مساجد سے متعلق چند سوالات کے جوابات:

4 min readFatwa Vol 1 #339Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب (۸): احکامِ مساجد کا بیان

Question

(۱): قریبی مسافت میں چند اور مساجد ہیں جو ہماری مسجد سے آسانی سے ان تک پہنچا جا سکتا ہے کیا ہمارے لیے ضروری ہے کہ نماز کے لیے ایک دوسری جگہ کا انتظام کریں اور دوسرے دینی امور جیسے تبلیغ وغیرہ کے لیے ۔
(۲) مسجد کی ملکیت میں ایک گھر ہے جو پچھلے ہی دنوں خالی کرایا گیا ہے اور مسجد سے قریب بھی ہے ہم نے یہ بات سوچی ہے کہ ہم اس کو استعمال میں لا ئیں تو کیا تمام نمازیں اس میں پڑھی جا سکتی ہیں؟ اسی طرح جمعہ کا کیا ہوگا؟

Answer

(۱): جب آپ کی مسجد کے قریب ہی دوسری مساجد ہیں جن تک آسانی سے پہنچا جا سکتا ہے تو آپ پر دوسری جگہ کا انتظام کرنا ضروری نہیں ہے ۔
(۲) بقول آپ کے جو مکان مسجد کا موجود ہے اور کا فی نمازی بھی جمع ہو جاتے ہیں تو اس مکان کو نمازوں کے لیے کام میں لا یا جائے اور وہاں پنج وقتہ نماز ادا کی جائے تو مستحسن بات ہے ۔ البتہ جمعہ کے لیے مذکورہ مکان بہت چھوٹا ہے اور جمعہ شعائر اسلام میں سے ہے جس کا مقصد یہ ہے شعائر اسلام کا مظاہرہ ہو اور وہ بڑی اور عظیم الشان جماعت کے ساتھ مناسب ہے اس سلسلہ میں فتاوی رحیمیہ میں مذکور جواب ملاحظہ ہو ۔
" مذکورہ مسجد بہت ہی چھوٹی ہے اس کی آبادی کے لیے اتنا کا فی ہے کہ پنج وقتہ اذان اور جماعت سے نماز ہوتی ہو، اقامتِ جمعہ پر مسجد کی آبادی موقوف نہیں ۔ امامتِ جمعہ شعائر اسلام میں سے ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ شعائر دین کا عظیم الشان مظاہرہ ہو اور یہ بات تب ہو سکتی ہے کہ جمعہ عظیم الشان جماعت کے ساتھ ادا کیا جائے ۔ محلے محلے چھوٹی چھوٹی جماعت سے جمعہ ادا کرنے میں اقامتِ جمعہ کا مقصد فوت ہو جاتا ہے ۔ اور دوسری مسجدوں پر بھی اس کا اثر پڑے گا ۔ لہذا اس مسجد میں جمعہ قائم کرنے کی اجازت نہ ہوگی ۔" (فتاوی رحیمیہ: ۵/۸۰) ۔
ہاں اگر اس مکان میں جمعہ پڑھا گیا تو جمعہ کی نماز ادا ہو جائے گی ۔ واللہ اعلم
سوال (۳): اگر موجودہ مسجد بند کی جائے اور کوئی دوسری جگہ استعمال نہ کی جائے تو پھر امام اور مؤذن کے حق میں کمیٹی کی کیا ذمہ داریاں ہیں کیا پھر بھی ان کو پوری تنخواہ ملے گی؟
الجواب (۳): اس صورت میں شرائطِ عقد کے مطابق معاملہ ہوگا یعنی مسجد نے ان کے ساتھ جو عقد کیا ہے اسی کے مطابق ہوگا اگر ان کو رکھا جائے گا تو اس مدت کی تنخواہ دینی پڑے گی ۔ ملاحظہ ہو شرح العنایہ میں ہے ۔

"ولا فرق بين طويل المدة وقصيرها عندنا إذا كانت بحيث يعيش إليها العاقدان، لأن الحاجة التي جوّزت الإجارة قد تحسن إلى ذلك، وهي مدّة معلومة يعلم لها مقدار المنفعة فكانت صحيحة كالأجل في البيع." (شرح العناية: ۹/٦۳)

اگر مکان میں جماعت کا انتظام ہو اور امام و مؤذن کی ضرورت ہو تو ان کو تنخواہ کام کی وجہ سے دینا پڑے گی ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.