ گئی اور سجدۂ تلاوت کیا پھر کھڑے ہو کر الحمد پڑھی تو سجدۂ سہو واجب ہو گا یا نہیں؟
جواب: ایسی حالت میں سجدۂ سہو واجب نہیں اگر الحمد دو دفعہ مسلسل پڑھتا یعنی درمیان میں کسی اور قراءت کا فصل نہ ہو تب سجدۂ سہو واجب ہوتا ۔ فتاوی قاضی خان ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۱/۴۸۴، مکتبہ محمودیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.