مریض کا غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #184Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

مریض قبلہ کی طرف منہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اس کے پاس ایک آدمی موجود ہے جو اس کو رو بہ قبلہ کر سکتا ہے، لیکن مریض نے اس کو حکم دیے بغیر، غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی تو اس کی نماز ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

مسئلہ بالا میں امام صاحب رحمه الله کے نزدیک مریض کی نماز ہو گئی، البتہ صاحبین رحمه الله کے نزدیک مریض کا دوسرے کو حکم کرنا ضروری تھا اور اس نے بلا کہے نماز پڑھی تو نماز نہیں ہوئی، اکثر حضرات نے صاحبین رحمه الله کے قول کو ترجیح دی ہے۔ ملاحظہ ہو در مختار مع رد المحتار میں مرقوم ہے:

وقبلة العاجز عنها لمرض وإن وجد موجهاً عند الإمام أو خوف مال وكذا كل من سقط عنه الأركان، جهة قدرته. وفي رد المحتار: قوله عند الإمام؛ لأن القادر بقدرة الغير عاجز عنده لأن العبد يكلف بقدرة نفسه
ٖ
لا بقدرة غيره خلافاً لهما فيلزمه عندهما التوجه إن وجد موجهاً وبقولهما جزم في المنية والمنح والدرر والفتح بلا حكاية خلاف. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/٤۳۲، سعيد).

فتح القدیر میں مذکور ہے:

وعلى هذا الخلاف إذا كان مريضاً لا يقدر على الاستقبال أو كان في فراشه نجاسة ولا يقدر على التحول عنه ووجد من يحوله ويوجهه لا يفترض عليه ذلك عنده

وعندهما تثبت القدرة بآلة الغير لأن آلته صارت كآلته بالإعانة وكان حسام الدين يختار قولهما. (فتح القدير: ۱/۱۲٤، دار الفكر).

عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے: اگر کوئی مریض کسی مرض کے سبب سے قبلہ کی طرف منہ نہیں کر سکتا اور اس کے پاس کوئی ایسا شخص بھی نہ ہو جو اس کا منہ قبلہ کی طرف پھیر دے یا پھیرنے والا تو موجود ہے لیکن منہ پھیرنا بیمار کو نقصان دے گا تو وہ جدھر کو چاہے نماز پڑھ لے، اور اگر بیمار کا منہ قبلہ کی طرف کرنے کے لیے کوئی شخص موجود ہے اور منہ پھیرنا اس کو نقصان بھی نہیں کرتا تو امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک وہ بھی معذور ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک ہر شخص اپنی قدرت کے ساتھ مکلف ہے نہ کہ دوسرے کی قدرت کے ساتھ، پس غیر کی قدرت کے ساتھ قادر ہونا بھی عذر و عجز ہے، لیکن صاحبین رحمه الله کے نزدیک اگر دوسرے کی مدد سے قبلہ رخ ہو سکتا ہو اور دوسرا اس کے پاس موجود ہو تو وہ معذور و عاجز نہیں ہے اور معذور کی طرح جس جہت پر قادر ہو اس طرف نماز پڑھنے سے نماز درست نہ ہو گی بلکہ قبلہ رخ ہونا ضروری ہوگا، اسی پر اعتماد کیا گیا ہے۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/٦۳)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.