دو شخص قاری عاری اور امی ملبوس میں امامت کا حکم:
Question
صحتِ امامت کے لیے شرط یہ ہے کہ امام کا حال مقتدی کے برابر یا اس سے اعلی ہو، لیکن دریافت طلب امر یہ ہے کہ دو شخص باجماعت نماز پڑھنا چاہیں؛ ان میں سے ایک عاری الثوب وقاری ہے اور دوسرا امی و مکتسی ہے، عاری میں نماز کی شرط ستر مفقود ہے جب کہ امی میں رکن نماز قراءت مفقود ہے، تو اب امامت کا حقدار کون ہوگا، یعنی رکن اور شرط میں کس کو ترجیح ہو گی؟ بینوا توجروا۔
Answer
دونوں کو انفراداً نماز ادا کر لینا چاہیے، جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھنی چاہیے، کیوں کہ کسی کا ستر دیکھنا مکروہِ تحریمی ہے، اور نماز باجماعت سنت ہے اور ارتکابِ مکروہ سے ترکِ سنت اولی ہے۔
لیکن بالفرض اگر جماعت سے نماز پڑھنا چاہیں تو قاری عاری صف کے درمیان کھڑا ہو کر امامت کرائے اور امی ملبوس مقتدی بن جائے، یعنی رکن کو شرط پر ترجیح ہو گی، کیوں کہ رکن یعنی قراءت کا کوئی بدل نہیں جب کہ شرط یعنی ستر عورت کے لیے بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھ سکتا ہے، ہاں مومی امام کے پیچھے رکوع، سجدہ کرنے والے کی اقتدا درست نہیں ہوتی، اس لیے امام رکوع، سجدے کے ساتھ امامت کرائے۔
صاحب ہدایہ نے جواز تحریر فرمایا ہے، ملاحظہ ہو:
ومن لم يجد ثوباً صلى عرياناً قاعداً يومئ بالركوع والسجود، هكذا فعله أصحاب رسول الله ﷺ، فإن صلى قائماً أجزأه، لأن في القعود ستر العورة الغليظة، وفي القيام أداء هذه الأركان فيميل إلى أيهما شاء، إلا أن الأول أفضل. (الهداية: ۱/۹۵، ط: المصباح). وينظر: (البناية: ۲/۱۵۵، مكتبه رشيديه).
وفي مجمع الأنهر: وفي المبسوط: والعراة يصلون وحداناً متباعدين يومون إيماء وإن صلوا بجماعة يتوسطهم الإمام والأفضل أنهم يصلون فرادى، وقال بعض المشايخ: والعاري يصلي قائماً في ظلمة الليل؛ لأن ظلمتها تستر عورته. (مجمع الأنهر: ۱/۸۲).
وفي الكفاية شرح الهداية: قوله كالعراة، ذكر شيخ الإسلام رحمه الله العراة إذا كانوا جماعة يصلون وحداناً قعوداً يومئون إيماء ولا يصلون بجماعة لأنهم لا يتوصلون إلى إقامة الجماعة إلا بعد ارتكاب أمر مكروه لأن الإمام منهم يحتاج إلى أن يقوم وسطهم حين صلوا بجماعة كيلا يقع بصرهم على عورته وهذا أمر مكروه والجماعة سنة وترك ما هو سنة أولى من ارتكاب ما هو مكروه. (الكفاية شرح الهداية: ۱/۳۰٦، ط: مكتبه رشيديه).
وينظر في: (البناية في شرح الهداية: ۲/۳۹۷، ط: مكتبه رشيديه).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.