مسبوق کا امام کے ساتھ قعدۂ اخیرہ میں درود پڑھنے کا حکم:
Question
مسبوق قعدۂ اخیرہ میں تشہد پر اکتفا کرے۔ گا اور خاموش رہے گا یا اگر درود شریف پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ عام طور پر یہ مشہور ہے کہ تشہد پر اکتفا کر کے خاموش رہے گا۔ بینوا توجروا۔
Answer
مشہور قول یہ ہے کہ مسبوق تشہد پر اکتفا کرے گا، کیوں کہ درود و دعا قعدۂ اخیرہ کے لیے ہیں اور یہ قعدہ مسبوق کے حق میں قعدۂ اخیرہ نہیں ہے، پھر مسبوق کو چاہیے کہ تشہد آہستہ آہستہ پڑھے تاکہ امام درود مع دعا سے فارغ ہو جائے، اور اگر مسبوق پہلے فارغ ہوتا ہے تو شہادتین
" أشهد أن لا إلٰه إلا الله وأشهد أن محمداً عبده ورسوله "
کو بار بار دہراتا رہے۔ یا یہ کہ خاموش بیٹھا رہے۔
لیکن اس بارے میں دوسرا قول یہ ہے کہ مسبوق امام کی اتباع میں درود و دعا پڑھ سکتا ہے۔
قال في الدر المختار: ولو فرغ المؤتم قبل إمامه سكت اتفاقاً وأما المسبوق فيترسل ليفرغ عند سلام إمامه وقيل: يتم وقد يكرر كلمة الشهادة. وقال في رد المحتار: قوله فيترسل، أي يتمهل وهذا ما صححه في الخانية وشرح المنية في بحث المسبوق من باب السهو وباقي الأقوال مصحح أيضاً قال في البحر: وينبغي الإفتاء بما في الخانية كما لا يخفى ولعل وجهه كما في النهر، أنه يقضي آخر صلاته في حق التشهد ويأتي فيه بالصلاة والدعاء وهذا ليس آخراً، قال ح: وهذا في قعدة الإمام الأخيرة كما هو مصرح قوله ليفرغ عند سلام إمامه وأما فيما قبلها من القعدات فحكمه السكوت كما لا يخفي، ومثله في الحلية [الحلبة]، قوله وقيل يكرر كلمة الشهادة كذا في شرح المنية، قوله وقيل يكرر كلمة الشهادة كذا في شرح المنية والذي في البحر والحلية [الحلبة] والذخيرة يكرر التشهد. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۵۱۱، سعيد).
قال في البحر الرائق: وأما في الصلاة والدعاء فاختلفوا على أربعة أقوال؛ اختار ابن شجاع تكرار التشهد وأبو بكر الرازي السكوت، وصحح قاضي خان في فتاواه أنه يترسل في التشهد حتى يفرغ منه عند سلام الإمام، وصحح صاحب المبسوط أنه يأتي بالصلاة والدعاء متابعة للإمام؛ لأن المصلي لا يشتغل بالدعاء في خلال الصلاة لما فيه من تأخير الأركان وهذا المعنى لا يوجد هنا، لأنه لا يمكنه أن يقوم قبل سلام الإمام وينبغي الإفتاء بما في الفتاوى كما لا يخفى. (البحر الرائق: ۱/۳۲۹، الماجدية، كوئته).
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
سوال: مسبوق جس کو امام کے ساتھ کل یا بعض رکعات شروع میں نہ ملی ہوں، امام کے ساتھ قعدۂ اخیرہ میں تشہد پڑھ کر کیا کرے خاموش رہے یا کچھ اور حکم ہے؟
جواب: اس کے بارے میں چار قول ہیں، اور چاروں مختار ہیں۔
(۱) تشہد میں ترسیل اختیار کرے، یعنی تشہد اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھے کہ امام کے سلام تک فارغ ہو، قاضی خان نے اسی کو اختیار کیا۔
(۲) تشہد سے فارغ ہو کر کلمہ شہادت: اشہد أن لا الہ الا اللہ کا تکرار کرے، یہ محمد بن شجاع کا قول ہے۔
(۳) تشہد کے بعد سکوت اختیار کرے۔ یہ قول ابو بکر رازی کا ہے۔
(٤) بعد تشہد درود و دعا میں مشغول ہو جائے مثل مدرک کے یہ قول صاحب مبسوط کا ہے۔ (فتاوی محمودیہ: ۳۰/ ٤۳۵، ضمیمہ مسائل نماز، ط: مکتبہ محمودیہ) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ مسبوق تشہد کے بعد درود و دعا بھی پڑھ سکتا ہے، یہ قول علامہ سرخسی رحمه الله کا ہے اور فقہاء میں ان کا درجہ بہت عالی ہے نیز امام کی تابعداری کا تقاضا بھی یہی ہے، پھر درود و دعا مسلمان کے لیے ایک محبوب عمل ہے اس لیے اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.