نمازِ جمعہ کے لیے سویرے پیدل جانے کی فضیلت:

3 min readFatwa Vol 9 #177Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

بعض مسائل کی کتابوں میں یہ حدیث مرقوم ہے کہ نماز جمعہ کے لئے پا پیادہ جانے میں ہر قدم پر ایک سال کے روزے رکھنے کا ثواب ملتا ہے، کیا یہ حدیث کسی معتبر حدیث کی کتاب میں ہے یا نہیں؟ اگر موجود ہے تو حوالہ کے ساتھ درجہ بھی لکھیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

یہ حدیث نسائی شریف، مسند احمد، اور شعب الایمان للبیہقی میں موجود ہے اور یہ حدیث صحیح ہے، نیز مسند احمد اور بیہقی کی روایت میں روزوں کے ثواب کے ساتھ رات کی عبادت کے ثواب کا بھی ذکر ہے۔
حدیث شریف ملاحظہ فرمائیں: سنن نسائی میں ہے:

فضل المشي إلى الجمعة: أخبرني عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير قال: نا الوليد عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر أنه سمع أبا الأشعث يحدث أنه سمع أوس بن أوس صاحب رسول الله ﷺ يقول قال رسول الله ﷺ: "من اغتسل يوم الجمعة وغسل وغدا وابتكر ومشى ولم يركب ودنا من الإمام وأنصت ولم يلغ كان له بكل خطوة عمل سنة. (سنن النسائي، رقم: ۱۷۰۳).

مسند احمد میں ہے:

قال حدثنا علي بن إسحاق قال أخبرنا علي بن المبارك قال أخبرنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال حدثني عبد الرحمن الدمشقي قال حدثني أبو الأشعث قال حدثني أوس بن أوس الثقفي قال: سمعت رسول الله ﷺ وذكر الجمعة فقال: من غسّل واغتسل وابتكر وخرج يمشي ولم يركب ثم دنا من الإمام فأنصت ولم يلغ كان له كأجر سنة صيامها وقيامها. قال: وزعم يحيى بن الحارث أنه حفظ عن أبي الأشعث أنه قال له بكل خطوة كأجر سنة صيامها وقيامها. قال يحيى ولم أسمعه يقول مشى ولم يركب.
قال الشيخ الشعيب الأرناؤوط رحمه الله تعالى: إسناده صحيح رجاله ثقات رجال الصحيح غير أن صاحبيه لم يخرج له إلا أصحاب السنن. (مسند أحمد: ۲٦/۹٤/۱٦۱۷۳، ط: الرسالة).

شعب الایمان میں ہے:

أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا الحسن بن حليم المروزي ثنا أبو الموجه ثنا عبدان أنا عبد الله أخبرنا الأوزاعي ثنا حسان بن عطية حدثني أبو الأشعث الصنعاني حدثني أوس الثقفي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: من غسّل واغتسل يوم الجمعة ثم بكر وابتكر فدنا فاستمع ولم يلغ كان له بكل خطوة يخطوها عمل سنة أجر صيامها وقيامها. (شعب الإيمان للبيهقي رقم ۲۷۲۸).

حدیث شریف میں مندرجہ ذیل چند قیودات ہیں جن کا لحاظ رکھنا چاہیے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "جو شخص جمعہ کے دن نہایا اور دھویا (
غسّل: اغتسل
کی تاکید کے لئے ہے یعنی خوب اچھی طرح نہایا) اور سویرے مسجد گیا اور خوب سویرے گیا، چل کر گیا، سوار نہ ہوا اور امام سے قریب بیٹھا اور توجہ سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اس کے ہر قدم کے بدلے جس کو وہ اُٹھاتا ہے ایک سال کے روزوں کا اور رات کی نفلوں کا ثواب ہے۔ (تحفۃ الالمعی: ۲/۳۵۹، ط: زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.