امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک سجدۂ سہو کا طریقہ:

7 min readFatwa Vol 9 #73Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

تحفۃ الالمعی میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک سجدۂ سہو کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ تمام دعا پڑھ لے پھر دائیں طرف سلام پھیر دے پھر دو سجدۂ سہو کرے پھر صرف تشہد پڑھ لے اور سلام پھیرے ۔ کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ کتبِ احناف میں اس سے متعلق کیا مرقوم ہے؟

Answer

یہ مسئلہ مذہبِ احناف میں ائمہ ثلاثہ کے درمیان مختلف فیہ ہے ؛ امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک سجدۂ سہو سے پہلے سب پڑھنا چاہیے یعنی تشہد، درود و دعا سب پڑھے پھر دائیں طرف سلام پھیر ے اور دو سجدۂ سہو کرے اور دوسرے قعدہ میں تشہد پر اکتفاء کافی ہے ۔
اور امام محمد رحمه الله کے نزدیک سجدۂ سہو سے پہلے تشہد پر اکتفاء کرے، اور درود شریف وغیرہ سجدۂ سہو کے بعد نماز کے آخر میں پڑھے ۔ امام طحاوی رحمه الله کے نزدیک سجدۂ سہو سے پہلے اور بعد دونوں میں سب پڑھنا چاہیے ۔
صاحب ہدایہ، صاحب در مختار اور امام کرخی رحمه الله وغیرہ نے امام محمد رحمه الله کے قول کو صحیح اور مختار کہا ہے، اور اکثر اکابرین رحمه الله نے اپنے فتاوی میں اسی قول کو اختیار کیا ہے اور فی زماننا اِسی پر عمل درآمد ہے البتہ مفتی رشید احمد صاحب رحمه الله نے احسن الفتاوی (٤/٤۱) میں امام طحاوی رحمه الله کے قول کو بہتر فرمایا ہے ۔
ملاحظہ ہو مفتی سعید احمد صاحب تحفۃ الالمعی میں لکھتے ہیں:
مذہبِ حنفیہ میں سجدۂ سہو کرنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ قعدۂ اخیرہ میں سب کچھ پڑھ لے: تشہد بھی درود بھی اور دعا بھی، اس کے بعد سلام پھرے، پھر دو سجدے کرے، پھر صرف تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے ۔ مگر جماعت کی نماز میں عارضی مصلحت سے یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ صرف تشہد پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے پھر سجدے کیے جائیں اور درود و دعا سہو کے قعدہ میں تشہد کے بعد پڑھے جائیں، اور ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ مسبوق جان لیں کہ یہ ایمرجنسی سلام ہے اور وہ کھڑے ہونے میں جلدی نہ کریں، مگر اب طریقہ یہ چل پڑا ہے کہ ہر نماز میں صرف تشہد پڑھ کر سلام پھر دیتے ہیں، بلکہ بعض کتابوں میں یہی مسئلہ لکھ دیا ہے ۔ حالانکہ امام اعظم رحمه الله کے قول کی صحیح صورت وہ ہے جو میں نے بیان کی، ائمہ کے اختلاف کو اور احادیث کے مطلب کو سمجھنے کے لیے مذہب کی اصل صورت سے واقف ہونا ضروری ہے ۔ (تحفۃ الالمعی: ۲/۲۱۹) ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں مرقوم ہے:

ويأتي بالصلاة على النبي ﷺ والدعاء في قعدة السهو هو الصحيح لأن الدعاء موضعه آخر الصلاة. (الهداية: ۱/۱۵۷، ط: مكتبة شركة علمية).

عنایہ شرح ہدایہ میں مرقوم ہے:

وقوله (ويأتي بالصلاة علي النبي صلي الله عليه وسلم) اختلفوا في الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والدعوات أنها في قعدة الصلاة أو في قعدة السهو، فقال الطحاوي رحمه الله: يأتي بهما فيهما، لأن كل قعدة في آخرها سلام ففيها صلاة على النبي صلي الله عليه وسلم، وقال الكرخي رحمه الله: في قعدة السهو، واختاره فخر الإسلام والمصنف وقال: وهو الصحيح؛ لأن الدعاء موضعه آخر الصلاة ومنهم من قال في المسألة اختلاف بين العلماء؛ عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله في القعدة الأولى وعند محمد في الأخيرة بناء على أصله، وهو أن سلام من عليه السهو يخرجه من الصلاة عندهما فكانت القعدة الأولى قعدة الختم، وعند محمد على خلافه وفيه نظر؛ لأن الأصل المذكور متقرر، فلو كانت هذه المسألة مبنية على ذلك لكان الصحيح مذهبهما. (العناية شرح الهداية بهامش فتح القدير: ۱/۵۰۱، دار الفكر).
وقوله (ويأتي بالصلاة على النبي ﷺ) اختلفوا في الصلاة على النبي ﷺ والدعوات أنها في قعدة الصلاة أو في قعدة السهو، فقال الطحاوي رحمه الله: يأتي بهما فيهما، لأن كل قعدة في آخرها سلام ففيها صلاة على النبي صلي الله عليه وسلم، وقال الكرخي رحمه الله: في قعدة السهو، واختاره فخر الإسلام والمصنف وقال: وهو الصحيح؛ لأن الدعاء موضعه آخر الصلاة ومنهم من قال في المسألة اختلاف بين العلماء؛ عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله في القعدة الأولى وعند محمد في الأخيرة بناء على أصله، وهو أن سلام من عليه السهو يخرجه من الصلاة عندهما فكانت القعدة الأولى قعدة الختم، وعند محمد على خلافه وفيه نظر؛ لأن الأصل المذكور متقرر، فلو كانت هذه المسألة مبنية على ذلك لكان الصحيح مذهبهما. (العناية شرح الهداية بهامش فتح القدير: ۱/۵۰۱، دار الفكر).
وفي فتح القدير: قوله هو الصحيح احتراز عما قال الطحاوي رحمه الله في القعدتين لأن كلاً منهما آخر، وقيل: قبل السجود عندهما وعند محمد بعده لأن سلام من عليه السهو يخرجه عندهما خلافاً له، وقول الطحاوي رحمه الله أحوط كذا في فتاوى قاضي خان. (فتح القدير: ۱/۵۰۱، ط: دار الفكر).
قال في البدائع: وإذا عرف أن محله المسنون بعد السلام فإذا فرغ من التشهد الثاني يسلم ثم يكبر ويعود إلى سجود السهو، ثم يرفع رأسه مكبراً، ثم يتشهد ويصلي على النبي ﷺ ويأتي بالدعوات، وهو اختيار الكرخي رحمه الله واختيار عامة مشايخنا بما وراء النهر، وذكر الطحاوي رحمه الله أنه يأتي بالدعاء قبل السلام وبعده وهو اختيار بعض مشايخنا، والأول أصح؛ لأن الدعاء إنما شرع بعد الفراغ من الأفعال والأذكار والموضوعة في الصلاة، ومن عليه السهو قد بقي عليه بعد التشهد الأول من الأفعال والأذكار وهو سجود السهو. (بدائع الصنائع: ۱/۱۷۳، ط: سعيد).
(وكذا في المحيط البرهاني: ۲/۵٤، ۵۵، ط: مكتبة رشيديه، والدر المختار: ۲/۷۹، سعيد، والنهر الفائق: ۱/۳۲۲، ط: قديمي، والفتاوى الهندية: ۱/۱۲۵).

عمدۃ الفقہ میں مذکور ہے:
درود اور دعا سجدۂ سہو کے بعد کے قعدہ میں پڑھے یہی صحیح اور مختار ہے اور بعض کے نزدیک سجدۂ سہو کرنے سے پہلے کے قعدہ میں پڑھ لے بعد کے قعدہ میں نہ پڑھے اور بعض کے نزدیک زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ سجدہ سہو سے پہلے اور بعد دونوں قعدوں میں التحیات کے ساتھ درود و دعا پڑھ لے اس لیے پہلی جگہ بھی پڑھ لینا ہی بہتر ہے لیکن نہ پڑھنے میں بھی نقصان نہیں ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۳٦۱) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی محمودیہ: ۷/٤۳٦، جامعہ فاروقیہ، و فتاوی دار العلوم دیوبند: ٤/۳۹۸، ط: دار الاشاعت، و احسن الفتاوی: ٤/٤۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.