مسجد کے نام کی تبدیلی اور چندہ کو ممبری کے ساتھ مشروط کرنا :
Question
چند سال پہلے عوام کی امداد اور چندے سے (۔) میں ایک مکان خریدا گیا تھا اور وہ مکان جماعت خانہ اور مدرسہ میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور تبرکاً اس کا نام مسجد امدادیہ رکھا گیا ۔ چونکہ ہمارا تعلق خانقاہ شیخ زکریا سے ہے اس لیے ہم نے اپنے آپ کو مع جماعت خانہ و مدرسہ کے مدرسہ تعلیم الدین کے تابع بنا لیا جو کہ حضرت حافظ عبد الرحمن میاں صاحب دامت برکاتہم کی نگرانی میں ہے ۔ پھر ہم نے جماعت خانہ و مدرسہ کے لیے ضوابط بنائے اور مسجد کمیٹی نمازیوں اور اہل محلہ سے بنائی گئی ۔ ہمارے اس جماعت خانہ میں اصلاحی اور تبلیغی پروگرام ہوتے رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً جماعتیں بھی آتی رہتی ہیں اور جماعت خانہ میں قیام کرتی ہیں ۔ ہمارے ہاں محلے میں مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اس لیے جماعت خانہ چھوٹا ہونے لگا ۔ اس لیے ہمارا ارادہ ہوا کہ اس جگہ ایک نئی مسجد اور مدرسہ بنائیں ۔ اس سلسلہ میں ہم نے چندہ شروع کیا بعض لوگوں کو اس سلسلہ میں اشکالات ہیں ج نہیں ہم دور کرنا چاہتے ہیں ۔
(۱) بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسجد کا نام تبدیل کیا جائے مثلاً (۔) مسلم جماعت اسی طرح اس کے ضوابط کو بھی تبدیل کیا جائے ۔ کیا پرانے ضوابط اور نام کا رکھنا بہتر ہوگا یا اس کو تبدیل کیا جائے ۔
(۲) چونکہ ہمارا تعلق خانقاہ زکریا سے ہے کیا اس وجہ سے ہماری مسجد و مدرسہ کسی اور مدرسہ و مسجد سے الگ ہیں یا دونوں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
(۳) بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم چندہ والوں سے اظہار کریں کہ ہمارا تعلق خانقاہ زکریا سے ہے وگرنہ چندہ جائز نہیں ۔ اور نہ عوام کو چندہ دینا چاہیے ۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے ۔
(٤) بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ چندہ اس شرط پر دیں گے کہ ان کو مسجد کمیٹی میں شامل کیا جائے ورنہ وہ چندہ نہیں دیں گے اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
(۵) جب ہمارے ہاں سب کو پروگرام رکھنے کی اجازت ہے اور سب کو مسجد میں آنے کی اجازت ہے تو پھر اس وجہ سے مخالفت کرنا اس پروجیکٹ کی کہ وہ ممبر کمیٹی نہیں کیا یہ جائز ہے؟
Answer
(۱) اگر مسجد کمیٹی کے سب ممبر یا اکثریت نام کی تبدیلی چاہتی ہو تو نام تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ لیکن پر انا نام مسجد تعلیم الدین اچھا نام ہے اور اس میں نیک فالی بھی ہے ۔ لہذا میرے خیال میں اس نام کو برقرار رکھنا بہتر ہے ۔
(۲) سب مساجد مسجد ہونے میں برابر ہیں ہاں اگر کسی مسجد میں ذکر و اذکار کی مجلس چلتی ہو تو اس کا نام یا اس کے نام کے ساتھ خانقاہی مسجد کا الحاق کر سکتے ہیں ۔ تاکہ خانقاہی کاموں کی نشاندہی ہو س کے لیکن ضروری نہیں ۔
(۳) چندہ لیتے وقت اتنا بتلانا ضروری ہے کہ فلاں علاقے میں مسجد بن رہی ہے ۔ لیکن اس کا تعلق فلاں خانقاہ سے ہے اس کا بتانا ضروری نہیں ۔ ہاں دیوبندی مسلک سے تعلق بتانا کا فی ہے ۔ ہاں اگر کسی نے تفصیلات پوچھ لیں تو وہ بتا دی جائیں اور ان میں غلط بیانی نہ کریں ۔
(٤) یہ تو کمیٹی والے حضرات کی رائے پر موقوف ہے اگر وہ کسی کو کمیٹی یا ممبر بنانا مصلحت کے خلاف سمجھتے ہوں تو ایسے شخص کو ممبر نہ بنائیں اور اس سے چندہ بھی نہ لیں ۔ اور اگر کسی کو مفید سمجھتے ہوں تو اس کے چندے کو قبول کر کے اس کو ممبر بنا دیں لیکن کسی صاحب کو کمیٹی ممبر بننے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے ۔ اصل کام تو دین کی خدمت ہے ممبر بنے یا نہ بنے ۔
(۵) جب اہل حق کے تمام پروگراموں کی اجازت ہے تو پھر کسی صاحب کی مخالفت درست نہیں ۔ بلکہ اللہ تعالی کی رضا کے لیے مسجد کی خدمت میں آگے بڑھنا چاہیے ۔ کمیٹی کا ممبر بنے یا نہ بنے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.