مسجد کی خالی زمین میں کنکشن ٹاور لگانے کا حکم:
Question
کیا مسجد کی وہ زمین جو خالی ہے اس میں موبائل کنکشن ٹاور لگانا جائز ہے یا نہیں؟ اس کی وجہ سے مسجد کو اچھا خاصا کرایہ ملے گا ۔ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ اس ٹاور کی وجہ سے لوگ کنکشن کو حرام کاموں میں استعمال کریں گے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
مسجد کی خالی اور فارغ زمین جو مسجد کے احاطہ میں ہے اس میں دکانیں، مارکیٹ وغیرہ مسجد کے فائدہ کے لیے لگانے کی اجازت ہے، اسی بنیاد پر کنکشن ٹاور لگانے کی بھی اجازت ہو گی، اور اس کا کرایہ لینا بھی درست ہے، اور اگر کوئی اس کنکشن کو غلط استعمال کرے تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے ۔ باقی فی نفسہٖ لگانے اور کرایہ لینے میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو فتح القدیر میں مرقوم ہے:
وأن يبني بيوتاً يستغلها إذا كانت الأرض متصلة ببيوت المصر ليست للزراعة، فإن كان زراعتها أصلح من الاستغلال لا يبني، وفي النوازل في إقراض ما فضل من مال الوقف قال: إن كان أحرز للغلة أرجو أن يكون واسعاً. (فتح القدير: ٦/۲٤۱، دار الفكر).
وقال الشيخ أحمد الزرقا: الأصل في الأحكام أن تضاف إلى عللها المؤثرة لا إلى أسبابها الموصلة، لأن تلك أقوى وأقرب، إذ المتسبب هو الذي تخلل بين فعله والأثر المترتب عليه، من تلف أو غيره، فعل فاعل مختار والمباشر هو الذي يحصل الأثر بفعله من غير أن يتخلل بينهما فعل فاعل مختار، فكان أقرب لإضافة الحكم إليه من المتسبب. (شرح القواعد الفقهية، ص ٤٤۷، ط: دار القلم دمشق).
فتاوی شامی میں مذکور ہے:
و عرف بهذا لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب الذي يتخذ منه العازف. (فتاوى الشامي: ٤/۲٦۸، سعيد).
فتاوی دار العلوم زکریا میں مرقوم ہے:
مسجد کا فارغ احاطہ جس میں لوگ نماز نہیں پڑھتے لیکن وہ جگہ مسجد کی ہے، اس جگہ میں دکانیں، مارکیٹ، پھل دار درخت، کھانے کے ہوٹل، مسجد کے کرایہ اور فائدہ کے لیے بنا سکتے ہیں ۔ (فتاوی دار العلوم زکریا: ٤/٦۷۹، ط: زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.